تازہ ترین

انجانی گرفت

تحریر : طارق حسین بٹ شان
اس کرہِ ارض پر بیماریوں کی یلغار کوئی نئی بات نہیں۔یہ وقفے وقفے سے انسانیت پر حملہ آور ہوتی رہتی ہیں جس سے اس کے مصائب میں بے پناہ ضافہ ہو جاتا ہے۔حضرتِ انسان نے نہتا اور بے آسرا ہونے، وسائل کی عدم موجودگی اوراپنے غیر محفوظ ہونے کے باوجود بے شمار آزما مائشوں کا سامنا کیا ہے۔ اس نے بڑے بڑے طوفانوں کو جوانمردی سے سہا ہے۔اس نے اپنی فہم و فراست سے ناممکنات کو ممکنات میں تبدیل کیا ہے۔اس نیلے آسمان تلے اس نے وہ کچھ کیا ہے جو عام انسانوں کے حیطہِ ادراک سے ماورا تھا۔تاریخ کے اوراق اس کی جستجو،لگن اور کامیابیوں کی ایسی دلکش داستان ہیں کہ انسان کو انسان ہونے پر فخر محسوس ہونے لگتا ہے۔بھوک،ننگ۔قحط،زلزلوں اور منہ زور طوفانوں سے وہ جس جرات اور ہمت سے نبرد آزما ہوا وہ کسی تعارف کا محتاج نہیں۔اس کے تدبر، بے باکی اور جراتِ اظہار سے انسانی روح وجد میں آ جاتی ہے۔
انسانی خدمت کے بے لوث جذبوں سے مزین ہو کر اپنے ہم جنسوں کو بیماری اور مصیبت کے چنگل سے نجات دلوانے کیلئے خود کو موت کے منہ میں دھکیلنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا لیکن وہ ایسا کرنے سے نہیں چوکتے۔ آسمانی ہدائیت اور شارے پر خود کو دوسروں پر نچھاور کرنا انتہائی مشکل کام ہوتا ہے لیکن انسانی عظمت کے رسیا اکثرو بیشتر ایسا کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔انھیں بھی اپنی جان عزیز ہوتی ہے،انھیں بھی اپنے اہل و عیال ،اہلِ بیعت اور رشتہ داروں سے محبت ہوتی ہے لیکن انسانیت کی محبت کے سامنے ان کی ذاتی محبت سر نگوں ہو جاتی ہے اور وہ متاثرہ انسانوں کی دست گیری اور مدد کے لئے میدانِ عمل میں کود پرتے ہیںحالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ ایسا کرنے میں ان کی اپنی جان کے ضیاع کے امکانات پوشیدہ ہیں۔
ایسا باجرات اظہاریہ صرف کسی خاص شعبہ سے متعلق افراد تک محدود نہیں ہوتا بلکہ وہ معاشرے کی بقا کی خاطر میدانِ عمل میں نکل کر آسمانی آفت کو ہزیمت سے ہمکنار کرتے ہیں۔ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے وہ پوری انسانیت کیلئے مینارہِ نور بن جاتے ہیں۔دنیا ان کی انسان دوستی کے گیت گاتی اور انھیں اپنا ہیرو قرار دیتی ہے۔ایسے جانباز انسان آنے والی نسلوں کیلئے رول ماڈل بن جاتے ہیں۔ابھی تو کل کی بات ہے کہ پاکستان کے ایک نامور خدمتگار عبدالستار ایدھی کے تابوت کو پاک فوج اور ریاست کے آئینی حکمرانوں نے سلامی پیش کر کے ان کی خدمات کا برملا اعتراف کیا تھاجو اس بات کی گواہی تھی کہ انسانیت کے خادم عزت و توقیر کے مستحق ہوتے ہیں۔،۔
اس کرہِ ارض پر طاعون،ہیضہ،چیچک،کینسر،تپ دق،یرقان ،ایڈز اور دل کے جان لیوا امراض نے انسانیت کو سخت آزمائشوں سے دوچار کیا ہے لیکن اس کے باوجود انسان نے اپنے عزم و ہمت سے انہی جان لیوا بیماریوں کو زیر کیا۔آج وہ ساری بیماریا ں جن کا نام سنتے ہی انسانی قلب کانپ جاتا تھا لا علاج نہیں رہیں۔
آج انسان نے ان کا علاج تلاش کر لیا ہے۔سائنسدانوں کی عرق ریزی نے انسانیت کو موت کی جگہ زندگی کی نوید سے ہمکنار کیا ہے۔
یہ کام صدیوں کی تحقیق اور ریسرچ سے ممکن ہوا۔پچھلی صدی میں طا عون سے جس طرح تباہی پھیلی وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔کروڑون انسان لقمہِ اجل بنے اور بستیوں کی بستیاں تباہ و برباد ہو گئیں۔کہتے ہیں یہ وباء چوہوں سے جنم لیتی تھی اور اس کے پیدا کردہ وائرس سے بستیاں اجڑ جاتی تھیں۔چونکہ فوری علاج ممکن نہیں ہوتا تھا اس لئے موت ہی آخری منزل قرار پاتی تھی۔اس زمانے میں انسانوں کا رہن سہن مثالی نہیں تھا۔انسان بنیادی سہولیات سے محروم تھا لہذا اس کی بودو باش اور نشست و برخاست حفظانِ صحت کے اصولوں پر پورا نہیں اترتی تھی۔صحت کی بنیادی سہولیات سے محرومی طاعون کی بنیادی وجہ تھی۔شائد اس زمانے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا فقدان تھا اس لئے انسان کے پاس اس موذی بیماری سے نپٹنے کیلئے حفاظتی تدابیر کی کمی تھی جس سے اس کی ہلاکت میںشدت موجود تھی۔اسے تو یہ تک خبر نہیں ہوتی تھی کہ اس کے پڑوسی ممالک میں اس بیماری کا کیا اثر ہے۔کیا کوئی جدید علاج ممکن ہے؟ کیا روشنی کی کوئی ایسی کرن موجود ہے جو اس کے مرض کو صحت یابی میں بدل سکے۔وہ خوف اور مایوسی کے گھٹا ٹوپ اندھروں میں جان کی بازی ہار جا تا تھا کیونکہ اس کیلئے علاج معالجہ کی سہو لتوں کا فقدان تھا۔ابھی کل کی بات ہے کہ ایڈز کا نام سنتے ہی انسان کی سانسیں رک جاتی تھیں۔ایڈز کا مرض ایک ایسا مرض تھا جس میں مریض کو چھونے کی اجا زت نہیں تھی۔اس کے برتن اور اشیاء کو استعمال کرنے کی ممانعت تھی۔مریض کو تنہا اور علیحدہ کر دیا جاتا تھا جس سے وہ کسمپرسی کی علامت بن جاتا تھا۔ وقت نے ایڈز جیسی مرض کو لاعلاج کے خانے سے نکال کر علاج کے خانے میں ڈال دیا جس سے ا نسان کا خوف دور ہو گیا۔
آ ج دنیا کورونا وائرس کی گرفت میں ہے جس کا شکار لاکھوں انسان ہیں۔چین کے شہر دوہان سے شروع ہونے والا یہ وائرس پوی دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ اس کے پیچھے کئی کہانیاں منظرِ عام پر آ رہی ہیں لیکن وہ میرے کالم کا موضو ع نہیں ہیں۔میں اپنے اگلے کالم میں اس پر سیر حاصل بحث کرونگا۔بد قسمتی سے اس وائرس کا شکار وہ اقوام ہیں جو ترقی یافتہ ہیں اور خود کو دنیا کا امام سمجھتی ہیں۔اپنی ظاہری سائنسی ترقی سے وہ ایسا سوچنے کا حق رکھتی ہیں۔انھوں نے دنیا کو جس طرح کی سہو لیات سے نوازا ہے وہ قابلِ فخر ہے۔ان کی عطا کردہ سائنسی ایجادات نے انسانی زندگی کے شب و روز کو بدل کر رکھ دیا ہے۔انسانی آسائشات اس سائنسی ایجادات کی مرہونِ منت ہے جس کی کلید امریکہ اور یورپ کے ہاتھوں سر انجام پا رہی ہے۔
سائنسی ترقی سے انسانی زندگی نے ایک ایسی زقند بھری ہے جس سے معاشرتی اقدار بدل گئی ہیںاور ایک ایسی دنیا ہماری نگاہوں کے سامنے ہے جو بالکل منفرد ہے جس سے تاریکیاں رنگ و نور میں ڈھل چکی ہیں۔مغربی اقوام کی معاشی ترقی اور مالی آسودگی پوری دنیا کی نگاہوں کو حیرہ کئے ہوئے ہے۔
یہ وہی اقوام ہیں جن سے معاونت ،امداد،سر پرستی اور مشورہ کے لئے غریب ممالک ترستے تھے لیکن بدقسمتی سے وہ اقوام آج خود اس موذی مرض کا شکار ہو کر اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ان کے ہاں انسانی جانوں کا ضیاع غریب ممالک سے کہیں زیادہ ہے۔
وہ ایک ایسی انجانی گرفت میںہیں جسے کوئی بھی نام دینا ممکن نہیں ہے۔ امریکہ ، انگلینڈ ، فرانس،جرمنی،سپین ، اٹلی،پولینڈ اور اسٹریلیا اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
اٹلی اور سپین کی ہلاکتوں نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ان کم آبادی کے ممالک سے جس طرح انسان موت کی آغو ش میں جا رہے ہیں انسانیت کانپ اٹھی ہے۔یورپ کا اس بیماری کا گڑھ بننا سب کیلئے حیران کن ہے۔جدید آلات اور علاج سے لیس یورپی اقوام کو اس وائرس نے جس طرح دبوچ لیا ہے اس نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
علاج کا فقدان،دوائیوں کی کمی،ناقص ہسپتالوں کا وجود اور کم پیشہ ور ڈاکٹروں کی موجودگی کا کہیں کوئی شائبہ نہیں ہے لیکن اس کے باوجود بہترین ہسپتال اور جدید علاج معالجہ سے لیس اعلی تربیت یافتہ ڈاکٹرز کی موجودگی میں انسانی اموات کی کثرت تحیر انگیز سوچ سے کم نہیں ہے۔کیا کوئی ہے جو اس گتھی کو سلجھا سکے کہ ایسا کیوں ہے؟کیا کوئی ہے جو اس پر غور کر سکے کہ ظاہری ترقی کے باوجود یورپی اقوام ایک وائرس کا علاج کرنے میں ناکام کیوں ہیں؟یہ غیر معمولی صورتِ حال ہے جوپوری انسانیت کیلئے لمحہِ فکریہ ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*