ہماری اداروں سے جنگ کی کوئی پالیسی نہیں ہے،مولانا فضل الرحمٰن

کوئٹہ(این این آئی) جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانافضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملک میں اس وقت حق حا کمیت عوام کی بجا ئے بیرونی قوتوں کے پاس ہے ہم اسٹیبلشمنٹ سمیت تمام اداروں کا احترام کرتے ہیں ہماری اداروں سے جنگ کی کوئی پالیسی بھی نہیں لیکن اداروں کو بھی آئینی حدود میں رہنا چاہئے،آزادی مارچ نے ملکی سیاسی تاریخ میں ایک روشن باب کا اضافہ کیاآزادی مارچ میں ساتھ دینے پر محمود اچکزئی اور پشتونخوا کے کارکنوں کا شکر گزار ہوں ہمارا یہ اتحاد عوامی مسائل کے حل تک جاری رہیگا مارچ نے دنیا کو پیغام دیا کہ پاکستانی عوام سلیکٹڈ حکو مت کے خلاف متحد ہیں ہم سلیکٹڈ حکومت کو نہیں ما نتے ایسے لوگوں سے لڑنا جانتے ہیں ہم غلاموں کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے،مقتدر اداروں کو مخاطب کر تے ہوئے کہاکہ وہ آئین کو مانتے ہیں آپ بھی اس کو مانیںہمار ی ادا ر و ں سے جنگ کی کوئی پالیسی نہیں لیکن اداروں کو بھی آئینی حدود میں رہنا چاہئے ہم عوام کے حقوق پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے،خان صمد شہید نے ا پنی قربانی سے تاریخ میں اپنا نام رقم کیا ہم اپنے آباو¿ اجد اد کی میر اث کے امین ہیں، امریکہ و دیگر قوتوں کی بالادستی تسلیم نہیں کرتے جنر ل مشرف نے مجھے کہا کہ آپ کیوں امریکا کی غلا می نہیں ما نتے میں نے مشرف سے کہا آپ کے بزر گو ں نے غلامی اور مجھے میرے بزرگوں نے غلامی کے خلا ف لڑنے کا راستہ بتایا۔یہ بات انہوں نے پیر کو کوئٹہ میں شہید عبدالصمد خان اچکزئی کی 46ویں برسی کے موقع پر ہاکی گرا¶نڈ کوئٹہ میں منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہی جلسے پشتونخوامیپ کے چیئرمین محمود خان اچکزئیجمعیت علماءاسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری ،پشتونخوامیپ کے سینیٹر عثمان کاکڑ،نواب ایاز خان جوگیزئی،عبدالرحیم زیارت وال ،رکن اسمبلی نصراللہ زیرے سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔ جمعیت علماءاسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ اس جلسے کے توسط سے خان شہید کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنے کردار وقربانی کی بدولت تاریخ میں اپنا نام ایسے لکھوایا جوہمیشہ رہے گا انہوں نے محمود خان اچکزئی ان کی پارٹی کے رہنما¶ں کاشکریہ ادا کیا جو آزادی مارچ میں ان کے کندھے کے ساتھ کندھا ملا کرکھڑے ہوئے انہوں نے کہاکہ اسلام آباد کے آزادی مارچ نے تاریخی اہمیت حاصل کی آج ملک میں حزب اختلاف کی تمام جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر متحد ہیں یہ قومی ملی وحدت ہے آزادی مارچ کے ذریعے پاکستانی قوم نے ایک آواز میں سلیکٹڈ حکومت کو مسترد کردیا انہوں نے کہاکہ پاکستانی قوم کو یہ قبول نہیں کہ آزاد وطن میں کوئی مداخلت کرے ہمارے حکمران انگریز کے غلام ہیں جبکہ ہمارے اکابرین کبھی فرنگی کے سامنے نہیں جھکے تو ہم فرنگیوں کے غلام درغلام کے سامنے کیونکر جھکیں گے ہم پاکستانی اداروں کی قدرکرتے ہیں اور دنیا کے ساتھ دوستی چاہتے ہیں لیکن ایسا ہرگز قبول نہیں کریں گے کہ عوام کے مینڈیٹ میں مداخلت اور ڈاکہ ڈالاجائے پاکستانی قوم ایک آزاد قوم ہے ہم کہتے ہیں کہ اگرپاکستان میں جمہوریت ہے تو عوام کے ووٹوں کی قدر کریں انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں نے عوام کو کچھ نہیں دیا مہنگائی، بے روزگاری میں اضافہ ہوا ایک کروڑ نوکریاں اور50لاکھ مکان بنا کر نہیں دیئے گئے مشرف نے ایک مرتبہ مجھے کہا کہ مولانا ہم امریکہ کے غلام نہیں ہیں میں نے کہاکہ آپ کے بزرگوں نے غلامی قبول کرنے کا راستہ بنایا ہے اورہم نے پاکستان سے وفاداری کا حلف اٹھایا ہے ہمارے بزرگوں نے انگریز کے سامنے سرنہیں جھکایا توہم انگریزوں کے غلام درغلام کے سامنے کیسے سرجھکاسکتے ہیں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ کا احترام کرتے ہیں انہیں بھی ووٹ کا احترام کرنا چاہئے انہوں نے کہاکہ دنیا نے تسلیم کیا کہ امریکہ اور دوسرے فیصلہ کرنے کے مجاز نہیں فیصلہ عوام کرینگے انہوں نے کہاکہ آزادی مارچ سے لوگوں کو بولنے حق لینے کی آزادی ملی عمران کے استعفیٰ کے بعد کسی مداخلت کے بغیر نئی حکومت بنے گی۔جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے استعفی شفاف الیکشن سمیت اپوزیشن کے چار نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پر حزب اختلاف کی تمام جماعتیں متحد ہیں موجودہ پارلیمنٹ کو کسی صورت جائز تسلیم نہیں کیا جاسکتا پاکستان کے عوام اپنی آزادی پر سمجھوتہ نہیں کرینگے جو حکمرانوں نے سکب کررکھی ہے حکومت کی نااہلی کا یہ عالم یے کہ وزیروں مشیروں کو ٹماٹر کے باو تک معلوم نہیں قوم اپنا رونا کس کے سامنے روئے حکمرانوں کے ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا اور وعویٰ کیا تھا لوگ باھر سے آکر نوکریاں پاکستان میں کر ینگے لیکن اسٹیٹ بنک کے گورنر ار چیئرمین ایف بی آر کے علاوہ کسی کو نوکری نہیں ملی حکمرانوں کی پشت پر عوام نہیں بلکہ بیرونی قوتیں ہیں جس سے عوام نجات چاہتے ہیں تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا عوام حکمرانوں کو نہ ماننے کا نعرہ بلند کریں اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پشتون خواہ میپ کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کہا کہ عوامی حقوق کیلئے آواز بلند کرنے والوں کے خلاف ایٹم بم کے علاوہ ہر طاقت استعمال کی گئی حکومت نے مختصر عرصے میں ہر ایک کو بے روزگار کیا کرپٹ لوگوں کی وفاداریاں بدل کر حکومت میں شامل کیا گیا انہوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی طاقتیں افغان مسئلہ کو حل کرنے میں کردار ادا کریں ملک میں آئین کی بالادستی چاہنے والوں کو سلوٹ کرتے ہیں اپنے وسائل کے دفاع اور ِحقوق کیلئے عوام متحد ہوکر جدوجہد کریں۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدر نے کہا کہ 25 جولائی 2018ءکے انتخابات میں بدترین دھاندلی کی گئی مولانافضل الرحمن نے روز اول سے ہی وزیر اعظم کو نااہل کہا تھا حکمران سیلیکڈہیں انہوں نے کہاکہ آرمی چیف کی توسیع کے معاملے پر حکومت نے نا لائقی کا ثبوت دیا آرمی چیف کا معاملہ جب عدالت گیا تو پتہ چلا کہ توسیع دینا وزیراعظم کا کام ہی نہیں ۔مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ عبدالصمد خان شہید کو 46 برس پہلے استعماری قوتوں کو للکارنے ہر شہید کیا خان شہید کی تحریک جاری رہے گی حق کی بات کہنے پر شہادت نوش کرتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ عوام سے کئے وعدے پورے نہ کرنے والوں کو حکمرانی کا حق نہیں ہے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*