مقدمات کی بڑھتی تعداد، ہم کدھر جا رہے ہیں؟؟؟

محمد اکرم چودھری
خبر ہے کہ رواں سال ماتحت عدالتوں میں مقدمات دائر کرنے کی شرح دوہزار اٹھارہ کی نسبت دس فیصد زیادہ رہی۔ ماتحت عدالتوں میں دوہزار انیس میں دولاکھ پچانوے ہزار مقدمات دائر ہوئے۔ فیملی اور گارڈین عدالتوں میں چھبیس ہزار نو سو چون نئے مقدمات دائر کیے گئے۔ لاہور کی فیملی عدالتوں میں طلاق کے زیر سماعت مقدمات کی تعداد سولہ ہزار نو سو بتیس جبکہ پنجاب بھر میں یہ تعداد پینسٹھ ہزار کی خطرناک حد کو چھو رہی ہے۔
چونکہ ہم غیر مہذب، لاقانونیت، جھوٹ، حسد، سوچ سے عاری اور نفرت سے بھرے معاشرے کا حصہ ہیں اس لیے یہ اعدادوشمار ہمارے لیے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ اگر یہی اعداد و شمار کسی احساس بھرے معاشرے میں ہوں تو حکمران، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان منہ چھپاتے پھریں۔ حکمرانوں کی کوئی دلیل نہ مانی جائے، ذمہ داران کا عذر قبول نہ کیا جائے۔ زندہ انسانوں کے معاشرے میں اتنی بڑی تعداد میں عدالتوں سے رجوع کرنے کا واضح مطلب یہی ہے کہ ہم صبر و تحمل سے ہاتھ دھوتے جا رہے ہیں، ہم معاملہ فہمی سے بہت دور نکل گئے ہیں اور کسی صورت درگذر نہیں کرتے۔ ہر کسی کو اپنی الگ دو اینٹوں کی مسجد سے محبت ہے۔ جہاں کوئی اکیلا رہ رہا ہے اسے یہ مسئلہ ہے کہ اکیلا کیوں ہے اور جہاں ایک سے زائد افراد یا ہانچ چھ افراد رہتے ہیں انہیں مصیبت ہے کہ اکٹھے کیوں ہیں۔
ہم دو انتہاﺅں پر زندگی گذار رہے ہیں۔ عدم برداشت، غصہ اور نفرت کے جذبات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ آئندہ نسل خطرے میں نظر آتی ہے۔ یہ صورتحال اور رویے دنوں میں تو ٹھیک نہیں ہو جاتے اس کے لیے نسلوں کی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے اور ہم تو ابھی کسی تربیتی مرکز کا حصہ ہی نہیں ہیں۔ ہم تو ابھی اس طرف سوچ ہی نہیں رہے تو بہتری کیسے آئے گی۔
گذشتہ روز تین بجے کا نیوز بلیٹن دیکھ رہا تھا مختلف علاقوں سے۔ تین چار لڑائی مار کٹائی کے واقعات کی خبریں نشر ہوئیں، لڑائی جھگڑے کے ساتھ ان خبروں میں جو کچھ بتایا گیا وہ ہمارے بیرحم اور ظالم معاشرے کی عکاسی کر رہا تھا صبح ہی عدالتوں میں دائر ہونے والے مقدمات کی تعداد میں اضافے کے حوالے سے خبر پڑھی تھی۔ دوپہر میں یہ خبریں سنیں تو دل دہل گیا۔ ہم معیشت ٹھیک کر رہے ہیں۔
موڈیز کی رپورٹ پر خوش ہو رہے ہیں، آوٹ لک پر منفی سے مستحکم ہونے پر خوشیاں منا رہے ہیں، انگلینڈ سے پاﺅنڈ پاکستان آنے کو کامیابی سمجھ رہے ہیں، مخالف سیاست دانوں کو جیل میں بند کر رہے ہیں، کچھ نیب والوں کے ہتھے چڑھے ہوئے ہیں۔ ان معاملات کو دیکھتے ہوئے ہم سب سے اہم پہلو کو نظرانداز کر رہے ہیں کہ معاشرہ عادی مجرم ہوتا جا رہا ہے۔
لوگوں میں برداشت ختم ہوتی جا رہی ہے، تعلیمی اداروں میں نشے کی عادت عام ہو چکی ہے۔معیشت کی بہتری سے نا تو یہ عادات ختم ہوں گی نا ہی جرائم کی دنیا سے واپسی ممکن ہو سکے گی۔
چند دن پہلے اے ایس ایف والوں کی لڑائی کی وڈیو نے ہلچل مچائے رکھی۔ کہیں وکلاء اور ڈاکٹر دست و گریباں ہیں۔ دست و گریباں ہی نہیں لہو لہان بھی ہیں۔ کہیں مذہبی شخصیات آمنے سامنے ہیں، کہیں سیاست دان الجھ رہے ہیں، کہیں پولیس والے طاقت اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں میں فورس کی تعداد میں ناصرف اضافہ ہو رہا ہے بلکہ اس کے ساتھ نئے محکمے بن رہے ہیں لیکن جرائم کی شرح میں کمی کے بجائے خطرناک حد تک اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ہمیں اس طرف سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔
حکومت وقت کو جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح، مقدمات میں اضافے کے عوامل پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ معاشی ٹیم کے ساتھ ساتھ قانونی ٹیم کو بھی مکمل رپورٹ مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ملک میں جرائم و مقدمات کی شرح بڑھ رہی ہے۔
سب سے خطرناک بات فیملی کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ ہے۔ دیگر جرائم میں اضافہ تو اپنی جگہ میاں بیوی کے مابین بھی اعتماد اور احساس کا تیزی سے کم ہونا اخلاقی پستی کی نشاندہی کر رہا ہے۔
ٹوٹے ہوئے خاندان کے بچوں کی نشوونما اور تربیت کیسے ہو گی، کوئی والد کے بغیر اور کوئی والدہ کے بغیر ہو گا تو وہ بچہ مکمل یا نارمل کیسے ہو سکتا ہے۔
کوئی والدہ کی محبت سے محروم ہو گا تو والد کی شفقت سے کیا یہ کمی کوئی معیشت، کوئی حکومت، کوئی تقریر پوری کر سکتی ہے۔ یقیناً ایسا نہیں ہے۔
قوم کے رہنما کہلانے والے اپنے اپنے سیاسی اہداف کے حصول میں لگے ہوئے ہیں۔ کسی کو زیر کرنا ہے۔
کسی کو زچ کرنا ہے تو کسی کو ہر حال میں سخت جواب دینا ہے اس سیاسی کشمکش میں معاشرے پر پڑتے ہوئے منفی اثرات کی طرف توجہ دینے کے لیے کسی کے پاس وقت نہیں ہے۔
اگر ہم خوشحال اور پرامن پاکستان اور روشن مستقبل چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے معاشرتی مسائل کی طرف توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ کرنٹ افیئرز کے شوز میں اخبارات میں اور ڈیجیٹل میڈیا پر برداشت، تحمل مزاجی اور غصے کو پینے کی مہم چلانے اور تعلیمی اداروں میں اس حوالے سے خصوصی سیشنز کا اہتمام کرنا ہو گا۔ ہمیں نئی نسل کو مہذب پاکستان دینا ہے تو اس کا آغاز آج سے کرنا ہو گا۔ جتنی تاخیر کریں گے محنت بھی اتنی زیادہ کرنا پڑے گی۔
٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*