کوئٹہ کے مسائل جو ں کے تو ں

صوبائی دا ر الحکومت کو اس وقت بے شما ر مسائل کا سا منا ہے جن میں سب سے اہم گیس پر یشر کی کمی ،پا نی کی قلت اور گر ا نفر و شی جیسے اہم مسائل ہیں جو ختم ہونے کی
بجا ئے مز ید بڑ ھتے جا رہے ہیں جوکہ بلا شبہ ایک بہت بڑا لمحہ فکر یہ ہے۔
گیس پر یشر کی کمی پر متعلقہ کمپنی قا بو پانے پر بر ی طر ح ناکا م ہو گئی ہے شہر کے اکثر علاقوں میں اب بھی گیس پر یشرمیں مسلسل کمی ہے جس کی وجہ سے خا تو ن خانہ بڑ ی مشکلا ت دو چا ر ہیں جبکہ سر دی ہونے کے با عث بچے بوڑھے اور خواتین ٹھرٹھٹر ا رہے ہیں لیکن متعلقہ کمپنی کو اس کی کوئی پر وا نہیں ہے وہ ہر سا ل کی طرح امسا ل بھی گیس پر یشر میں کمی کو دور کرنے میں نا کام ہو گئی ہے حالانکہ اس اقد ام کے خلا ف کوئٹہ کی سیا سی پا رٹیوں نے احتجا ج بھی کیا ہے اس کے علا وہ میڈ یا نے بھی اس کی نشا ند ہی کی لیکن اس کے
با وجود اس پر کوئی اثر نہیں پڑ ا اب مو سم مز ید سر د ہو رہا ہے جس کی وجہ سے عوام کی مشکلا ت زیا دہ ہو جائیں گی مگر افسو س کی با ت یہ ہے کہ اس پرسو ئی سدر ن گسی کمپنی کے حکام کو عوام کی ا تنی بڑی تکلیف کا کوئی خیا ل نہیں ہے دو سر ی جا نب عوام کے سا تھ ایک بہت بڑ ی زیا دتی بھا ری بھر کم بلوں کی صورت میں کمپنی وصول کررہی ہے وہ مختلف ٹیکسوں اور بہا نو ں سے ہر ما ہ مختلف قسم کے بل بھیج رہی ہے اس میں گیس کی قیمتوں میں حالیہ اضا فے کی رقم بھی شا مل ہو تی ہے جس کی ادا ئیگی ایک غر یب آدمی کے بس کی با ت نہیں ہے کیونکہ اس کی آمد نی محد و د ہے جبکہ اس کے مقا بلے میں یہ بل لا محد ود ہے۔
جہا ں تک پانی کی قلت کی با ت ہے تو یہ مسئلہ بھی ایک عر صے سے چلا آرہا ہے جو متعلقہ محکمے کی بس سے با ہر ہو رہا ہے اس کے وزیر اور دیگر اہلکا ر اس سلسلے میں آ ئے رو ز عوام کو دلا سے دے اور یقین دہا نیاں کر ا رہے ہیں لیکن اس پر عملی طو ر پر اقد امات نہیں ہو رہے پانی کی قلت کی دیگر وجو ہا ت کے علا وہ آج کل ایک اور وجہ واسا کے ٹیوب ویلز کی بجلی منقطع کرنے کی ہے جس نے رہی سہی کسر پو ری کر دی ہے پانی کی قلت پر قا بو پانے کے حوالے سے ان ہی سطور میں با ر ہا مر تبہ ذکر اور حل کیلئے تجا و یز بھی شیئر کی گئی ہیں مگر ان پر عمل در آمد نہیں کیا جا رہا جس کی وجہ سے یہ مسئلہ بھی جو ں کاتوں ہے۔
پو رے ملک کی طر ح کوئٹہ میں بھی مہنگائی کی ایک خطر نا ک لہر آئی ہوئی ہے جس میں کمی کی بجا ئے رو ز بر و ز اضا فہ ہو رہا ہے اس سلسلے میں متعلقہ محکموں خصو صاً ڈسٹر کٹ پر ائس کنٹرول کمیٹیا ں با لکل غیر فعال ہو گئی ہیں ا ن کا قیمتوں پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں جس کا فا ئد ہ تا جر بر ادری نے بھر پو ر طو ر پر اٹھا تے ہوئے عوام کو دو نوں ہا تھوں سے لو ٹنا شر وع کر دیا عوا م کے با ر با ر مطا لبے کے با و جو د متعلقہ محکمے اورانتظامیہ کوئی بھی کسی قسم کے اقدامات نہیں کر رہے جس کے با عث عوام شد ید معا شی بحران سے دو چا ر ہے۔
اس لیے یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی
دا ر الحکومت کوئٹہ کے مسائل حل کرنے کیلئے تما م متعلقہ محکموں اور حکام کو فو ری طو ر پر احسن اقد ما ت کر نے چا ہئیں جو کہ انتہا ئی نا گز یر ہیں۔
امید ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان جا م کما ل خان اس سلسلے میں عوام کے مسا ئل کے حل کیلئے متعلقہ حکام اور محکموں کو ہد ایا ت دیں گے کیونکہ عوام کی وز یر اعلیٰ بلوچستان جا م
کما ل خان سے کافی امید یں وا بستہ ہیں کہ وہ ہی ان کے مسائل حل کر وا سکتے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*