سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس پاکستان میں!!!!!

تحریر:محمد اکرم چودھری
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس پاکستان کے دورے پر ہیں۔ اس دوران انہوں نے پاکستان کا حقیقی رنگ بھی دیکھ ہے۔ وہ ہماری میزبانی سے بھی لطف اندوز ہو رہے ہیں، مختلف مقامات پر بھی گئے ہیں۔ خطے میں پائیدار امن کے لیے پاکستان کی کاوشوں کو بھی سراہا ہے۔ یوں جنرل سیکرٹری اقوام متحدہ کے اس دورے سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا خوش کن تاثر ضرور ابھرے گا گوکہ بیرونی دنیا میں ہمارے بارے منفی تاثر زیادہ پایا جاتا ہے لوگ جلد ہمیں گڈ بوائے تسلیم نہیں کرتے لیکن ایسی شخصیات کے دورے اور تاثرات کہیں نہ کہیں اپنا اثر ضرور چھوڑتے ہیں۔ ایسے وقت میں جب پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات مثالی نہیں ہیں۔ بھارت اور پاکستان کے مابین بھی کشیدگی پائی جاتی ہے۔ کشمیر میں پانچ اگست دوہزار انیس سے کرفیو اور لاک ڈاون جاری ہے ان حالات میں انتونیو گوتریس کا دورہ راتوں رات پاکستان کے لیے کوئی بڑی تبدیلی تو نہیں لا سکتا لیکن اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کے خیالات بہرحال ریکارڈ پر رہیں گے جو انہوں نے یہاں دیکھا، محسوس کیا، جو حقائق پیش کیے گئے اور جن مقامات پر جا کر انہوں نے خود مشاہدہ کیا اس حوالے سے ان کے بیانات کو بہرحال اہمیت ضرور دی جائے گی۔ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے کہا ہے کہ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس کے دورہ پاکستان سے دنیا کو مثبت پیغام گیا ہے۔
اس دورے میں پاکستان کی افغان مہاجرین کے لیے قربانیاں اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے موقف اور بھارتی اقدامات کی مذمت نظر ا?تی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق انتونیو گوتریس نے کشمیر میں بھارتی مظالم کی واشگاف الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کشمیر کو عالمی تنازع قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ کشمیر میں جو ظلم بھارتی فوج نے کیا ہے اس کی تاریخ میں کہیں مثال نہیں ملتی۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ پانچ اگست سے اب تک وہاں پر کیا ہو رہا ہے۔ کشمیری اپنے گھروں میں اجنبی دکھائی دیتے ہیں۔ گھروں میں قید ہیں۔ نہ بولنے کی آزادی ہے نہ مذہبی فرائض کی آزادی ہے نہ ہی گھومنے کی آزادی ہے۔ اقوام متحدہ یہ تسلیم کر لے کہ کشمیر عالمی تنازع ہے، اقوام متحدہ یہ دیکھ لے کہ کشمیر میں ظلم ہو رہا ہے، اقوام متحدہ باخبر ہے کہ بھارتی افواج نے کشمیر میں ظلم و بربریت کی انتہا کر دی ہے لیکن کوئی بولنے کے لیے تیار نہ ہے، اقوام متحدہ سمیت سب لوگ آنکھیں بند کر لیں تو مسئلہ کشمیر کا حل کیسے ممکن ہے۔
اس کے لیے سب کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے عملی طور پر اقدامات کی طرف بڑھنا ہو گا ورنہ یہ مذمتی بیانات، دکھ تکلیف، خون کی ہولی، آنکھوں میں آنسو یہ سب الفاظ بہت دہرائے جا چکے ہیں نہ ایسے جذباتی الفاظ سے کشمیر آزاد ہوا ہے نہ کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کچھ فائدہ ہوا ہے اور نہ ان الفاظ کا متعصب بھارت نے کوئی اثر لیا ہے۔ کشمیریوں کو آزادی دلانے کے لیے دنیا کے تمام بڑے ممالک کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہو گا۔
انتونیو گوتریس نے کرتارپور راہداری کے حوالے سے بھی پاکستان کے اقدامات کی تعریف کی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اس حوالے سے کہتے ہیں کہ کرتار پور راہداری پاکستان کی طرف سے امن کے عمل کی خواہش کی عملی مثال ہے۔ یہ ایسے اقدامات ہیں جس سے بیرونی دنیا میں پاکستان کا خوش کن تاثر ابھر سکتا ہے اس میں کچھ شک نہیں کہ پاکستان نے ہمیشہ بازو کھول کر بھارت کو خوش آمدید کہا ہے لیکن اس کے جواب میں کبھی مثبت جواب نہیں آیا، بھارت ہمیشہ ہچکچاتا رہا اور گومگو کی اس کیفیت نے خطے کے امن کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے۔
کرتار پور راہداری کا ایسے وقت میں آغاز جب ہر طرف نفرت کی بات ہو رہی ہے، جنگ کے خطرات منڈلا رہے ہیں، لوگوں کے مسائل بڑھ رہے ہیں ان حالات میں حکومت پاکستان کی طرف سارے دباﺅ کو ایک طرف رکھ کر بہادرانہ اور دلیرانہ فیصلہ کیا ہے۔ بھارتیوں کے لیے ان کے مقدس مقامات کے دروازے کھولے ہیں تو اس سے بڑھ کر امن کی خواہش اور پیغام کیا ہو سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی طرف سے بھی اس حوالے سے تائید بہرحال خوش آئند ہے۔ بھلے یہ سب کچھ باتوں کی حد تک ہی ہو گا لیکن تاریخ میں درج ہو رہا ہے کہ کشمیر میں جاری ظالمانہ کرفیو اور لاک ڈاﺅن کے حوالے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کیا کہتے رہے ہیں۔افغان مہاجرین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا کہنا تھا پاکستان دنیا میں زیادہ مہاجرین کی میزبانی کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔
اب آئیں خطے کے سب سے بڑے مسئلے کی طرف اور یہ ہے افغان مہاجرین کا اس حوالے سے بھی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو نے پاکستان کی تعریف کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ چالیس سال سے افغان عوام مسائل کا شکار ہیں دوسری طرف پاکستان نے اپنے اندرونی مسائل کے باوجود افغان مہاجرین کے لیے مثبت اقدامات کیے، چار دہائیوں تک پاکستان نے افغان مہاجرین کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ پاکستان افغان مہاجرین کی میزبانی کرنے والا دوسرا ملک ہے۔
یہ تصویر کا ایک پہلو ہے کہ افغانی بھائیوں کے احساس میں انہیں سینے سے لگائے اور دیکھ بھال کرتے رہے دوسرا پہلو یہ ہے کہ ان مخلصانہ کوششوں کے باوجود بھی آج کا افغان ہم سے ناراض ہے۔ ہم نے دل کھول کر انکی محبت کی ان کا ساتھ دیا اب صورتحال یہ ہے وہاں رہنے والے آج ہمیں خرابیوں کی وجہ قرار دیتے ہوئے غصہ اتاریں۔ افغان مہاجرین کی خدمت میں ہمیں اپنا سب کچھ بیچ دیا ہے۔ پاکستان نے اپنے ہمسایوں کی ہر لحاظ سے مدد کی ہے اور تعاون کا مظاہرہ کیا ہے لیکن اس کے باوجود مسائل حل کرنے کے ہمسایوں نے نفرتیں پالی ہیں۔ گذشتہ برس انگلینڈ میں ہونے والے عالمی کپ میچز کے دوران پاکستان کو افغانستان کے شائقین کرکٹ کی طرف سے زبردست مزاحمت کا سامنا رہا اور نوبت لڑائی مار کٹائی تک جا پہنچی۔ یہی وہ رویے ہیں جو تکلیف پہنچاتے ہیں۔
پاکستان کسی سے احسان کا بدلہ تو نہیں مانگتا لیکن پاکستان کے امن کو تباہ کرنے سے بھی گریز کرنا چاہیے۔ ہمارے ہمسائے بھی یہ جان لیں کہ اگر لاکھوں کی تعداد میں میزبانی کر کے اپنا حق ادا کیا ہے اب انہیں بھی ذمہ دار ہمسائے کی طرح برتاﺅکرنا چاہیے۔ انتونیو گرتوس سب کچھ خود دیکھ کر جا رہے ہیں امید ہے ان کے مشاہدات اور واقعات سے بیرونی دنیا ضرور استفادہ کرے گی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*