کوئٹہ،شاہراہ عدالت پر مبینہ خودکش بم دھماکہ، 8افرادجاں بحق ، 20سے زائد زخمی

کوئٹہ(خ ن+آئی این پی )وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے شارع عدالت بم دھماکہ کی مذمت کرتے ہوئے واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی ہے جبکہ وزیراعلیٰ نے بم دھماکہ میں قیمتی جانی نقصان پر دلی رنج وغم کا اظہار کیا ہے، وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ معصوم اور بے گناہ شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے والے سخت ترین سزا کے مستحق ہیں لہٰذا دہشت گردی کی اس بزدلانہ کاروائی میں ملوث عناصرکو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں، وزیراعلیٰ نے آئی جی پولیس کو ہدایت کی ہے کہ دہشت گردی کے واقعہ کے تمام محرکات اور پہلو¶ں کا جائزہ لے کر 24گھنٹے کے اندر رپورٹ پیش کی جائے اور عوام کے جان ومال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی اور شہر کی سیکیورٹی کے اقدامات کو مزید موثر بنایا جائے، وزیراعلیٰ نے سیکریٹری صحت کو ہسپتالوں میںایمرجنسی نافذ کرکے زخمیوں کو علاج معالجہ کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے، وزیراعلیٰ نے دھماکے کے شہداءکے لواحقین سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ شہداءکے درجات بلندکرے اور زخمیوں کو جلد صحت یابی عطا فرمائے۔دریں اثناءصوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے شاہراہ عدالت پرکوئٹہ پریس کلب اور ضلعی کچہری کے قریب مبینہ خودکش بم دھماکے کے نتیجے میں2پولیس اورایک لیویز اہلکار سمیت 8جاںبحق جبکہ 20سے زائد زخمی ہوگئے ہیں ،زخمیوں میں سے متعدد کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے جس کی وجہ سے جاںبحق ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے ۔تفصیلات کے مطابق پیر کی شام کو کوئٹہ کے عدالت روڈ پر اس وقت زوردار دھماکہ ہوا جس وقت وہاں مظاہرہ کیاجارہاتھا دھماکے کے فوراََ بعد زخمی چیخ وپکار کرتے رہے جبکہ وہاں موجود لوگ دیوانہ وار ادھر ادھر دوڑنے لگے ،دھماکے کے نتیجے میںزخمی ہونے والے افراد کو ایدھی اور چھیپا ایمبولینسز سمیت مختلف گاڑیوں میں سول ہسپتال کوئٹہ پہنچایاگیادھماکے کے نتیجے میں جاںبحق ہونے والوں میں پولیس اہلکار عبدالرسول ولد عبدالمجید،محمد زمان ولد محمد حسن ،لیویز اہلکار محمد حمید ولد عبدالغفور،سولین محمد نسیم ولد عبدالحلیم ،منظور احمد ولد عبدالصبور ،احمد اللہ ولد عبداللہ خان ،حضرت علی ولد نصر اللہ جاںبحق جبکہ زخمیوں میں سید داﺅد ولد ثناءاللہ ،شہریار ولد محمد یار،برکت ولد شاہ نواز،امیر بخش ولد قادر بخش ،سمیع اللہ ولد گلستان ،محمد داﺅد ولد عبدالرحیم ،ساز الدین ولد محمد یوسف ،محمد وسیم ولد ذکریا،عدیل ولد منصور ،محمد داﺅد ولد نور محمد ،محمد عظیم ولد محمد عیسیٰ ،فیصل ولد مشتاق ،فیض الحسن ولد دوست محمد ،شریف احمد ولد اکرم داد ،اشرف الدین ولد خیر الدین ،محمد نسیم ولد ابراہیم ،نصیب اللہ ولد اللہ بخش ،فرحان ولد اللہ داد، محمد حسن ورلد سرور سمیت دیگر شامل ہیں زخمیوں کو ٹراماسینٹر،شعبہ حادثات میں ہنگامی بنیادوں پر طبی امداد کی فراہمی کردی گئی ہے جبکہ متعدد کو سرجیکل وارڈز میں بھی شفٹ کردیاگیاہے ،ہسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں میں سے متعدد کی حالت تشویشناک ہے اور ڈاکٹرز ان کی جان بچانے کی کوشش کررہے ہیں ،مبینہ خودکش بمبار کے اعضاءبھی ہسپتال پہنچادئےے گئے ہیں ،دھماکے کے فوراََ بعد سول ہسپتال کوئٹہ سمیت دیگر میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے جبکہ زخمیوں کیلئے خون کے عطیات کیلئے ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے اپیل کی گئی ہے دھماکے کے باعث قریبی گاڑیوں اور عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ،بم ڈسپوزل اسکواڈ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور کرائم سین کو محفوظ کرلیاگیاہے دھماکے کے فوراََ بعد لوگ اپنے عزیز واقارب کو ہسپتال میں ڈھونڈتے رہے اور شہید ہونے والوں کے عزیز واقارب دھاڑے مار مار کر روتے رہے۔ڈپٹی انسپکٹرجنرل پولیس عبدالرزاق چیمہ نے عدالت روڈ پر پریس کلب کے قریب بم دھماکے کے بعد میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے عبدالرزاق چیمہ کاکہناتھاکہ دھماکہ نماز عصر کے بعد ہوا ایک جماعت کی جانب سے حضرت ابوبکر صدیق کے یوم شہادت کی مناسبت سے ریلی نکالی گئی تھی جسے سیکورٹی دی گئی تھی اور علاقے کو بند کیاگیاتھا اس دوران ایک کم عمر نوجوان جو پیدل تھا نے آگے جانے کی کوشش کی تو پولیس نے اس کو روکا اس دوران مذکورہ لڑکے نے اس کو روکا ابتدائی طور پر لگتاہے کہ حملہ آور کا نشانہ ریلی کے شرکا ءتھے ،پولیس کے جوانوں نے جان پر کھیل کر مبینہ خودکش بمبار کو روکنے کی کوشش کی جس پر بمبار نے خود کو اڑا لیا ،اب تک کی اطلاع کے مطابق دھماکے میں 8افراد شہید ہوچکے ہیں جن میں 2پولیس اور ایک لیویز اہلکار بھی شامل ہیں ،انہوں نے کہاکہ ابتدائی طورپر انہیں 15زخمیوں کی اطلاع ملی ہیں ۔ دریں اثناءگورنر بلوچستان امان اللہ یاسین زئی نے عدالت روڈ پر دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ دہشتگردوں کی کوشش ہے کہ قوم کے ہمت اورجرا¿ت کو متزلزل کرے ،انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ وہ ملوث عناصر کے خلاف فوری ایکشن لیں ،انہوں نے زخمیوں کو فوری طبی امداد اور تمام تر سہولیات کی بھی فراہمی کی ہدایت کی ہے ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کوئٹہ کے عدالت روڈ پر ہونے والے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے فوری طور پر بم دھماکے کی رپورٹ طلب کی اور کہا کہ بزدل دہشتگرد ایک مرتبہ پھر شہر اور صوبے کا امن خراب کرنا چاہتے ہیں، دیرپا امن کے قیام کو ہر صورت یقینی بناتے ہوئے معصوم اور بے گناہ شہریوں کو دہشتگردی کا نشانہ بنانے والے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے ہدایات جاری کی کہ شہر میں سیکیورٹی کے اقدامات کو مزید موثر اور سخت بنایا جائے تاکہ دہشتگردوں کو دوبارہ سے سر اٹھانے کا موقع نہ ملے ،وزیر اعلیٰ نے دھماکے کے زخمیوں کو تمام طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی ہے۔صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا ءاللہ لانگو نے کوئٹہ دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ کوئٹہ کے امن کو خراب کرنے والوں کا سراغ لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے، دشمن بلوچستان کی ترقی سے خائف ہو کر اس قسم کے حربے استعمال کر رہا ہے،دھماکے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں، انہوں نے دھماکے کے زخمیوں کو تمام طبی سہولیات فراہم کی فراہمی کی ہدایت کی ہے ۔ترجمان حکومت بلوچستان لیاقت شاہوانی نے شارع اقبال (پریس کلب)کے قریب دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ شہید و زخمی ہونے والوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں نہتے عوام کو نشانہ بنانا بزدلانا عمل ہے اس طرح کے قاتلانہ عمل سے عوام کے حوصلے پست نہیں کئے جا سکتے۔لیاقت شاہوانی نے کہاکہ زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کی جائیں ، دکھ کی اس گھڑی میں لواحقین کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے کہاکہ شہدا کے درجات کی بلندی کےلئے دعاگو ہیں دہشتگردی پھیلانےوالوں کو جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔صوبائی مشیر و چیئرپرسن کیو ڈی اے بشری رند نے دھماکہ کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی ہے۔ صوبائی حکومت اس گھڑی میں دھماکہ متاثرین کے غم میں شریک ہے۔ دھماکہ کے متاثرین کو غم کی اس گھڑی میں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ مرکزی انجمن تاجران بلوچستان (رجسٹرڈ)کے ترجمان اللہ دادترین نے کوئٹہ بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ انجمن تاجران بم دھماکہ صوبائی حکومت اور انتظامیہ کی نااہلی قرار دیتا ہے صوبائی حکومت عوام کو تحفظ دینے میں ناکام ھوچکی ہے بیان شہدا کی درجات کی سربلندی اور زخمیوں کیلئے جلد صحتیابی کی دعا کی گئی ہے ۔حکومت دھماکے میں ملوث عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی کرکے مجرموں کو نشان عبرت بنائے ۔دریں اثناء وزیراعظم عمران خان نے کوئٹہ دھماکے کی شدید مذمت اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہارکیا ۔ انہوں نے زخمیوں کو بہترین طبی امداد کی فراہمی کی ہدایت جاری کریں ،وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بھی کوئٹہ دھماکے کی شدید مذمت اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کیا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*