”جوابی طمانچے “ کے بعد ………!

تحریر:جاوید صدیق
ایران نے امریکہ کے منہ پر ”جوابی طمانچہ“ مار دیا ہے۔ عراق میں عرابیل اور عین الاسدکے فوجی اڈوں پر ایران کی سرزمین سے بیلسٹک مزائلوں کے حملے کئے گئے ہیں۔ امریکہ کے یہ فوجی اڈے اہم ہیں۔ امریکی ماہرین کے مطابق ایران کے بائیس میزائل انہی اہداف پر گرے جن کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
امریکی صدر نے ان حملوں کے بارے میں اپنے ابتدائی ٹویٹ میں کہا ہے “ALL IS WELL” لیکن یہ بھی عندیہ دیا کہ وہ اس بارے میں تفصیلی بیان بھی دیں گے۔ پنتاگون میں ایرانی میزائل حملوں سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ ایران نے دعوی ٰکیا ہے کہ ان حملوں میں 80 امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ ایران نے اپنے فوجی افسر میجر جنرل قاسم سلیمانی کی تدفین سے پہلے ”جوابی طمانچہ“ امریکہ کے منہ پر مار دیا ہے۔ امریکہ کے میڈیا کا خیال ہے کہ ایران نے سوچ سمجھ کر حملہ اس انداز میں کیا کہ امریکی فوجیوں کو جانی نقصان نہ پہنچے اور جوابی وار کرنے کا جو اعلان سپریم لیڈر کی سطح سے کیا گیا تھا اس پر عمل بھی ہوگیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ مواد ظریف نے ایران کی جوابی کارروائی کے بعد کہا ہے کہ ایران جنگ اور کشیدگی نہیں چاہتا۔
انہوں نے یورپی ملکوں پر زور دیا کہ وہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ ایران کے جوابی کارروائی کسی حد تک ایرانی عوام کے غصہ اور احتجاج کو ٹھنڈا کرنے کی بھی ایک کوشش ہے۔ اگر ایران جوابی کارروائی نہ کرتا تو ایرانی عوام کے غیض وغضب میں اضافہ ہو جاتا۔
امریکی عسکری امور کے ماہرین اور مشرقی وسطی کی صورت حال پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایران نے اپنی طرف سے جوابی کارروائی کر دی ہے وہ مزید کارروائی شاید نہیںکرنا چاہتا اس کی خواہش ہے کہ دوسری بڑی طاقتیں مداخلت کرکے اس کشیدگی کو ختم کرا دیں۔ لیکن ایرانی سپریم کمانڈر علی خیمنائی اور صدر حسن روحانی کے بیانات میں یہ کہا گیا ہے کہ ایران خطے سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کے لیے جدوجہد جاری رکھے گا۔
حال ہی میں عراقی پارلیمنٹ نے ایک قرارداد کے ذریعہ مطالبہ کیا ہے کہ عراق سے غیر ملکی فوجیوں کو نکال دیا جائے لیکن امریکی فوجی صرف عراق میں ہی نہیں وہ کویت ‘ قطر ‘ سعودی عرب ‘ شام‘ خلیج کے کئی ملکوں میں موجود ہیں۔ پورے مشرقی وسطی سے امریکی فوجیوں کو نکالنے کا مطالبہ ایسا ہے جسے امریکہ تسلیم نہیں کرے گا۔ امریکہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے مشرق وسطی کے مختلف ملکوں میں فوجی اعتبار سے موجود ہے۔ امریکہ ایران کے لئے ان مفادات سے دستبردار نہیں ہوگا۔
ایران کے پڑوس میں خلیجی ملکوں ‘ سعودی عرب‘ شام اور دوسرے علاقوں میں امریکی فوج اس لئے بھی موجود ہے کہ امریکہ کے حلیف ملک ایران کی پالیسیوں سے نالاں ہیں۔
ان کے خیال میں۔ایران مختلف پرائسی گروپوں “PROXIES” کے ذریعہ پورے خطے کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی پالیسی پر عمل کرتا چلا آیا ہے۔ سعودی عر ب ا ور خلیج تعاون کونسل میں شامل ملک ایران کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ سے خوف محسوس کرتے ہیں اس لیے یہ ممالک نہیں چاہیں گے کہ امریکہ علاقے سے فوج ہٹالے۔
ان ملکوں کی سیکیورٹی کا انحصار بڑی حد تک امریکہ کی طرف سے فراہم کی گئی سیکیورٹی پر ہے وہ امریکی فوج کا خرچہ بھی برداشت کررہے ہیں ایران کے ان پڑوسی ملکوں سے تعلقات میں کشیدگی کی بڑی وجہ یہی ہے۔ وہ ان ملکوں کو امریکہ کا حلیف اور اتحادی سمجھتا ہے۔ ایران امریکہ کو اپنے مفادات کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔ انقلاب ایران کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ چالیس برس سے مسلسل کشیدگی چلی آ±رہی ہے۔
”مرگ بر امریکہ“ جو نعرہ 1979ء کے انقلاب ایران کے دوران لگایا گیا تھا وہ اب لگایا جارہا ہے۔ چالیس برس میں دونوں ملکوں میں کبھی بھی ایسا عرصہ نہیں آیا جس میں دونوں ملکوں میں کشیدگی اور عداوت ختم ہو۔ ایران کا ایٹمی پروگرام بھی امریکہ کوہمیشہ کھٹکتا رہا ہے۔ امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کے دباو? کے تحت ہی ایران نے ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کا سمجھوتہ کیا تھا۔ خود صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ اس سمجھوتے سے الگ ہوگئے۔ جنرل سلیمانی کے قتل کے بعد ایران نے ایک مرتبہ پھر ایٹمی ہتھیار بنانے کا اعلان کیا ہے۔
امریکہ کو مشرقی وسطی سے مکمل طور پر نکال باہر کرنا ایران کی ایک سٹرٹیجک پالیسی تو ہوسکتی ہے لیکن مستقبل قریب میں شاید اس کی یہ خواہش پوری نہ ہوسکے۔ ایران کو اپنے پڑوسی عرب ملکوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے پیش رفت کرنا ہوگی۔ ایران اگر پڑوسی ملکوں سے کشیدگی سے پاک اور اعتماد کی بنیاد پر تعلقات استوار کرے تو اس صورت میں اس کے لیے امریکی فوج کو علاقے میں نکال باہر کرنے کا خواب پورے کرنے کے امکانات زیادہ روشن ہوں گے۔
پاکستان نے ماضی میں کئی کوششیں کی ہیں ایران اور سعودی عرب میں تعلقات بہتر ہوں۔ سعودی عرب سے ایران کے تعلقات بہتر ہونے سے خلیجی ملکوں سے بھی اس کے تعلقات نارمل ہوسکتے ہیں۔ امریکہ کو طاقت کے زور پر شاید خطے سے نکالنا ممکن نہ ہو لیکن موثر اور صبرا?میز سفارت کاری سے شاید ایرانی خطے سے امریکہ کو نکالنے میں کامیاب ہو جائے لیکن اس کے لیے بڑا وقت درکار ہے۔
٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*