ٹیکسٹائل ملز کے لئے بجلی کے نرخوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث کاٹن انڈسٹری اور کاشتکاروں میں تشویش کی لہر

کراچی(کامرس ڈیسک)برآمدی ٹیکسٹائل صنعت کا زیرو ریٹڈ اسٹیٹس ختم کرنے کے بعد ٹیکسٹائل ملز کے لئے بجلی کے نرخوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث پاکستانی ٹیکسٹائل و کاٹن ایکسپورٹس میں غیر معمولی کمی کے خدشے کے پیش نظر پوری کاٹن انڈسٹری اور کاشتکاروں میں تشویش کی لہر ۔رواں سال کپاس کی کاشت بھی متاثر ہونے کا خدشہ۔چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ غیر متوقع طور پر وفاقی بجٹ 2019-20 میں برآمدی ٹیکسٹائل سیکٹر کے لئے زیرو ریٹڈ اسٹیٹس ختم کرنے کے باعث ان صنعتوں کے کروڑوں روپے ریمنڈ کی مد میں ایف بی آر کے پاس منجمند ہونے سے یہ صنعت پہلے ہی معاشی بحران کا شکار تھی اور اب ٹیکسٹائل سیکٹر کے لئے بجلی کے نرخوں میں 50 فیصد سے زائد اضافہ کر دیا گیا ہے جس سے پیداواری لاگت میں غیر معمولی اضافہ ہونے سے کاٹن ایکسپورٹس میں غیر معمولی کمی کا خدشہ ہے جس کے باعث اندرون ملک روئی اور پھٹی کی خریداری بھی کافی حد ٹی تعطل کا شکار ہے اور پورے کاٹن سیکٹر میں اس وقت سخت تشویش کی لہر دیکھی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ اگر فوری طور پر ٹیکسٹائل سیکٹر کے لئے بجلی کے پرانے نرخ بحال نہ کئے گئے تو زر مبادلہ کے ذخائر میں ریکارڈ کمی کے ساتھ ساتھ آئندہ سال کپاس کی بھی متاثر ہو سکتی ہے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*