حکومت نے آئی ایم ایف کیساتھ انگوٹھا چھاپ معاہدہ کیا،اپوزیشن

اسلام آباد(آئی این پی)قومی اسمبلی میں مسلسل تیسرے روز بھی ملک میں مہنگائی اور معیشت پر بحث جاری رہی۔اپوزیشن ارکان احسن اقبال ،راجہ پرویز اشرف اور مولانا اسعد محمود نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کیساتھ انگوٹھا چھاپ معاہدہ کیا،حکومت نے آئی ایم ایف کے سامنے قلم رکھ دیا کہ جو لکھنا چاہتے ہیں لکھ دیں،حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں کی بات کر کہ حکومت نے اپنی ہر ناکامی قومی اداروں کی شیلڈ میں چھپانے کی کوشش کی، حکومت چینی اور آٹا مافیا کے ذریعے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی ہے، مشیر خزانہ اپنی تقریر میںآئی ایم ایف کے فضا ئل بتاتے رہے،حکومت پاکستان کے خلاف سازش کے تحت ہم پر مسلط کی گئی،پٹھو اور کٹھ پتلی حکمران محض تقریروں سے نہیں جائے گی،موجودہ حکومت نے ڈالر کے مقابلے میں روپیہ کی قدر مستحکم کرنے کےلئے5ارب ڈالر خرچ کر دیئے، چیلنج کرتا ہوں ان کے ساتھ میرے ساتھ بیٹھ جائیں میں ثابت کروں گا۔جمعرات کو قومی اسمبلی کا اجلاس وقفے وقفے سے سپیکر اسد قیصر،ڈپٹی سپیکر قاسم سوری اور پینل آف چیئر کے رکن امجد خان نیازی کی زیر صدارت ہوا۔قومی اسمبلی میں مسلسل تیسرے روز بھی ملک میں مہنگائی اور معیشت پر بحث جاری رہی۔بحث میں حصہ لیتے ہوئے مسلم لیگ (ن)کے احسن اقبال نے کہا کہ حکومت کے انتقامی ایجنڈے کی وجہ سے ہر کوئی ملک سے اپنا سرمایہ نکال رہا ہے،فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ ملک کے اندر کمر توڑ مہنگائی ہے، بجائے ہم کہتے ترجمان حکومت نے خود تسلیم کر لیا کہ کمر توڑ مہنگائی ہوئی ہے، آج ملک میں مہنگائی 14 فیصد ہے، یہ بدترین اقتصادی بحران مین میڈ بحران ہے، موجودہ اقتصادی بحران حکومت کی نالائقی اور ناہلی کی وجہ سے ہے،آج پاکستان میں ریکارڈ مہنگائی، بیروزگاری، غربت اور معاشی سست روی ہے جب کہ حکومت چینی اور آٹا مافیا کے ذریعے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی ہے۔انہوںنے کہا کہ آئی ایم ایف کے نمائندگان پر تنقید نہیں کرنی چاہیے، آئی ایف کے لوگ آسمان سے نہیں اترے کہ ان پر تنقید نہ کی جا سکے۔ احسن اقبال نے کہا کہ آئی ایم ایف میں جانے پر اعتراض نہیں،ان سے مذاکرات پر اعتراض ہے، ان کو پتہ ہی نہیں تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا ہے کہ نہیں، ملکی مفادات کو بھی مد نظر رکھا جانا چاہیے تھا،حکومت کو معلوم نہیں تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ کس طرح مذاکرات ہوتے ہیں، آئی ایم ایف کے ساتھ سخت مذاکرات کرنا ہوتے ہیں، ایک ایک روپیہ کےلئے لڑنا پڑتا ہے،انہوں نے آئی ایم ایف کے سامنے قلم رکھ دیا کہ جو لکھنا چاہتے ہیں لکھ دیں،انہوں نے انگوٹھا چھاپ معاہدہ کیا، یہ انگوٹھا چھاپ حکومت ہے جس کی وجہ سے آج بیروزگاری پیدا ہوئی ہے، ان سے جو سوال کریں کہتے ہیں کہ آپ نے یہ کیا وہ کیا۔ انہوں نے ہمیشہ کہا کہ حکومت اور فوج ایک پیج پر ہے، یہ مزدور، کسان، بے روزگار، نوجوانوں کے پیج پر آ کر دیکھیں، یہ اپنی ہر ناکامی میں قومی اداروں کی شیلڈ میں چھپانے کی کوشش کرتے رہے،ہم نے 5سالوں میں ایک کھرب قرضہ لیا اور مجموعی قرضہ 24ہزار ارب پر چھوڑا، انہوں نے 11کھرب قرضہ لے لیا، ہم نے جتنے پانچ سالوں میں قرضے لئے انہوں نے ایک سال میں لے لئے، یہاں 10، 20 سال پرانی حکومتوں کی بات نہیں ہو رہی، ہم نے غلط کیا تسلیم کرتے ہیں تو آپ بھی تسلیم کر لیں کہ آپ نے بھی غلط کیا ہے، ہم نے جو پانچ سال میں جو قرضہ لیا انہوں نے 18 ماہ میں اتنا قرضہ لے لیا، اگر قرضہ زہر تھا تو آپ نے 18 ماہ میں عوام کو کتنا زہر کھلایا، 18ماہ پہلے ایک پاکستانی ایک لاکھ 20ہزار کا مقروض تھا، یہ 72سالوں میں ہوا، 18ماہ میں فی پاکستانی ایک لاکھ 60ہزار کا مقروض ہو گیا، اگر یہ زہر تھا تو یہ زہر آپ نے کیوں عوام کو کھلایا، جب سے حکومت چھوڑی ہمارا دفاعی بجٹ 900ارب تھا، انہوں نے اس کو کم کر کے 700ارب کر دیا، حکومت کی معیشت کا نمونہ لنگر خانہ ہے، چندہ جمع کرنے اور ملک چلانے میں بہت فرق ہوتا ہے، جس نے پوری زندگی چندہ جمع کیا وہ ملک نہیں چلا سکتے، آج ملک جس جگہ کھڑا ہے،اس کا حل اس حکومت کے پاس نہیں، ملک کو اس دلدل سے نکالنے کےلئے فوری طورپر آزاد انتخابات کے انعقاد کی ضرورت ہے۔ معیشت صرف اعداد و شمار سے نہیں بلکہ اعتماد کے ساتھ چلتی ہے، حکومت کے انتقامی ایجنڈے کی وجہ سے ہر کوئی ملک سے اپنا سرمایہ نکال رہا ہے۔وفاقی وزیرخسرو بختیار نے کہا کہ پوری قوم کی نظریں اس ایوان کی طرف ہیں، جس وقت مسلم لیگ ن کی حکومت آئی ایم ایف کے پاس گئی تو تجارتی خسارہ 2.5ارب ڈالر تھا، جب ہم آئی ایم ایف کے پاس گئے تو تجارتی خسارہ 19ارب ڈالر تھا، قسمت نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا ساتھ دیا اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں 40ڈالرفی بیرل پر رہیں، جس سے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو 32ارب ڈالر کا فائدہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری زرعی اجناس کی پیداوار اتنی ہی ہے مگر ہماری ضروریات بڑھ رہی ہیں، زراعت وہ واحد شعبہ ہے جس سے ہمیں فوری رزلٹ مل سکتا ہے، زراعت کو اہمیت دی جائے اس ایوان میں زراعت پر پوری بحث کروائی جائے، حکومت غلط راستے جا رہی ہے اور کھڈے میں گرنے والی ہے۔جمعیت علماءاسلام (ف)کے پارلیمانی لیڈراسعد محمود نے کہا کہ جس وقت بجٹ پیش کیا گیا تھا اس وقت بھی تمام اپوزیشن نے اسے مسترد کیا تھا، ہم سنتے تھے کہ آئی ایم یاف نے اپنے بندوں کو اہم عہدوں پر پاکستان میں تعینات کر دیا ہے، بتایا جائے گزشتہ روز مشیر خزانہ نے تقریر ترجمان حکومت یا آئی ایم ایف کے ترجمان کے طور پر کی، انہوں نے اپنی تقریر کا آغاز آئی ایم ایف کے فضا ئل بتاتے رہے، مشیر خزانہ کے علاوہ جتنے بھی وزراءنے تقاریر کیں انہوں نے اپنے ہی مشیر خزانہ کی تردید کی ، اپنی تقریر میں پاکستان دودھ اور شہد کی نہریں بہائیں، یہ حکومت پاکستان کے خلاف سازش کے تحت ہم پر مسلط کی گئی، جس نے مصر کی معیشت کو تباہ کیا اس کو پاکستان لایا گیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے آتے ہی پہلا حملہ سی پیک پر کیا، اگر حکومت سنجیدہ ہے تو ان کو از خود اپنی حکومت سے دستبردار ہو کر نئے انتخابات کا اعلان کر دینا چاہیے، جس وزیر نے ابھی بات کی ، اس کی وجہ سے ملک میں آٹا اور چینی کا بحران ہے اور وہ ہمیں لیکج دے دیا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*