پاکستان میں کرونا وائرس پر جلد قابو پا لینگے ، عمران خان

اسلام آباد(آئی این پی) قومی سلامتی کمیٹی نے کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر ملک بھر میں 5اپریل تک تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔جمعہ کووزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا ،اجلاس میں کورونا وائرس کی روک تھام سے متعلق حکمت عملی پرغور کیا گیا اور معاون خصوصی برائے صحت ظفرمرزا نے اجلاس کو صورتحال سے آگاہ کیا۔اجلاس میں آرمی چیف، سربراہ پاک بحریہ اور سربراہ پاک فضائیہ نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر ملک بھر میں 5اپریل تک تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس کے بعدوفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ملک بھر کے تمام تعلیمی ادارے5اپریل تک بند رکھے جائیں گئے،سرکاری اور نجی سکولوں سمیت،یونیورسٹیز، ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز اور مدارس بھی بند رہیں گے،تعلیمی اداروں کی بندش سے متعلق مزید فیصلے 27مارچ کو صورتحال کے جائزے کے بعد کیے جائیں گے۔قومی سلامتی کمیٹی کے اس اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی، وزیر دفاع، وزیر خارجہ، وزیر داخلہ، وزیر قانون اور معاون خصوصی برائے صحت سمیت مسلح افواج اور انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان بھی شریک تھے۔ اجلاس میں معاون خصوصی برائے صحت ڈکٹر ظفر مرزا نے شرکا کو کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے اب تک کے حکومتی اقدامات پر بریفنگ کیا۔دریں اثناءوزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کرونا وائرس کے پاکستان میں بھی کچھ کیسز آئے ہیں، امید ہے کرونا وائرس پر جلد قابو پا لیں گے۔تفصیلات کے مطابق جمعہ کو وزیراعظم عمران خان سے امریکی ڈیموکریٹ پارٹی کے رہنماطاہرجاوید نے ملاقات کی ،وزیر اعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری بھی ملاقات میں موجود تھے ۔ اس موقع پر پاکستان اورامریکاتعلقات ، دونوں ملکوں میں تجارتی امور اور کروناوائرس کی رو ک تھام کیلئے امریکا میں اقدامات پر بھی گفتگو کی گئی پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کروناوائرس کے پاکستان میں بھی کچھ کیسزآئےہیں، امید ہے کرونا وائرس پر جلد قابو پا لیں گے۔دریں اثناءوزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کی بہتری کے پیش نظر برآمدات کا فروغ حکومت کی اولین ترجیح ہے،موجودہ حکومت پالیسیوں کے تسلسل کے حوالے سے پر عزم ہے، خصوصی اقتصادی زونز میں صنعتوں کے قیام کے حوالے سے درپیش مسائل کو حکومت کی پالیسی کی روشنی میں ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی، تفصیلات کے مطابق جمعہ کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اسٹریٹیجک ٹریڈ پالیسی فریم ورک اور ٹیکسٹائل پالیسی ( 2020تا 2025)پر اعلی سطح اجلاس منعقد ہوا ، اجلاس میں میں وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، مشیر تجارت عبدالرزاق داﺅد، معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر، گورنر سٹیٹ بنک آف پاکستان سید رضا باقر، متعلقہ وفاقی سیکرٹری صاحبان و سینئر افسران شریک ہوئے ،مشیر تجارت عبدالرزاق داﺅدنے وزیراعظم کو اسٹریٹیجک ٹریڈ پالیسی فریم ورک (ایس ٹی پی ایف)برائے 2020تا 2025کے بنیادی خدو خال، رہنما اصول، برآمدات کے تخمینوں ، اہداف کے حصول کے لئے لائحہ عمل اور 26مختلف شعبوں کے حوالے سے ترجیحات اور انکے فروغ کے لئے جامع منصوبہ بندی پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے ایس ٹی پی ایف کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس جامع فریم ورک کا مقصد برآمدات کے حوالے سے بنیادی سوچ میں تبدیلی لانا ،مقامی صنعتوں کی استعداد کار بڑھانا ہےتاکہ برآمدات میں اضافے کو یقینی بنانے کے لئے قومی سطح پر تمام متعلقین کی جانب سے مشترکہ کاوشوں کو یقینی بنایا جائے اور بین الاقوامی ضروریات کے مطابق مصنوعات کی مقامی سطح پر تیاری ممکن بنائی جا سکے۔ ا ان کا کہنا تھا کہ فریم ورک کی رو سے بنیادی اصولوں کا بھی تعین کیا جا رہا ہے تاکہ برآمدات سے متعلقہ مصنوعات کی تیاری میں درپیش مسائل اور خصوصا کاروباری برادری کو ریفنڈ ز کی بروقت اور سہل ادائیگیوں، پالیسیوں میں آئندہ تین سے پانچ سال کے لئے تسلسل کو یقینی بنانے ، برآمدات میں سہولت کاری فراہم کرنے اور پالیسیوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ مجوزہ فریم ورک میں وزیرِ اعظم کی زیر صدارت اعلی سطحی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا تاکہ مجموعی پیش رفت پر نظر رکھی جا سکے۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ ایس ٹی پی ایف کے تحت ٹیکسٹائل، لیدر، سرجیکل آلات، سپورٹس اور کارپٹ مصنوعات میں چاول اور کٹلری اور ڈویلپمنٹ سیکٹرز مثلا انجنیرنگ مصنوعات، فارماسیوٹیکل، آٹو پارٹس، پراسسڈ فوڈ اینڈ بیوریجز، فٹ وئیر، جیم اینڈ جیولری، کیمیکل ، گوشت اینڈ پولٹری، پھل ، سبزیاں، سی فوڈ، ماربل اینڈ گرینائٹ وغیرہ کے کل چھبیس شعبوں کو شامل کیا گیا ہے اور ان شعبہ جات میں برآمدات کے فروغ پر توجہ دی جائے گی۔ وزیر اعظم کو مجوزہ ٹیکسٹائل پالیسی 2020تا 2025کے خدوخال اور ترجیحات پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ ٹیکسٹائل کے شعبے میں گذشتہ دس سالوں (2009-2018)میں سپورٹ کی مد محض 68ارب روپے فراہم کیے گئے ۔ موجودہ حکومت نے گذشتہ ڈیڑھ سال کے عرصے میں سپورٹ کی مد میں 71 ارب روپے ، گذشتہ تین ماہ میں ٹیکسٹائل کے شعبے کو 27ارب روپے جبکہ نان ٹیکسٹائل شعبے کو 1.4ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ماضی کی حکومتوں کی جانب سے شعبے کے لئے معاونت کے اعلانات کیے جا تے رہے لیکن عمل درآمد کے حوالے سے غفلت کا مظاہرہ کیا جاتا رہا ہے جس کا نتیجہ کاروباری برادری کی مالی مشکلات کی صورت میں برآمد ہوا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کاروباری برادری کے ریفنڈز کے حوالے سے نظام کو مزید سہل بنایا جائے گا اور اس حوالے سے کاروباری طبقے کو درپیش مشکلات کو ترجیحی طور پر حل کیا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مختلف شعبوں کی سپورٹ کے لئے حکومت کی جانب سے اعلان کردہ رقم کو بجٹ کا حصہ بنایا جائے گا تاکہ اس کی ادائیگیوں کے ضمن میں کوئی مشکل درپیش نہ ہو اور بروقت ادائیگیوں کو یقینی بنایا جا سکے۔ اجلاس میں اسٹریٹیجک ٹریڈ پالیسی فریم ورک کے تحت چھبیس شعبوں کے حوالے سے ترجیحات اور لائحہ عمل کی منظوری دی گئی۔ وزیر اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کی بہتری کے پیش نظر برآمدات کا فروغ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیر اعظم نے پالیسیوں کی تشکیل میں نجی شعبے کی شراکت کو ادارہ جاتی بنیادوں پر استوار کرنے کے حوالے سے کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت نجی شعبے کی رہنمائی اور مشاورت سے معاشی اہداف حاصل کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت پالیسیوں کے تسلسل کے حوالے سے پر عزم ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ خصوصی اقتصادی زونز میں صنعتوں کے قیام کے حوالے سے درپیش مسائل کو حکومت کی پالیسی کی روشنی میں ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*