ملک کا پیسہ لو ٹنے والو ں کو نہیں چھو ڑ و نگا

وزیر اعظم عمر ان خان نے گذشتہ روز ایک تقر یب سے خطا ب کے دوران اپنے اس عز م کو دوبارہ دہر ایا ہے کہ ملک کا پیسہ لو ٹنے والے ایک شخص کو بھی نہیں چھو ڑ و ں گا انہو ں نے پی پی پی کے چیئر مین بلا ول بھٹو زر دا ری کو مخا طب کر تے ہوئے کہا کہ وہ خو د کولبر ل کہتا ہے مگر لبر لی کر پٹ ہے اگر میں جنر ل مشر ف کی طر ح مک مکا کر لو ں تو سب بیٹھ جا ئیں گے مجھے جیتنا بھی آتا ہے اور ہا رنا بھی انہو ں نے مولانا فضل الر حمن کے با ر ے میں کہا کہ ڈیز ل کے پر مٹ اور کشمیر کمیٹی کی چیئر مین شپ پر بکنے والے نے اسلام کا نام استعما ل کیا اس طرح انہو ں نے قا ئد حزب اختلا ف شہبا ز شر یف کو نیڈ ملیسن منڈ بلا بننے والا قر ار دید یا۔
وزیر اعظم عمر ان خان نے ملک کا پیسہ لوٹنے والو ں کے احتسا ب کرنے کی با ت فی الحال تو صر ف بیا ن کی حد تک ہی محد ود ہے کیونکہ انہو ں نے بر سر اقتدار آنے سے قبل اپنے126 دن کے دھرنے کے دوران کینٹنر پر یہ واضح کیا تھا کہ وہ ملک کا پیسہ لوٹنے والو ں کو نہیں چھو ڑ ینگے اور بر سر اقتدار آکر ان سے ایک ایک پا ئی وصول کریں گے لیکن افسو س کی با ت یہ ہے کہ بر سر اقتدار آنے کے بعد انہو ں نے ملک کا پیسہ لو ٹ کر بیر ون ملک مستقل کرنے والو ں کیخلا ف احتسا ب شر وع تو کیا اور ان کو گر فتار کر کے جیلو ں میں بھی ڈال دیا لیکن اب تک ان سے پیسہ وصول نہیں کیا جا سکا جو کہ بلاشبہ حکومت کی نا کامی کے مترادف اقد ام ہے کیونکہ عوا م نے مو جو دہ حکومت کو ووٹ دے کر منتخب کیا لیکن اس نے اسے ریلیف دینے کی بجا ئے مشکلا ت میں مبتلا کر دیا۔
جہا ں تک وزیر اعظم عمر ان خان کا پا کستان پیپلز پا رٹی کے چیئر مین بلا ول بھٹو زردا ری ،پاکستان مسلم لیگ (ن)کے صدر اور قا ئد حزب اختلاف میا ں محمد شہبا ز شر یف اور جمعیت علما ئے اسلام (ف)کے سر بر اہ مولانا فضل الر حمان کے با ر ے میں وزیر اعظم عمر ان خان کے مذکورہ کلما ت کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں اس با ت کا ذکر کرنا از حد ضروری ہے کہ ان کو ایسے کلما ت ادا نہیں کرنے چا ہئیں کیونکہ یہ ذا تیا ت پر حملے ہیں اسی طرح اپو زیشن رہنما ﺅں کو بھی ایسا نہیں کرنا چا ہیئے ملک میں ہونیوالی ایسی سیا ست نیک شگون نہیں ہے اس لیے ایسی سیاست کا سلسلہ رکنا چا ہیئے بلکہ اصلا حی سیا ست کی جا نی چا ہئیں حکومت او ر اپو زیشن سب کو مل کر ملک کے بہتر ین مفا دات میں کام کرنا چاہئیے اگر جوبھی حکومت منتخب ہو اسے مد ت پوری کرنے دینی چا ہیئے کیونکہ ہما رے ملک میں رو ایت چل پڑ ی ہے کہ جب بھی انتخابات ہو تے ہیں ہا رنے والے لوگ اس کو دھا ند لی قر ار دیتے ہوئے ایک تحریک شر وع کر دیتے ہیں جو جا ری رہتی ہے اور اس طرح ملک میں افراتفر ی کا عالم رہتا ہے اور منتخب ہونے والے لوگ صحیح طر یقے سے کام بھی نہیں کر پا تے جو یقینا ایک بڑا نقصان ہے ۔
اس لیے یہا ں ضرورت اس امر کی ہے کہ مو جو دہ حکومت کو عوام سے کئے گئے وعد وں اور دعو ﺅ ں کو پو را کرنے کے لیے اقد امات کرنے چا ہئیں اور ملک کے مفا د کیلئے لو ٹی ہوئی رقم واپس لانی اور اس میں ملو ث افراد کو عبر تنا ک سز ادینی چا ہئیے اس سلسلے میں تا خیر کرنا ملک کے مفا د میں نہیں ہے ملک کے سیا ستد انو ں کو بھی چا ہیئے کہ وہ ملک کی تر قی کے لیے اقد امات کریں کیونکہ ملک ہے تو سب ہیں اس لیے اس کی تعمیر و تر قی میں مل کر حصہ لینا چا ہیئے اور یہ ملک با ر با ر انتخابات کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ اس وقت اس کی معا شی حا لت ٹھیک نہیں ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*