بلوچستان کے بیشتر اضلا ع قد ر تی گیس سے محروم

وز یر اعلیٰ بلوچستان جا م کما ل خان نے گذشتہ روز سینٹ کی مجلس قا ئمہ بر ائے پٹر ولیم کے چیئر مین سینیٹر محسن عز یز کی قیا دت میں ایک وفد سے ملا قا ت کی اس دوران انہو ں نے کہا کہ بلوچستان کے بیشتر اضلا ع قد رتی گیس سے محرو م ہیں اس کمی کو پو را کرنے کیلئے ایل پی جی پلا نٹس کی تنصیب کے منصوبے پر بھر پو ر عمل در آمد کی ضرورت ہے۔
صوبے کی تا ر یخ میں پہلی با ر جو ن میں رو ا ں ما لی سال کے بجٹ کی منظو ری کے بعد تر قیا تی منصوبوں کے ٹینڈ ر کے اجر ا ءشر وع کیا گیا اور اب تک ستر فیصد نئے منصوبوں کے ٹینڈ ر جا ری کئے جا چکے ہیں 18 ویں آئینی تر میم کے تحت صوبے کو ملنے والے اختیا رات سے بھر پو ر فا ئد ہ اٹھا نے کیلئے قا نو ن سا ز ی کا عمل جا ری ہے۔
بلوچستان کے بیشتر اضلا ع کا قد ر تی سے گیس محر وم ہو نا قا بل افسو س با ت ہے کیونکہ سو ئی گیس بلوچستان سے ہی نکل رہی ہے اور جو پو رے ملک میں سپلا ئی کی جا رہی ہے لیکن بلوچستان کے اپنے بیشتر اضلا ع میں اس کا نہ ہونا ایک بہت بڑ ا سو الیہ نشا ن ہے اس با ت کی نشا ند ہی با ر ہا مر تبہ کی جا چکی ہے لیکن اس کا کوئی اثر نہیں پڑ رہا جس کے با عث گیس سے محروم علا قے کے عوام اکسیو یں صدی میںبھی اس قد رتی نعمت سے محروم ہو کر پتھر وں کے زما نے کی زند گی گز ا رنے پر مجبو ر ہیں سوئی گیس کے حوالے سے صوبے کے سا تھ بہت ہی زیا دتیاں ہو رہی ہیں جن میں ا س کے پر یشر میں مسلسل کمی ،بھا ری بھر کم بلوں کی فر اہمی،بلو ں پر بھا ری ٹیر ف کا نفا ذ اور اس کے ہیڈ کو ارٹر کا دوسر ے صوبے کے شہر کر اچی میں ہونے جیسی زیا دتیا ں شا مل ہیں ا ن کی وجہ سے بلوچستان کے عوام کو شد ید مشکلا ت کا سا منا کرنا پڑ رہا ہے گر میوں میں گیس کاپر یشر مو سم کے حسا ب سے کم کیا جا تا ہے لیکن جب سر دی آتی ہے تو پر یشر بڑھا نے کے لیے ہیڈ کو ار ٹر کر اچی کو دیکھنا پڑ تا ہے جو وہ اپنی مر ضی سے کر تے ہیںکیو نکہ ان کو کوئٹہ کے مو سم کا کو ئی اند ازہ نہیں اگر ان کا ہیڈ کو ا رٹر کوئٹہ میں ہوتو اس میں بڑی آسانی ہو سکتی ہے۔
جہا ں تک گیس کے محروم اضلا ع میں ایل پی جی پلا نٹس کی تنصیب کے منصوبے پر عمل در آمد کے ضرورت کی با ت ہے تو اس سلسلے میں اقد امات کرنا انتہا ئی نا گز یر ہے کیونکہ اس سے ان محروم علا قوں کی ضرورت کو پور ا کیا جا سکے گا ا س سلسلے میں صوبائی حکومت کو احسن اقد امات کر نے چا ہئیں کیونکہ وہ عوام کی مشکلا ت سے بخو بی وا قف ہے اسے وفا قی حکومت جو اس کی اتحاد ی ہے کے سا منے صوبے کے اس اہم مسئلے کو حل کر وانے کیلئے کر دار ادا کر نا چا ہیئے۔
صوبے کی تا ریخ میں پہلی با ر بجٹ کے فو ر اً بعد تر قیا تی منصوبوں کا اجر ا ءکرنا صوبائی حکومت کا اچھا اقد ام ہے اور اب تک مختصر عر صے میں ستر فیصد کے ٹینڈ رز جا ری ہونا اس با ت کی غما زی کر تا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان جا م کما ل خان صوبے کی تر قی کیلئے دن را ت کو شا ں ہیں اور ان کے یہ
اقد امات بلا شبہ تا ر یخی ہیں جس کے صوبے کی تر قی پر مثبت اثر ات مر تب ہو ں گے اس طرح 18 ویں آئینی تر امیم کے تح©ت صوبے کو ملنے والے اختیا را ت سے بھر پو ر فا ئد ہ اٹھا نے کیلئے قا نو ن سا ز ی کے عمل جا ری ہونے کی با ت بھی صوبے کے بہتر ین مفا د میں اقد ام ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ان اقد امات سے بلوچستان تر قی کی منا زل طے اور پسما ند گی کے دلد ل سے نکل کر ملک کے دیگر تر قی یا فتہ صوبوں کے بر ابر آجا ئے گا اور جس کا سہرا
وزیر اعلیٰ بلوچستان جا م کما ل خان کی قیا دت میں مو جو دہ مخلوط حکومت کو جا ئے گا جو بلا شبہ ایک تا یخی اقد ام ہوگا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*