پاکستان اور افغانستان کے مابین صدیوں پر محیط تعلقات ہیں،وزیر اعلیٰ بلوچستان

Chief Minister Balochistan, Mir Jam Kamal

کوئٹہ(خ ن)وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان سے حزب وحدت اسلامی مردم افغانستان پارٹی کے سربراہ حاجی محمد محقق کی قیادت میں پارٹی کے اراکین قومی اسمبلی اور سینٹ افغانستان کے وفد نے ملاقات کی، صوبائی وزراءبھی ملاقات میں موجود تھے، وفد ان دنوں پاکستان کے خیرسگالی دورے پر ہے ، دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کا فروغ اور استحکام ہے، وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین صدیوں پر محیط مذہبی، ثقافتی، تجارتی اور سیاسی تعلقات ہیں، ان تعلقات میں بے شک اتارچڑھا¶ آتا رہتا ہے تاہم دونوں ممالک کی قیادت سے اچھی توقعات ہیں کہ وہ باہمی تعلقات کو اس نہج پر لے جائیں گے جس کی دنیا میں مثال دی جائے گی، وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات جتنے اچھے ہوں گے اس کا معاشی فائدہ دونوں ممالک کے عوام کو پہنچے گا اور غربت اور پسماندگی دور ہوگی، وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب ہمسایہ ممالک میں اقتصادی اور معاشی تعلقات بڑھتے ہیں تو امن آتا ہے اور جب یہ تعلقات خراب ہوتے ہیں تو دوریاں پیدا ہوتی ہیں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ جس دن ہم حقیقی معنوں میں اس بات کا احساس کرلیں گے کہ اصل مسئلہ اقتصادی ہے تو اس دن سے خطہ میں امن وسلامتی کو فروغ ملے گا، انہوں نے کہا کہ عقل مندی کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ مستقبل کی ضروریات کوسامنے رکھتے ہوئے آج ہی بہتر فیصلے کئے جائیں، انہوں نے کہا کہ تاپی گیس پائپ لائن پروجیکٹ، سی پیک روٹ، وسط ایشیائی ریاستوں تک رسائی میں افغانستان کا اہم کردار اور جغرافیائی اہمیت ہے، ہمارے خطے کے وسائل کی بناءپر اس کی اقتصادی اور معاشی اہمیت مسلمہ ہے جس کا بھرپور فائدہ اٹھاکر ہم غربت اور پسماندگی کو دور کرسکتے ہیں اور آنے والے وقت میں بہتری کی صورت میں کامیابی مل سکتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان اور افغانستان کے اقتصادی، معاشی، سیاسی اور عوامی تعلقات بڑھیں گے اور ان مضبوط تعلقات کو دنیا میں ایک مثال قراردیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ ہم پڑوسی بھی ہیں، ہمارا مذہب بھی ایک ہے اور ہماری ثقافت اور زبان بھی ایک جیسی ہے، ہم اپنی اس سوچ کو دونوں طرف سے پروان چڑھا کر کامیابی کی جانب گامزن ہوسکتے ہیں پیار محبت خلوص دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان ہے جس کی بہت زیادہ اہمیت ہے، اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے افغان وفد کے سربراہ نے پرجوش استقبال پر وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کیا انہوں نے کہا کہ وفدمیں شمالی افغانستان سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی وسینٹ شامل ہیں، وفد کا دورہ باہمی تعلقات کی بہتری کی جانب قدم اور دونوں ممالک کی سیاسی جماعتوں میں تعلقات کا فروغ ہے، ہم صرف ہمسایہ ہی نہیں بلکہ دینی بھائی بھی ہیں اور اس ناطے ایک دوسرے پر حق رکھتے ہیں، انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے استحکام کو تسلسل کے ساتھ قائم رہنا چاہیئے، اور قیادت اگر غلطی کرے تو اسے عوامی مفادات پر اثرانداز نہیں ہونا چاہئے، انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کو دوسرا گھر سمجھتے ہیں، پاکستان کے ساتھ برادرانہ معاشی تعلقات افغانستان کے عوام کی خواہش اور ان کی پارٹی کی پالیسی بھی ہے، ان کا دورہ باہمی تعلقات کے لئے مفید ثابت ہوگا، انہوں نے کہا کہ پاکستان کئی سالوں سے افغان پناہ گزینوں کی مہمانداری کررہا ہے اور پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کا ساتھ دیا جس کے لئے ہم شکرگزار ہیں، انہوں نے کہا کہ پشاور جلال آباد موٹروے اور سی پیک میں افغانستان کی شرکت کے دوررس نتائج سامنے آئیں گے اور افغانستان کو گرم پانیوں تک آسان رسائی مل سکے گی، انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیاں دور ہونی چاہئیں اور دونوں جانب کے سیکیورٹی حکام مل بیٹھ کر سیکیورٹی معاملات کو طے کریں، بعدازاں وزیراعلیٰ کی جانب سے وفد کے اراکین کو تحائف پیش کئے گئے اور ظہرانہ دیا گیا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*