مہنگائی کابے قابو جن۔۔۔

تحریر:طیبہ ضیائ
مہنگائی اور بیروزگاری کا جن بوتل سے باہر نکل چکا ہے اور یہ بے قابو جن حکومتی جنات پرحاوی ہو چکا ہے۔
تمام تر وظائف اور چلوں کے باوجود حکومتی جنات مہنگائی اور بیروزگاری کے جن کے سامنے ڈھیر ہو چکے ہیں۔ اب کوئی عملیات کام نہیں آ رہے۔ حکومت میں آنے سے پہلے کنٹینر پر چڑھ کر اوورسیز سرمایہ کار اور فنڈز کے زعم میں ملک چلانے کے خواب مٹی میں رل گئے ہیں۔
اوورسیز پاکستانی اس حکومت کی ریڑھ کی ہڈی بتائے جاتے تھے۔ کیا ہوئے وہ سب دعوے وعدے منصوبے بندیاں خواب نعرے ؟کہاں گئے وہ سرمایہ کار جنہیں باہر سے آکر پاکستان میں سرمایہ کاری کرنی تھی؟ معاشی بحران نے تبدیلی کا جنازہ نکال دیا ہے۔ امیروں کا لائف سٹائل مہنگائی کا جن بھی متاثر نہیں کر سکا البتہ متوسط طبقہ کی سفید پوشی غربت کے ہاتھوں تار تار ہوچکی ہے۔
خود صدر پاکستان عارف علوی اعتراف کر چکے ہیں کہ ڈیڑھ سال میں 22لاکھ لوگوں کا بیروزگار ہونا تشویشناک ہے، مجموعی طو رپر ملک میں مہنگائی ہے،“۔ مہنگائی کی شرح اتنی بڑھ گئی ہے کہ سبزیاں تک لوگوں کی قوت خرید سے باہر ہوچکی ہیں یعنی جو خوردنی اشیاءانتہائی سستے داموں غریب عوام کی پہنچ میں تھیں اب انہیں خریدنے کی قوت نہیں رکھتے، صورتحال انتہائی گھمبیر شکل اختیار کرتی جارہی ہے بارہا اس جانب توجہ مبذول کرائی جارہی ہے کہ موجودہ معاشی صورتحال میں اگر بہتری نہیں لائی گئی تو ملک میں بڑے بحرانات جنم لیں گے۔
گزشتہ سال اگست میں محکمہ شماریات نے کہا تھا ملک میں مہنگائی کی شرح میں 17 فیصد اضافہ ہوا تھا جبکہ اکتوبر میں معروف ادارے گیلپ پاکستان کے نئے سروے میں عوام نے مہنگائی کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا تھا۔
ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں اس وقت صورتحال انتہائی خراب ہے جس سے آنکھیں نہیں چرائی جاسکتیں۔
ملک میں بیروزگاری کی شرح بڑھ رہی ہے بڑی بڑی کمپنیوں سے ملازمین کو فارغ کیاجارہا ہے۔
ہزاروں کی تعداد میں لوگ روزگار سے نکالے جاچکے ہیں جبکہ خدشہ ظاہر کیاجارہا ہے کہ لاکھوں افراد مزید بے روزگار کئے جائینگے کیونکہ کمپنیوں کے پاس اتنے پیسے نہیں کہ وہ بڑی تعداد میں ملازمین کو رکھیں، ان کی آمدنی نہیں بڑھ رہی، خسارے میں جانے کی بات کی جارہی ہے جبکہ بعض کمپنیاں یہ جواز پیش کررہی ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے ملازمین کو رکھنا کمپنی پر بوجھ ہے اس لئے ملازمین کو فارغ کیاجارہا ہے مگر یہ جواز بالکل غیر منطقی ہے کیونکہ ٹیکنالوجی کا سفر جاری ہے جبکہ پہلے سے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کمپنیاں کئی سالوں سے کام کررہی ہیں اب من گھڑت حیلے بہانوں سے لوگوں کو ملازمتوں سے فارغ کیا جارہاہے۔
اس وقت مہنگائی عروج کو چھو رہی ہے اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی نظر آرہی ہیں۔ اور عوام الناس اس میں اپنے ا پنے زاویہ فکر وسوچ کے لحاظ سے تبصرے کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ایک عام خیال یہ ہے کہ پاکستان میں اس وقت افراط زر (مہنگائی) اپنی بلند ترین سطح کو چھو رہا ہے۔ ہمارے ہاں اس وقت بد دیانتی اور کرپشن عروج پر ہے۔
اور ہر محکمہ و ادارہ خطرناک حد تک کر پٹ ہو چکا ہے۔ جس میں مالی وقانونی واخلاقی کرپشن شامل ہے۔
یہاں پر جائزکام کے لئے جان بوجھ کر تاخیری حربے اپنائے جاتے ہیں‘ جن سے عاجز ہوکر سائل عملہ کو فرمائشیںپوری کرنے اور رشوت دینے میں مجبور ہو جاتا ہے۔ عوام غربت کے ہاتھوں پہلے ہی پریشان ہیں مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے‘ اس کے باوجود اشیائے صرف اورضروریات زندگی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ آٹا‘ دال‘ دودھ‘ دہی‘ سبزی‘ پھل اور پیٹرول کی قیمتوں کوتوکوئی روکنے والاہی نہیں ہے۔ دراصل ہمارے حکمرانوں کو تو یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ ایک غریب کیسے گزارہ کرتاہے۔ اس حقیقت سے انکارممکن نہیں کہ جتنی لوٹ مارمنافع خورمافیا اور بھتہ مافیا نے کی ہے اور حکمرانوں اور حکام کی مجرمانہ خاموشی عوام پربوجھ ہے۔ قیمتوں میںروز برروز اضافہ اب عوام کے لئے مسئلہ بن چکا ہے۔ بنیادی ضروریات زندگی بہت مہنگی اور غریب کی دسترس سے دور ہوتی جارہی ہیں‘ دووقت کی روٹی کھانامشکل بنادیا گیا ہے۔ یہ صورت حال خطرناک ہوسکتی ہے اورملک میںانتشارپھیل سکتا ہے۔ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں مہنگائی روکنے کے لئے منصوبے بنائے جاتے ہیں‘ ہمارے ملک میں عوام مہنگائی کے ہاتھوںپریشان ہیں‘ جس کے باعث جرائم میں اضافہ ہورہا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*