پاکستان میں معذوروں کو ہمدردی نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے،میر ضیاءلانگو

کوئٹہ(خ ن)صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءلانگو نے عالمی یوم معذور افرادکے دن کے حوالے سے کہا کہ پاکستان میں معذوروں کو ہمدردی نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضروت ہے جو صوبائی حکومت نے انہیں دلانے میں کافی حد تک کامیاب ہو چکی ہیں صوبائی حکومت نے معذور افراد کے کنوینس الا¶نس میں دو ہزار روپے ماہانہ بڑھا کے اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ صوبائی حکومت باتوں پے نہیں عملی اقدامات پر کام کر رہی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسے تعلیمی اداروں کی تعمیرات یا ان میں مزید بہتری لانی ہوگی جن میں بچوں، افرادِ باہم معذوری اور صنفی اعتبار سے بھی تمام افراد کا خاص خیال رکھا جاتا ہو، ساتھ ہی انہیں محفوظ، غیر متشدد، تمام اسکولوں میں ان کی ضرورت کی ہر سہولت اور سیکھنے سمجھنے کا م¶ثر ماحول فراہم کرنا ہوگا۔پاکستان میں معذور بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے خصوصی تعلیمی ادارے احسن طریقے سے کام کر رہے ہیں۔ صوبہئِ بلوچستان میں تعلیمی ادارے سماعت و بصارت سے محروم طلبائ، ذہنی پسماندگی اور جسمانی معذوری کے شکار طلباءکو تعلیم اور پیشہ وارانہ تربیت سے آراستہ کر رہے ہیں۔ لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کیا معذور بچوں کو صرف خصوصی تعلیمی اداروں میں محدود کرکے انہیں معاشرے کا مفید اور فعال شہری بنایا جاسکتا ہے جب تک اُن تمام ماحولیاتی اور معاشرتی رکاوٹوں کی نشاندہی نہیں کی جائے اور انہیں بتدریج ختم نہیں کیا گیاتو منفرد صلاحیتوں کے حامل طلباءبھی معذور بن جائیں گے اور آگے چل کر معاشرے پر بوجھ محسوس ہوں گے۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں خصوصی بچوں کے لیے Inclusive Education System رائج ہوچکا ہے، جہاں پر عام طلباءاور خصوصی طلباءاکھٹے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ پاکستان میں خصوصی طلباءکو Inclusive Education System اور Mainstream Education System میں لانے کے لیے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کو قابلِ رسائی بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ اساتذہ کرام کو معذوری سے متعلق آگاہی دینے، خصوصی طلباءکے لیے مددگار آلات کی اہمیت اور IEP) Individual Educational Program) سے متعلق آگاہی دینے کے لیے ٹیچرز ٹریننگ پروگرامز مرتب کرنے ہوں گے جبکہ معاشرے میں معذوری سے متعلق آگاہی کے لیے عام تعلیمی نصاب میں مضامین اور کہانیاں شامل ہونی چاہئیں۔صوبائی حکومت معذور طالبات کو آرٹ اینڈ کرافٹ، کھانا پکانے، ڈریس ڈیزائیننگ اور بیوٹیشن، کمپیوٹر، انفارمیشن ٹیکنالوجی، موبائل ریپئرنگ اور آن لائن جاب کی عملی اقدامات کی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ۔ترقی یافتہ ممالک میں معذورین کے لیے قابلِ رسائی ٹیکنالوجی اور مددگار آلات دستیاب ہیںجن کی بدولت سماعت اور بصارت سے محروم افراد بھی آفس ورک باآسانی کرلیتے ہیں۔ ہمارے ملک میں بھی آجرین اور کاروباری اداروں کی انتظامیہ کو اس ضمن میں تربیت کی ضرورت ہے اور انہیں معذوری کی اقسام کے مطابق اپنے اداروں میں ملازمتیں پیدا کرنے کی آگاہی ملنی چاہیے۔پائیدار ترقی کے ہدف، جنس، معذوری، نسل، قومیت، مذہب یا اقتصادی یا دوسرے درجے کا لحاظ رکھے بغیر تمام لوگوں کو بااختیار بنانا اور سب لوگوں کی سماجی، اقتصادی اور سیاسی شمولیت کو فروغ دینا ہے۔وطنِ عزیز میں معذور افراد کی معاشی و معاشرتی بحالی کے لیے ہر سطح پر سیاسی امور میں ان کی شمولیت لازم و ملزوم ہے۔انہوں نے کہا کہ باہم معذوران سے متعلق بننے والی تعمیر و ترقی کی تمام پالیسیوں کے بارے میں اُن کی رائے شاملِ کی جائے گی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*