کو ئٹہ سمیت دیگر اضلا ع میں شد یدبرفبا ری اور با رش

صو با ئی دا ر الحکومت کوئٹہ میں کا فی عر صے کے بعد شد ید بر فبا ری ہو ئی جبکہ اس سے قبل با ر شیں بھی بہت زیا دہ ہو ئیں جس کے نتیجے میں مختلف و ا قعا ت میں متعد اد افر اد ج
ا ں بحق اور زخمی بھی ہو ئے اس دو ر ان قو می شا ہر ا ہیں ٹر یفک کے لیے بند رہیں جس کے با عث گا ڑ یو ں کی لمبی قطا ریں لگ گئیں اور مسا فر وں خصو صاً بز ر گوں ،عو رتوں اور بچوں کو بہت تکلیف کا سا منا کر نا پڑ ا اس سے قبل ہو نیو الی با رشوں کی وجہ سے نشیبی علا قے زیر آب آ گئے اس طر ح شہر کی سٹر کیں ند ی نا لو ں کا منظر پیش کر نی لگیں اکثر شا ہر اہوں کو ٹر یفک کے لیے بحا ل بھی کیا گیا مگر اہم شا ہر ا ہیں جن میں کو ژ ک ٹا پ
شا مل ہیں اب تک ٹر یفک کے لیے بحا ل نہیں ہو سکی۔
صو با ئی دا ر الحکومت کوئٹہ میں کا فی عر صے کے بعد شد ید بر فبا ری کا ہو نا بلا شبہ بہت ہی خو شی کی با ت ہے کیو نکہ
ا س سے زیر ز مین پا نی میں جہا ں اضا فہ ہو گا و ہا ں زمینیں بھی ز رخیز ہو نگی اور اس طرح صوبے میں زر اعت کو بہت فا ئد ہ پہنچے گا کیونکہ بلوچستان میں جہا ں آبا دی کا ایک بڑ احصہ
ز ر اعت کے شعبے سے منسلک ہے لیکن یہا ں کوئی بہت بڑ ادر یا اور دیگر نہر ی نظا م نہیں ہے اور اس طرح آ بپا شی کا زیا دہ
تر انحصا ر با ر ش اور بر فبا ری پر ہے اس سا ل با رشوں اوراب بر فبا ری کا ہو نا بلا شبہ اللہ تعا لیٰ کی ایک بڑ ی رحمت ہے لیکن افسو س کی با ت یہ ہے کہ ہما رے صو بے کی یہ بد قسمتی ہے کہ یہا ں جب بھی با ر ش یا بر فبا ری ہو تی ہے تویہ لو گوں کے لیے رحمت کی بجا ئے زحمت بن جا تی ہے جس کی وجہ متعلقہ
ادا روں کا اپنے فر ائض کی انجام دہی میں کو تا ہی ہے یہا ں جب بھی با ر ش ہو تی ہے تو اس سے نشیبی علا قے جن میں
مصر و ف علا قے بھی شا مل ہیں ند ی نالوں کا منظر پیش کر تے ہیں جس کی وجہ نا لیو ں کی صفائی نہ ہو نا اور شہر کی سٹر کیں کی اصولوں کے مطا بق تعمیر جیسے عوا مل ہیں یہ عمل ہر سا ل
با رشوں کے با عث پیش آتا ہے لیکن اس کو حل کرنے کی
جا نب کوئی پیش رفت نہیں ہو تی اس کے بعد سب سے
زیا دہ تکلیف زد ہ عمل با ر ش یا بر فبا ری کے ہو تے ہی بجلی کا چلے جا نا ہے اور اب اس ڈو ر میں گیس بھی شا مل ہو گئی ہے اس کے سا تھ سا تھ مو ا صلا تی نظا م اور مو با ئل کا کا م بھی بند ہو جا نا شا مل ہے۔
ہم سمجھتے ہیں یہ بہت ہی تکلیف دہ عوامل ہیں جہا ں با ر ش اور بر فبا ری کے بعد جب شد ید سر دی ہو جا تی ہے وہاں بجلی اور گیس کا غائب ہو جا نا اور اب اس کے سا تھ
سا تھ مو اصلا تی نظا م بھی در ہم بر ہم ہو نا بہت ہی افسو س
نا ک اور قا بل مذمت اقد ام ہیں اس صو رت میں عوام کو
شد ید مشکلا ت کا سا منا کرنا پڑ تا ہے خصوصاً سو ئی گیس کا
غا ئب ہو نا تو بہت ہی تکلیف دہ عمل ہے اس کا غا ئب ہو نا
عوا م کیسا تھ بہت بڑ ی زیا دتی کے متر ادف ہے کیو نکہ سو ئی سد رن گیس کمپنی ہر سا ل مو سم سر ما میں عوام کو گیس سپلا ئی کرنے میں بر ی طر ح نا کام رہی ہے یہ عمل گذشتہ کئی سالوں سے جا ری ہے جس پر اب تک قا بو نہیں پا یا جا سکا جو کہ مذکو رہ کمپنی کے لیے ایک بہت بڑ ا لمحہ فکر یہ ہے اس کے سا تھ
سا تھ با ر ش کے ایک قطر ے کے گر تے ہی بجلی کا بھی چلا جا نا بہت ہی تکلیف د ہ عمل ہے اور اس کے ٹھیک ہونے میں وقت لگ جانا بھی ٹھیک نہیں ہے۔
اس لیے یہا ں ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ اداروں کو اپنی کا ر کر دگی بہتر بنا نے کے لیے احسن اقد ا ما ت کر نے چا ہئیں کیونکہ ان کا تعلق بر اہ راست عوام سے ہے اور عوام کو بہتر سہو لتیں فر اہم کر نا ان کا فر ض ہے جس میں کو تا ہی کرنا ان کو زیب نہیں دیتا جس طرح عوام ان کو اپنے ذمہ
وا جب الا دا وا جبا ت ادا کرنے کے پا بند ہیں اس طرح ان اداروں کو عوام کو بہتر سر و سز فر اہم کر نا بھی انتہا ئی نا گز یر ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*