طلبہ لال مارچ کے اصل مقاصد

تحریر:محمداسلم خان
طلبہ یک جہتی مارچ کی آڑ میں ملک میں افراتفری پھیلانے اور فتنہ فساد کرانے کا منصوبہ شروع ہے۔ سارے ملک میں بیک وقت کئے جانے والے مارچ کو منظم کرنے والے سارے مکروہ چہرے جانے پہچانے ہیں “میرا جسم میری مرضی” کے بیباک مطالبے کرنے والی لڑکیاں نہیں جناب آزمودہ کار خواتین میدان میں تھیں پختون تحفظ موومنٹ، طلبہ کے غم میں دبلی ہو رہی ہے۔ پختون طلبہ کو گذشتہ برسوں میں What apps گروپوں کے ذریعے منظم کیا جارہا ہے مخلوط کھلی ڈھلی شبینہ مجالس میں جوانی دیوانی کو سہ آتشہ مشروبات سے بے قابو اور بے خود بنایا جاتا ہے اور لال لال انقلاب کو بچارے “چی گویرا” کی تصاویر کے ساتھ لاہور کی مال روڈ پر لایا گیا ہے۔جب لال لال لہرائے گا تب ہوش ٹھکانے آئے گا , لال والوں نے ایک مرد کو کتا بنا کر تین خواتین اس کو گلے میں پٹا ڈال کھینچتی رہیں , ان لنڈے کے لبرلز کا المیہ ھی یہ ہے ۔
کہ انکی تان خوبصورت باتوں سے ہوتی ہوئی عورت کی نام نہاد آزادی پر ٹوٹتی ہے یہ آزادی نہیں بلکہ عورت تک پہنچنے اس تک بلا روک ٹوک رسائی کی آزادی کی تحریک ہے۔ . یادرہے بی بی سی سارا دن لائیو کوریج کرتا رہا کیوں؟ بظاہر بی بی سی سارا سال مثالی اور جمہوریت پسند صحافت کرتے ہیں حزب اختلاف اور پس ماندہ طبقات کو اہمیت دیتے ہیں لیکن جب ایجنڈہ طے کرنے کا مرحلہ آتا ہے سب بھول بھال کر اپنے اہداف کے حصول کے لئے نہایت بے شرمی سے سب قواعد و ضوابط بھلا دیتے ہیں اس میں وائس آف امریکہ بھی بی بی سی کے ساتھ شانہ بشانہ اور ہم قدم ہوتی ہے۔ان لبرلز پہ شرم آتی ہے ویسے کیا ہیڈلائن چلی ہوگی بی بی سی پر کہ:Pakistan Talented girls raise there country name by making the aman Dog.جب لال لال لہرائے گاتو مرد کو کتا بنائے گاپشتون تحفظ موومنٹ PTM کے پر فریب کھیل کو سمجھنے کیلئے “فریب ناتمام”پڑھنا ناگزیر ہے جو ضروری ترامیم اور اضافوں کے ساتھ کتب بازار میں دستیاب ہے۔کامریڈ جمعہ خان صوفی کی کتاب” فریب ناتمام” ہمارے نام نہاد روشن خیال طبقے کی رونمائی کرتی ہے خاص طور پر “خانوادہ ولی باغ ” کے “تاریک” رخ روشن مکر وفریب اور پاکستانی لیفٹ کے تمام فضائل کو بے نقاب کرتی ہے۔
سر فروشی کی تمنا رکھنے والوں کو اگر کہا جائے کہ ذرا کشمیر کی لائن آف کنٹرول پر پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو جائیں تو ان لال انقلاب والوں کے چہرے پیلے پڑ جائیں گے… جو اپنی فوج اور ملک کے لئے سر فروشی نہیں کر سکتے ان کا لال یا پیلا انقلاب کیا خاک رنگ دکھائے گا۔”لال انقلاب“ کی سرخی تو ماضی کے دھندلکے میں کب کی دفن ہوئی، لہو رنگ پھریرے اب لہرانے کے پس پردہ کون سی نئی چال، کیا نیا وبال ہے؟ یہ شفق رنگ صبح نہیں، وہ ”تاریکی“ ہے جو مغرب کے بعد آتی ہے اور جس میں شیاطین کھل کھیلنے کمین گاہوں سے برآمد ہوتے ہیں۔
تعلیم مکمل کرلینے والوں کی یونیورسٹی میں ’انقلاب‘ برپا کرنے کی سرگرمیاں کس منصوبے کا حصہ ہیں؟ فیس کم کرنے کے مطالبے کرنے والوں کے پاس ملک کے ’پچاس‘ شہروں میں بیک وقت’پرامن احتجاج‘ کے نام پر سیاست کیلئے کروڑوں روپے کہاں سے آئے ہیں؟ ضیاء دور میں جیلیں بھگتنے والے ’سرپھرے‘ اور تھے، اس وقت دودھ پینے والے مجنوں آج بھی دودھ ہی پی رہے ہیں؟ جعلسازوں سے انقلاب برپا ہوا نہ کبھی ہوسکتا ہے۔ بہروپ بھرنے سے اصلیت تبدیل نہیں ہوجاتی۔ محنتی اور جفاکش گدھے پر رنگ وروغن کی فنکاری سے اس کی فطرت نہیں بدل جائے گی۔ اس کے بولنے اور حقیقت کی پھوہار ہی اس کی سچائی سامنے لے آئی گی۔ طلباء تنظیموں کے نام پر نئے ”چورن“ کی مارکیٹنگ جاری ہے۔ ”حقوق لے لو“ کی صدائیں پاکستان کے خلاف فساد پھیلانے کا نیا ”مصالحہ“ ہے جس کی تیاری ذہین منصوبوں سازوں نے بڑی ہوشیاری سے کی ہے۔
سماج کی ’دکھتی رگوں‘ کو چھیڑ کر طبقات کو قومی اداروں کے خلاف اکسانے کی یہ تازہ ترین حرکت کچھ ہی عرصہ قبل ایران میں ہوئی۔ دنیاکے کئی ممالک میں فسادیوں کو اس لبادے میں استعمال کیاگیا اور پھر چوسے ہوئے آم کی طرح تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا گیا۔ طلباء یک جہتی مارچ یا ’سٹوڈنٹ سالیڈیریٹی مارچ‘ 29ء نومبر کو 8 بڑے شہروں میں کرنے کا اعلان کیاگیا تھا۔ بعد میں دعوی کیاگیا کہ 50 شہروں میں یہ احتجاج ہوا۔ گزشتہ سال بھی اسی دن جلسے، جلوس اور احتجاج ہوئے تھے۔ ان کے چار بنیادی مطالبات ہیں۔
ان میں تعلیمی اداروں میں طلباء تنظیموں کی بحالی، مزید تعلیمی اداروں کا قیام، مناسب اور سستی تعلیم کی فراہمی اور تیرہ اپریل کو مشعال خان کا دن منایا جانا شامل ہے۔ مشال خان وہی مقتول بدقسمت طالب علم ہے جو عبدالولی خان یونیورسٹی میں اپنے ہم جماعت دوستوں کے ہجوم کے ہاتھوں قتل ہوا تھا۔ سوشلسٹ، کمیونسٹ اور کارل مارکس کے فلسفے زندہ کئے جارہے ہیں۔
”سرخے“ یا ”بائیں بازو“ کی ”دائیں بازو“ سے کشمکش کی بجھی راکھ میں پھر سے پھونکیں مارنے کی کوشش ہورہی ہے۔ وہ فلسفہ جو پہلے ہی بری طرح پٹ گیا تھا، اسے اب ایک نئے رنگ ڈھنگ میں پھر سے زندہ کیوں کیاجارہا ہے؟ یہ ہے وہ ارب ڈالر سوال جس کا جواب درکار ہے؟ اس احتجاج کا بنیادی مقصد طالب علموں کے حقوق دکھائے گئے لیکن اس آڑ میں مزدور، کسان، محنت کش، طالب علم، اساتذہ سمیت دیگر سیاسی وغیرسیاسی طبقات کو بھی شامل کرلیاگیا۔
اس میں شامل لوگوں اور تنظیموں کے پروفائل دیکھیں تو کئی حیرت انگیز پہلو منکشف ہوتے ہیں۔
اس سے پہلے پاکستان پر ”مذہبی نظریے“ کی جنگ لڑ چکا ہے، ”تکفیری نظریہ“ کو رد کردیا گیا۔ پشتونوں کے تحفظ کے نام پر جو آگ بھڑکانے کی کوشش کی گئی، اس سے خداخدا کرکے نجات ملی ہے۔
مخالف رائے رکھنے والے دلیل دے رہے ہیں کہ طلباء یک جہتی مارچ کے لئے وہی ٹیم متحرک ہے جو پشتونوں کے تحفظ کے نام سے ایجنڈے کو فروغ دے رہی تھی۔
1984 میں طلباء یونینز پر پابندی عائد ہوئی تھی۔ اس کے خلاف اس وقت کے طالب علم رہنما اعجاز چوہدری میدان عمل میں آئے تھے، جی، یہ وہی اعجاز چوہدری ہیں جو اس وقت پی ٹی آئی پنجاب کے صدر ہیں۔ یہ کالم نگار اس وقت اعجاز چوہدری کا ’بازوئے شمشیر زن‘ تھا لاہور کے گلی کوچے اس کالم نگار کی شوریدہ سری کے گواہ ہیں جسے تین بار مختلف فوجی عدالتوں میں پیش کیا گیا اور چلڈرن کمپلکس میں لگنے والی فوجی عدالت سے دن دھاڑے فرار ہونے کا شرف بھی حاصل کیا اس کالم نگار کو بچانے کے لئے اعجاز چودھری نے تھانہ وحدت کالونی میں پولیس کا وحشیانہ تشدد مسلسل تین راتیں برداشت کیا کہ ریڑھ کی ہڈی مضروب کرالی لیکن اس کالم نگار کا نام نہیں بتایا تھا اور 40 برس گذرنے کے بعد شاید اب تک hard bed استعمال کرتے ہیں۔اس وقت اس قبیل کے طالبعلم ڈکٹیر جنرل ضیا کی گود میں بیٹھے تھے۔ طالب علموں کی نعرے بازی، ڈفلی اور ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتے، بازو لہراتے، سرمستی میں بے خود ہوتے کئی چہرے ماضی میں لے گئے۔ ”اسلم خان حاضر ہو“ کی صدا جیسے ابھی گونجی اور میں فوجی عدالت میں پیش ہوں۔ اپنے ساتھی، اپنے کامریڈ دکھائی دے رہے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*