بارشوں اور برفباری سے قیامت ٹوٹ پڑی،93افراد جاں بحق

heavy snow fall in pakistan

لاہور/مظفر آباد /کوئٹہ (آئی این پی) آزاد کشمیر میں 62 اموات، وادی نیلم میں تودے میں پھنسے افراد کی تلاش جاری، بلوچستان میں 20، پنجاب میں 9 اور سندھ میں ایک شخص زندگی کی بازی ہار گیا، ملک بھر میں بارشوں ، برفباری،مٹی اور برفانی تودے گرنے سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 93سے زائدہوگئی ، مزید ہلاکتوں کا بھی خدشہ ہے

ادھروزیراعظم نے این ڈی ایم اے اور افواج پاکستان کو آزاد کشمیر میں برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ افراد کو ہنگامی تعاون فراہم کرنے کی ہدایت کر دی ۔منگل کونیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری افسوسناک فہرست کے مطابق سرگن میں برفانی تودہ گرنے سے 52 مکانات مکمل تباہ جبکہ متعدد افراد لاپتا ہو چکے ہیں۔آزاد کشمیر میں بارش اور برف باری سے ہلاکتوں کی تعداد 62 ہوگئی ہے جبکہ وادی نیلم میں برفانی تودے میں پھنسے مزید افراد کی تلاش اب بھی جاری ہے۔پاک فوج کے جوان اور رضاکار امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ لوات، شونتھر، کیل، دودھنیال، پھولاوئی اور شاردہ میں 16 افراد قدرتی آفت کی بھینٹ چڑھے۔ادھر بلوچستان میں مختلف حادثات میں 21 افراد جاں بحق جبکہ 35 گھر تباہ ہو چکے ہیں۔ چمن سے کوئٹہ شاہراہ جزوی بحال کر دی گئی ہے تاہم مری اور گلیات میں راستے بند ہیں۔ برف میں پھنسی گاڑیوں کو نکالنے کیلئے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ کان مہترزئی سے 200 افراد کو نکال لیا گیا ہے۔خیبر پختونخوا میں بارش کے دوران مختلف حادثات میں 3 افراد زخمی ہوئے جبکہ پنجاب میں بارش سے چھت گرنے اور کرنٹ لگنے سے 9 اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ راجن پور 3، خانیوال 5 اور جھنگ میں ایک شخص جاں بحق ہوا۔ دوسری جانب سکھر میں بھی ایک شخص چھت گرنے سے جاں بحق ہوا۔سرگن حادثے میں 53 افراد زخمی ہوئے جنہیں آرمی ہیلی کاپٹر کے ذریعے قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ مقامی رضاکار اور پاک فوج کے جوان امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں لیکن راستوں کی بندش کے باعث امدادی سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق گزشتہ روز سرگن حادثے کے زخمیوں اور جان بحق افراد نے برفانی تودہ کے خدشے کے ہی پیش نظر محفوظ مقام پر پناہ لے رکھی تھی جہاں وہ لقمہ اجل بن گئے۔وادی کوئٹہ اور گردونواح میں ریکارڈ طوفانی بارشوں اور برفباری کے بعد پیداہو نے والی ہنگامی صورتحال بہتر نہیں ہو سکی ہے۔ برفباری کے بعد سردی کی شدت میں اضافہ اور درجہ حرارت نقطہ انجماد سے گر گیا ہے۔ رہی سہی کسر گیس پریشر میں کمی ساتھ ہی گزشتہ تین روز سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے بھی شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ضلعی انتظامیہ کا دعوی ہے کہ صورتحال کنٹرول میں ہے لیکن حقیقت اس کے باکل برعکس ہے۔ تین روز گزرنے کے باوجود بھی سڑکوں سے اب تک برف ہٹانے کا کوئی انتظام دکھائی نہیں دے رہا۔ ادھروزیراعظم عمران خان نے این ڈی ایم اے اور افواج پاکستان کو آزاد کشمیر میں برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ افراد کو ہنگامی تعاون فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔منگل کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر میں ٹویٹ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آزاد کشمیر میں برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہلاکتیں اور تباہی ہوئی ہے، وزیراعظم نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور افواج کو متاثرہ افراد کو ہدایت کی کہ وہ متاثرہ افراد کو ہنگامی تعاون فراہم کریں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*