زینب الرٹ جوابی ردعمل اور بازیابی بل مطلوبہ الرٹس کو بڑھائےگا ، شیریں مزاری

dr shireen mazari

اسلام آباد (این این آئی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ زینب الرٹ جوابی ردعمل اور بازیابی بل مطلوبہ الرٹس کو بڑھائے گا اور دارلحکومت اسلام آباد کے علاقے میں گمشدہ، بھگائے گئے، نابالغ بچوں کے ساتھ زیادتی یا اغوا ہونے والوں کی بازیابی کیلئے ردعمل کا آغاز کرے گا۔ بدھ کو سینٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کی زیر صدارت پارلیمنٹ لاجز کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوا۔ فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں گمشدہ اور اغواءشدہ بچوں کیلئے الرٹ کو بڑھانے، جوابی ردعمل اور بازیابی کیلئے احکامات وضع کرنے کا بل (زارا)کا شق وائز تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وفاقی وزیربرائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیری مہر النساء مزاری نے بل کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ زارا بل کو پارلیمنٹ کی کمیٹی نے آٹھ ماہ تفصیلی بحث اور مشاورت سے تیار کیا ہے۔زارا بل 2020میں وزارت قانون سے بھی مشاورت کی گئی ہے یہ بل اسلام آباد کی حدود کیلئے ہے۔انہوں نے کہا کہ زینب الرٹ جوابی ردعمل اور بازیابی بل مطلوبہ الرٹس کو بڑھائے گا اور دارلحکومت اسلام آباد کے علاقے میں گمشدہ، بھگائے گئے، نابالغ بچوں کے ساتھ زیادتی یا اغوا ہونے والوں کی بازیابی کیلئے ردعمل کا آغاز کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے خلاف تشدد و زیادتی کے وقعات ملک بھر میں بہت زیادہ بڑھ چکے ہیں اس بل کی بدولت موجودہ قوانین اور طریقہ کار کو گمشدہ اور اغوا شدہ بچوں کی بازیابی کا پتہ لگانے کی موثر نگرانی کو تقویت ملے گی۔ جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ بچوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے زیادتی اور اغواء کے واقعات کو ختم کرنے کیلئے بل کو زیادہ سے زیادہ موثر بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بل کا تفصیلی جائزہ لے کر 7پوائنٹس کا ڈرافٹ تیار کیا ہے بل میں والدین سے تاوان وصول کرنے کا ذکر نہیں تھا اور دیگر خامیاں بھی موجود ہیں جن کو دور کیا جائے گا۔ سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ ابھی اس بل کا اطلاق صرف اسلام آباد کے علاقے تک محدود ہے ایسا طریقہ کار واضع کیا جائے کہ اس بل کا اطلاق پورے ملک کیلئے بنایا جا سکے۔ اراکین کمیٹی، وزارت قانون اور وزارت انسانی حقوق 7پوائنٹس کے ڈرافٹ کا جائزہ لے لیں کمیٹی آئندہ اجلاس میں فیصلہ کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ نے پہلے ہی 18سال سے کم عمر بچوں کی شادیوں کو روکوانے کیلئے چالڈ میرج بل پاس کر دیا ہے اور سعودی عرب جیسے ملک نے بھی 18سال سے کم عمر بچوں کی شادیوں پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے معذور افراد کے بل 2020کے حوالے سے کہا کہ کچھ اراکین کمیٹی نے بل کو مزید موثر بنانے کے حوالے سے تجاویز تیار کی ہیں ا±ن کا جائزہ لے کر بھی آئندہ اجلاس میں فیصلہ کیا جائے گا۔ فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز پروفیسر ڈاکٹر مہر تاج روغانی، محمد علی خان سیف، ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی، محمد عثمان خان کاکڑ اور کشوبائی کے علاوہ وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیری مہر النساءمزاری،ڈی جی وزارت انسانی حقوق محمد ارشد، ڈی جی وزارت انسانی حقوق محمد حسن منگی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*