ٓٓآئین میں واضع ہے کہ تمام ادارے پارلیمنٹ کے ماتحت ہیں،محمود خان اچکزئی

کوئٹہ(این این آئی)پشتونخوامیپ کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ آئین میں واضح ہے کہ تمام ادارے پارلیمنٹ کے ما تحت ہیں مقتدرادارے جتنے بھی طاقتور ہوںانہیں ملکی سیا ست میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے پا کستان معدنی وسائل سے مالامال ہے بیرونی قوتیں ملکی وسائل پر قبضہ کرناچاہتی ہیں اور اس کیلئے وہ اپنے مہروں سے کام لے رہی ہیں لیکن ہم واضح کر دیں کہ ہمیں پشتون عوام ک ےحقوق پرکوئی سمجھوتا نہیں ،پاکستان میں سلیکٹیڈ وزیر اعظم کی حکو مت ہے چین، ا مریکا، روس سمیت تمام ممالک پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ چور حکومت کیساتھ کسی بھی قسم کا صوبائی معدنی دولت کا منصو بہ ہمارے لئے قابل قبول نہیں ہو گا ہمیں کسی خیرات کی ضرورت نہیں ا پنے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں اگر یہاں کے وسائل کسی کو چاہئے تو ہمار ے ساتھ آکر معاہدہ کرے اس سلیکٹیڈ حکومت کا کوئی معاہدہ قبول نہیں کرینگے ،سازش کے تحت پشتون قوم کو تباہی کے دہانے پر لیجایا جا رہا ہے جس کی مذمت کرتے ہیں افغا نستا ن میں دراندازی کیلئے دنیا بھر کے جنگجوو ں کو اکٹھا کیا گیا اور آج اسکا حال سب کے سامنے ہے اور اس کے اثرات یہاں پر بھی پڑے ہیں۔یہ بات انہوں نے پیر کو شہید عبدالصمد خان اچکزئی کی 46ویں برسی کے موقع پر ہاکی گرا¶نڈ کوئٹہ میں منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ جلسے سے جمعیت کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ،جمعیت علماءاسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری ،پشتونخوامیپ کے سینیٹر عثمان کاکڑ،نواب ایاز خان جوگیزئی،عبدالرحیم زیارت وال ،رکن اسمبلی نصراللہ زیرے سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا، محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وہ اپنی جماعت اور تمام ورکرز کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کو جلسے میں آمد پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں اور درخواست کرتاہوں کہ دونوں جماعتوں کے کارکن جس طرح آج اکٹھے ہوئے ہیں اورنعرہ تکبیر کے نعرے لگارہے ہیں ہمیں اپنے بچوں کو بھی ایسی تربیت دینی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی طاقت سب سے زیادہ ہے اس کے بغیر کوئی طاقت نہیں ہے پشتونوں کے حقوق شریعت سے بھی واضح ہیں جن کی اپنی سرزمین پر تمام وسائل پر حقوق ہیں انہوں نے کہا کہ40 سالہ جنگ میں افغانسان کے اندر عیسائیوں، یہودیوں، مسلمانوں سب نے وہا ںکے عوام کے خون کے ساتھ ا پنے ہاتھ رنگے ہیں ہماری قوم کی نسل کشی وبرباری آج بھی جاری ہے ہماری سرزمین وسائل سے مالا ہے اس پر بیرونی قوتیں قابض ہونا چاہتی ہیں یہ کسی کی میراث نہیں ہے دنیائے کفر اور اسلامی قوتیں ہمیں جو خیرات دیتے ہیں وہ ہمیں نہیں چاہئے انہوں نے کہاکہ یہاں سندھی، پنجابی سرائیکی بلوچ اپنی سرزمین پر آباد ہیں جن کے وسائل پر ان کا حق ہے انہوں نے کہا کہ جنگ میں کے پی کے میں ہزاروں لوگ مرے ہیں ازبک تاجک کوکوئی نہیں جانتا تھاانہیں یہاں لایاگیا اب یہ پشتونوں سے تنگ ہیں۔ محمود خان اچکزئی نے کہاکہ اس ملک میں ایک آئین ہے سب کچھ اس میں لکھا گیا ہے پارلیمنٹ طاقت کاسرچشمہ ہے ہمیں سیاست میں مداخلت برداشت نہیں ہے لیکن یہاں جو وفاداری بدلتا ہے وہ وفادار اورجو نہ بدلے غدار کہلاتا ہے، انہوں نے کہا کہ سوویت یونین میں کے جی پی والا تجربہ ناکام ہوگا جس سے گزرکر وزیراعظم بنتا تھا سوویت یونین کے پاس اس قدر ایٹمی ہتھیار ہیں کہ وہ دنیا کو دو مرتبہ تباہ کرسکتاہے لیکن وہاںپر 16ملک آزاد ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم اس وطن کو فروخت نہیں بلکہ اس کادفاع کرنے والے لوگ ہیں جواس ملک کے آئین کو مانے گاہم اسے سلیوٹ کریں گے اس ملک کے آئین کے مطابق تمام وسائل پر عوام کا حق ہے ہم امریکہ روس اورچین سے کہتے ہیں کہ وہ اس نااہل حکومت کے ساتھ معاہدے نہ کرے انہیں ہمارے عوام کے ساتھ معاہدے کرنے ہوں گے ورنہ انہیں ہم تسلیم نہیں کریں گے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ سیلیکٹڈ حکومت نے مختصر عرصے میں ہر ایک کو بے روز گار کیاکرپٹ لوگوں کی وفاداریاں بدل کر حکومت میں شامل کیا جارہا ہے ادروں کے کنٹرول کا تجربہ روس میں ناکام ہوچکا ہے ۔محمود خان اچکزئی آئین کی بالادستی قبول کرنے والوں کو سلوٹ کرینگے وطن فروشی کرنے والے نہیں اسکا دفاع کرنے والے لوگ ہیں اپنے وطن کے حقوق کیلئے عوام متحد ہوکر جہدوجہد کریں ۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر عثمان کاکڑ ،نواب ایاز جوگیزئی ،عبدالرحیم زیارت وال ، نصراللہ زیرے اوردیگر نے کہا کہ خان شہید نے انجمن وطن تنظیم کی بنیاد محکوم اقوام کیلئے رکھی تھی آج تمام اقوام مشکلات کا شکار ہیں جنوبی شمالی پشتون خواہ اور فاٹا میں ملت مشکلات میں ہے پشتونوں کی قومی وحدت کو تسلیم نہیں کیا جارہا وسائل پر اختیار نہیں بڑی بات ہے کہ غلامی بربادی ہے آزادی کو اللہ تعالیٰ نے بڑی نعمت گردانا ہے محکوم اقوام میں برابری،پارلیمنٹ کی بالادستی اور اداروں میں مداخلت کا خاتمہ اور خود مختیار فاٹا کے حق میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہآج پنجابی سکھ کو بھائی کہا جارہا ہے لیکن پشتون کے درمیان سرحدیں قائم ہیں اور وہ اپنی میت اور شادی کیلئے پاسپورٹ کے زریعے جاتے ہیں سکھ پنجابی کیلئے پاسپورٹ کی شرط ختم کی جارہی دوہری پالسی قبول نہیں کشمیر صرف کشمیریوں کا ہے کسی مودی یا پنجابی کا نہیں ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان یونیورسٹی ہراسگی سکنڈل میں ملوث وی سی کو گرفتار کیا جائے انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ کی برکت سامنے آرہے ہے تمام پشتون علاقوں سے دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے کیلئے متحد ہیں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*