تازہ ترین

عالمی جنگ نہیں ہو گی

تحریر : محمد نفیس دانش
پاکستان میں مہنگائی ہو یا بدامنی ہمیں ہر شخص یہ کہتا نظر آتا ہے کہ اس کی وجہ امریکا ہے، امریکی پالیسی سازوں نے ہمیشہ پاکستان مخالف پالیسیاں بنائی یا نہیں بنائیں لیکن یوں سمجھ لیں کہ ہمیں بچپن میں گ±ھٹی ہی امریکا کی مخالفت کی ملتی ہے، اس لئے امریکا کے خلاف عوامی رائے عامہ ہموار کرنا پاکستان میں کسی کے لئے بھی کوئی مشکل کام نہیں ہے، گزشتہ دنوں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اپنے ساتھیوں سمیت امریکی ڈرون اٹیک میں مارا گیا، اس کے اسباب کیا تھے، جنرل قاسم سلیمانی کون تھے، ان کی ہمارے پیارے وطن پاکستان سمیت دیگر اسلامی ممالک کے بارے میں کیا سوچ تھی اس بات سے قطعی نظر کیونکہ مارا امریکا نے تھا اس لئے انسانی ہمدردی اور مظلومیت کا سارا وزن جنرل سلیمانی کے پلڑے میں آگرا، ویسے تو ہم پاکستانی ہیں اور جب کوئی عالمی سطح کا مسئلہ ہو تو ہمیں سب سے پہلے پاکستانی بن کر ہی سوچنا چاہیئے، لیکن ایک لمحے کے لئے ہم پاکستانی بن کر نہ بھی سوچیں تو اپنے آپ سے جنرل قاسم سلیمانی کے بارے میں چند سوالات ہمیں ضرور کرنے چاہیئں۔
ہماری نظر میں اگر جنرل قاسم کے جنازے میں شریک ہزاروں افراد ہوں تو پھر شام کے کیمپوں میں موجود لاکھوں یتیم بچے بھی ہمارے نظروں سے اوجھل نہیں ہونے چاہیئں، ہمارے مین اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس وقت جنرل قاسم سلیمانی کو امریکا اور اسرائیل کا اینٹی بنا کر پیش کیا جارہا ہے، ٹرمپ کے جارحانہ بیانات کے مقابل ایرانیوں کے جارحانہ بیانات دکھائے جارہے ہیں جنہیں دیکھ کر مجھے علامہ علی شیر حیدری شہید کی وہ پیش گوئی درست ہوتی نظر آرہی ہے جس میں امام اہلسنت نے فرمایا تھا کہ یہ تاثر پیدا کیا جائے گا کہ ریاست پاکستان اور پاکستان کی فوج کچھ نہیں کرتی جبکہ ایرانی ریاست اور ایرانی فوج بہادر ہے وہ امریکا سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتی ہے، اس تاثر کا نقصان یہ ہوگا کہ پاکستان کے عوام اپنی ہی فوج اور اپنے ہی اداروں سے بدگمان ہوجائیں گے، ان کی بے توقیری کریں گے اور ایرانیوں کو اپنا ہیرو سمجھنے لگیں گے۔
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ لاکھ اختلاف کے باوجود ہماری ریاست ہمارے لئے سب سے مقدم ہونی چاہیئے اور ہمیں اپنی پاک فوج کا ہمیشہ غیرمشروط ساتھ دینا چاہیئے، جو بھی فرد ریاست پاکستان یا پاک فوج کے بارے میں ہمیں بدگمان کرنے کی کوشش کرے تو سمجھ لیں کہ وہ ہمارے ذہنوں میں میٹھا ذہر گھول رہا ہے، پھر آتے ہیں جنرل قاسم سلیمانی کی امریکا مخالفت پر، سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا پر مچی اس دھوم میں میں نے بہت کوشش کی کہ مجھے کہیں سے کوئی خبر مل جائے کہ جنرل قاسم سلیمانی نے اتنے امریکی فوجی مارے یا جنرل سلیمانی نے اتنی بار اسرائیل پر حملہ کیا، جب لاکھ کوشش کے باوجود مجھے جنرل قاسم سلیمانی کی کوئی ایسی کاروائی نہ ملی تو مجھے بہت حیرانگی ہوئی کہ یہ کیسے امریکا اور اسرائیل مخالف جرنیل تھے کہ جنہوں نے کبھی نہ اسرائیلی فوجی مارے اور نہ ہی امریکی فوجی مارے، نہ براہ راست امریکا کو کبھی کوئی نقصان دیا اور نہ ہی کبھی اسرائیل کو براہ راست کوئی نقصان پہنچایا، جنرل قاسم سلیمانی کے بارے میں یہ بات زیادہ مشہور ہے کہ وہ پراکسی جنگوں کے ماہر تھے، اب سوال یہ ہے کہ ان کی پراکسی جنگوں کا میدان کونسے ممالک بنے جب آپ یہ فہرست بنائیں گے تو آپ حیران ہوں گے کہ انہوں نے پراکسی جنگ بھی امریکا اور اسرائیل میں نہیں لڑی بلکہ ان کی پراکسی جنگوں کا مرکز عراق، شام، لبنان، یمن، افغانستان اور ہمارا پیارا پاکستان بنے۔
شام کے 10 لاکھ یتیم بچوں کی دہائی کو دنیا سنے کہ وہ کسے کوس رہے ہیں، شام میں 6 لاکھ لوگ ظلم و بربریت کا شکار ہوئے انہیں بے دردی کے ساتھ شہید کیا گیا کوئی ورثا سے جا کر قاتل کا نام پوچھے، شام میں انسانیت کی تذلیل ہوئی، اس سے پہلے نائن الیون کے بعد 2001 میں جب امریکا نے افغانستان پر چڑھائی کی تو جنرل قاسم سلیمانی اس وقت شمالی اتحاد اور احمد شاہ مسعود کے کندھے سے کندھا ملا کر امریکیوں کے اتحادی بنے کھڑے تھے، عراق میں صدر صدام حسین پر امریکا نے حملہ کیا اور سقوط بغداد ہوا تو جنرل قاسم سلیمانی اس وقت بھی امریکی کیمپ میں تھے، صدر صدام کی حکومت ختم کر کے ایران نواز حکومت قائم کی گئی، ایران اور امریکا کے ہر مخالف کو چن چن کر عراق میں مارا گیا جنرل سلیمانی امریکی اتحادی تھے، پھر 3 جنوری 2020 آیا اور ٹرمپ کے حکم پر امریکیوں نے ڈرون حملے میں ساتھیوں سمیت بغداد عراق میں ہی جنرل قاسم سلیمانی کو نشانہ بنایا تو میڈیا پر انہیں امریکا مخالف بنا کر پیش کیا جارہا ہے، مجھے ذاتی طور پر اس بات پر بھی اعتراض نہیں لیکن اگلا خدشہ یہ ہے کہ جیسے جنرل سلیمانی تھے بقول میڈیا کے امریکا اور اسرائیل مخالف اور پراکسی جنگیں اسلامی ممالک میں لڑیں اسی طرح اب ایرانی بدلہ لینے کا اعلان کر رہے ہیں۔
ایرانی امریکا اور اسرائیل سے کل نہیں آج ہی بدلہ لیں، امریکا اور اسرائیل غارت ہوجائیں ان کے نقشے دنیا سے مٹ جائیں مجھے غم نہیں ہوگا لیکن بدلے کے نام پر اگر بے گناہ و نہتے شامی، عراقی، افغانی اور پاکستانی نشانہ بنے تو یقین جانیں مظلوموں اور محکموں کا کلیجہ پھٹ جائے گا، یہ بات بھی ذہن نشین کر لیں کہ اس وقت دنیا میں 57 ممالک ایسے ہیں جو اپنے آپ کو اسلامی ممالک کہتے ہیں، ان 57 میں ایران بھی شامل ہے، اس میں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان 57 ممالک میں یہودی سب سے زیادہ ایران میں آباد ہیں اور اپنے آپ کو محفوظ بھی تصور کرتے ہیں، ان 57 ممالک میں یہودیوں کی عبادت گاہ کلیسا سب سے زیادہ ایران میں ہی ہیں، لیکن ایرانی پھر بھی اسلامی دنیا کے سامنے یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ہم یہودیوں کے سب سے بڑے مخالف ہیں اور اسرائیل اور یہودیوں کو سب سے زیادہ خطرہ ایران سے ہے، بہرحال میرا مﺅقف آج بھی یہی ہے کہ ایران اور امریکا فطری طور پر اتحادی ہیں۔
جنرل قاسم سلیمانی ممکن ہیاب امریکا کے کام کے نہ رہے ہوں یا ان کے سینے میں ایسے راز آ گئے ہوں جس سے امریکا کے لئے مستقبل میں وہ خطرہ بن سکتے ہوں اس لئے انہیں راستے سے ہٹا دیا گیا ہے، یہ بات اس سے زیادہ کچھ نہیں ہوگی، میڈیا پر جاری بھڑکوں پر مت جائیں، نہ عالمی جنگ کا کوئی خطرہ ہے، نہ اسلام کے وجود کو مٹانے کی امریکا میں طاقت ہے، اسلام کے نام پر کسی دھوکے میں مت آنا، اپنے پیارے وطن پاکستان کا خیال رکھنا، پیارے پاکستان کے وجود پر کبھی کوئی زخم نہ آئے، اس کے لئے کوشش بھی کرنا اور دعا بھی کرنا کہ پاکستان سلامت رہے، تاقیامت رہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*