پا کستا نی سر زمین کسی کیخلاف استعما ل نہیں ہو گی

دفتر خا رجہ پاکستان نے اپنے ایک بیا ن میں وا ضح کیا ہے کہ پاکستانی سر ز مین کسی کیخلاف استعما ل نہیں ہو گی پاکستان صر ف امن میں حصہ دا ر بن سکتا ہے امیدہے
کہ ایر ان در پیش صورتحال سے اپنی رو ائتی دا نشمند ی کےسا تھ نبرد آ ز ما ہو گا بیا ن میں وا ضح کیا گیا کہ وزیر خا رجہ شا ہ محمو د قر یشی کی ایر ان کے صد ر حسن رو حانی سے تعمیر ی اور مثبت با ت چیت ہو ئی ہے جنگ کسی کے مفا د میں نہیں ہے با ت چیت اور سفا ر تکا ری کے ذ ر یعے مسئلہ کا حل ہو نا چا ہیئے۔
دفتر خا رجہ پاکستان کا مذکو رہ بیان قا بل تعر یف اور خطے کے بہتر ین مفا د میں ہے کیو نکہ یہ حقیقت ہے کہ پاکستانی سر زمین کسی کیخلا ف استعما ل نہیں ہو گی کیونکہ اس سے قبل پاکستان دو سر وں کی جنگ لڑ تا رہا جس میں اس کو بہت زیا دہ جانی و مالی نقصا نا ت سے دو چا ر ہو نا پڑ ا حا لا نکہ پاکستان نے دنیا بھر سے دہشت گر دی کے خا تمے کیلئے لڑ نے والی جنگ میں فر نٹ لا ئن کا کر دار ادا کیا لیکن اس کے با و جو د اس کی ان خد ما ت کو فر امو ش کیا گیا اب مو جو دہ حکومت نے دو سروں کی جنگ نہ لڑ نے کا فیصلہ کر کے اس با ت کا وا ضح ثبو ت دید یا ہے کہ وہ اب ما ضی کی ایسی غلطی ہر گز نہیں کر ے گا جس میں جانی اور ما لی نقصا نا ت بھی ہو ں اور اس کے با و جو د اس کی قر با نی کا احترام نہ کیا جائے اس لیے اب پاکستان نے
وا ضح فیصلہ کیا ہے کہ پاکستانی سرزمین کسی کیخلا ف استعما ل نہیں ہو گی۔
اب ایر ن امر یکہ کے در میان جو کشید گی پا ئی
جا رہی ہے ا س کا خا تمہ وقت کی اہم ضرورت ہے اس سلسلے میں پاکستان نے مصا لحتی کر دار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے بلکہ وزیر اعظم عمر ان خان نے دو نو ں مما لک کے درمیان دوستی کرانے کی با ت کی ہے جو کہ بلا شبہ قا بل تعر یف اقد ام ہے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جنگ ایک تبا ہی کا نا م ہے یہ کسی کے مفا د میں نہیں دنیا میں تما م مسائل کا حل صر ف با ت چیت کے ذر یعے ہی نکا لا جا تا رہا ہے۔
اس لیے یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ امر یکہ اور ایران کو بھی اپنے مسائل کا حل با ت چیت کے ذر یعے ہی نکا لنا چا ہیئے اس کے سو ا کوئی اور چا ر ہ نہیں ہے کیونکہ جنگ مسائل کا حل نہیں ہے جس طر ح و زیر اعظم عمر ان خان نے دونوں مما لک کے در میان دوستی کر انے کی با ت کی ہے ان کی تقلید کر تے ہوئے دیگر اسلامی ممالک خصو صاً او آئی سی کو اپنا اہم کر دار ادا کر نا چا ہیئے کیونکہ اقوام متحدہ سمیت دیگر عا لمی ادا رے اپنا کر دار ادا نہیں کر رہے جو کہ ایک بہت بڑا لمحہ فکر یہ ہے اس لیے اب ان پر انحصا ر کر نا صحیح نہیں ہے اسلامی مما لک کو اس سلسلے میں وزیر اعظم عمر ان خان کے ہا تھ مضبو ط کر نے
چا ہئیں کیونکہ اگر ایر ان اور امریکہ کے در میان اگر جنگ
چھڑ گی تو اس سے نہ صر ف خطے میں عدم استحکام کی صورت
حا ل پید ا ہو گی بلکہ معا شی نقصا ن بھی ہونے کا خد شہ ہے جس سے زیا دہ عوام ہی متا ثر ہو ں گے جو کہ عوام کے مفا د میں نہیں ہو گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*