مودی کی اہلیہ … بے بس مگر خاموش !

تحریر:اصغر علی شاہ
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہمہ وقت انسانی حقوق کا راگ الاپتے رہتے ہیں اور اس ضمن میں ایسے ایسے نکتے بیان کرتے ہیں کہ بادی النظر میں معلوم ہوتا ہے کہ ان سے زیادہ انسانی حقوق کا احترام کرنے والا کوئی شخص روئے زمین پر موجود ہی نہیں۔ آل انڈیا ریڈیو سے اپنے ماہانہ پروگرام ”من کی بات“ میں موصوف انسانی اقدار سے متعلق اقوالِ زریں کی گردان کرتے رہتے ہیں،
لیکن جب ان کی زندگی پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تو پوری حیات انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں سے عبارت ہے۔ ان کی زندگی کا ایک بھی ایسا شعبہ نہیں جس میں انسانیت کے خلاف جرائم کی جھلک نظر نہیں آتی۔ ان کے قول و فعل میں اس قدر تضاد ہے کہ سمجھ نہیں آتی کہ اس پر تبصرہ کیا بھی جائے تو کیا؟۔ سبھی جانتے ہیں کہ نریندر مودی نے اپنی پوری زندگی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف اس قدر انسانیت سوز مظالم کا ارتکاب کیا ہے کہ تاریخ بھی اس کا تذکرہ کرتے شرمندہ ہو جاتی ہے، مگر اس معاملے کا یہ پہلو اور بھی افسوس ناک ہے کہ موصوف نے خواتین کے تناظر میں بھی تمام عمر استحصال کی بدترین روش اپنائے رکھی ہے۔ خود کو حقوق نسواں کا علمبردار قرار دینے والے نریندر مودی کی اپنی اہلیہ یشودھا بہن پٹیل کرب میں اپنی زندگی بسر کر رہی ہیں۔
یاد رہے کہ 2014 تک تو نریندر مودی اپنی اہلیہ کے وجود تک سے ہی انکاری تھے۔ 2014 میں بحیثیت امیدوار برائے وزیراعظم اپنے کاغذات نامزدگی داخل کرتے ہوئے مودی کو چار و ناچار زوجہ کے خانے میں اپنی بیوی کا نام لکھنا پڑا۔ اس سے قبل وہ طویل عرصہ یعنی اکتوبر 2001 سے مئی 2014 تک گجرات کے وزیراعلیٰ کے طور پر کام کرتے رہے لیکن کبھی بھی اپنی اہلیہ کے وجود کا اقرار نہیں کیا۔
2014 میں بھی مجبوراً یشودھا بہن کا نام تحریر کرنا پڑا ورنہ اس کے بعد سے اب تلک چوبیس گھنٹے انسانی حقوق کا جعلی لبادہ اوڑھے رکھنے والے مودی نے کبھی اس بارے میں کوئی تذکرہ نہیں کیا۔
اس سے زیادہ افسوسناک مقام اور کیا ہو گا کہ وقت حاضر کے بھارتی وزیراعظم کی اہلیہ کے وزیراعظم ہاﺅس میں داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے۔
انھیں وزیراعظم ہاﺅس میں داخل ہونے کی اجازت تک نہیں، مگر وفا شعار خاتون کوئی شکایت اپنی زبان پر لائے بغیر ایک استانی کی حیثیت سے نوکری کرتے ہوئے اپنا پیٹ پالتی رہیں اور اب ریٹائرڈ زندگی گزار رہی ہیں۔ انھوں نے شادی کے فوراً بعد سے مودی کی طرف سے داد رسی نہ ہونے کے باوجود اپنی تعلیم مکمل کی اور بحیثیت استاد کیریئر بنایا۔تدریس سے ریٹائر، یشودھا بہن انتہائی سادہ زندگی گزار رہی ہیں۔ واضح رہے کہ موصوفہ سے مودی کی شادی 1968 میں وڈنگر (گجرات) کے مقام پر ہوئی تھی۔ ستم ظریفی یہ کہ وزیراعظم کی اہلیہ کی حیثیت سے یشودھا کو سیکورٹی تو حاصل ہے لیکن انھیں ابھی تک یہی معلوم نہیں کہ انکی حیثیت کیا ہے، سیکورٹی پر مامور اہلکار ان کے احکام کو ماننے کی بجائے وزیراعظم سے ہدایات لیتے ہیں، یوں اس قدر سیکورٹی کے باوجود وہ خود کو قیدی تصور کرتی ہیں جن کی سننے والا کوئی نہیں۔ مستزاد یہ کہ RSS کے کئی رہنما اس قسم کے تعلقات کار کا یہ فائدہ بتاتے ہیں کہ اپنی بیویوں سے دوری قائم کر کے سیاستدانوں کو مزید کامیابی مل سکتی ہے اور نریندر مودی جیسا عام چائے بیچنے والا شخص بھی وزارت عظمیٰ کے منصب پر براجمان ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ یشودھا 1952 میں پیدا ہوئیں، والدہ اس وقت فوت ہوگئی جب وہ دو سال کی تھیں۔ نریندر مودی اور ان کی وڈ نگر کی گھانچی تیلی ذات کے رواج کے مطابق شادی ہوئی۔ یہ امر دلچسپ ہے کہ اس وقت مودی تیرہ سال کے تھے۔ خاندانی رسم و رواج کے مطابق، انہوں نے 1968 میں، جب مودی 18 سال کے ہوئے تو ان کے ساتھ رہنا شروع کیا لیکن یہ دورانیہ انتہائی کم ثابت ہوا۔ فورا بعد ہی مودی اپنی اہلیہ سے الگ ہوگئے اور سنیاس کی مشقیں کرتے ہوئے ہر قسم کی آوارہ گردیوں میں مصروف ہو گئے۔ یشودھا کچھ مہینوں تک مودی کے اہل خانہ کے گھر پر رہیں مگر دو سال بعد اس کے والد کا انتقال ہوگیا۔ انھوں نے تعلیم جاری رکھی اور 1972 میں ثانوی اسکول کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔ تین سال کے بعد مودی گھر واپس آئے اور اپنے کنبہ سے رابطہ کیا۔ انہوں نے اپنی بیوی کے بغیر اپنے چچا کی کینٹین میں کام کرنے احمد آباد جانے کا منصوبہ بنایا۔
یشودھا کا اندازہ ہے کہ اس نے اپنے شوہر کے ساتھ محض تین سے چار ماہ گزارے۔ مودی کے جانے کے بعد، انھوں نے پرائمری اسکول میں ٹیچر بننے کیلئے مزید تعلیم حاصل کی، اور 1978–1990 میں بنس کنتھا ضلع میں پڑھایا۔ 1991 میں وہ راجوسانہ گاو¿ں چلی گئیں اور وہیں رہیں۔ وہ ریٹائر ہوچکی ہیں اور انکی پنشن تقریباً 14000 ماہانہ ہے۔ ایک انٹرویو میں یشودھا نے کہا تھا کہ ”ہم کبھی رابطے میں نہیں رہے ہیں، ان کے جانے سے آج تک کوئی بات چیت نہیں ہوئی اور مجھے ان سے کوئی خاص گلہ نہیں۔
” وہ اپنے بھائی اشوک اور ان کی اہلیہ کے ساتھ اَنجھا میں رہتی ہیں اور انتہائی سادہ زندگی گزار رہی ہے۔ اس ضمن میں یہ بات خصوصی توجہ کی حامل ہے کہ موصوفہ نے شوہر پرستی کی انتہا کرتے ہوئے کبھی میڈیا میں مودی جیسی انسان دشمن شخصیت کو بھی کھل کر ہدف تنقید نہیں بنایا، اگرچہ آف دی ریکارڈ ہونے والی گفتگو میں اپنے قریبی عزیز و اقارب کے ساتھ مودی کی انسان دشمن حرکات اور اخلاق باختگی پر تاسف کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ بہرحال اسے حالات و واقعات کی ستم ظریفی قرار دیا جائے یا پھر کچھ اور کہا جائے کہ اس بابت بھی بہت سی گفتنی و نا گفتنی باتیں کہی جاتی ہیں جن کا تذکرہ فی الحال مناسب نہیں۔
٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*