نان ٹیکس ریونیو میں اضافہ کرناحکومت کی اولین ترجیح ہے ، عمران خان

اسلام آباد (آئی این پی ) و زیرِ اعظم عمران خان نے سیکرٹری نجکاری کو ہدایت کی ہے کہ نجکاری کے لئے نشاندہی کیے جانے والے تمام اداروں کی نجکاری کو مقررہ ٹائم فریم میں مکمل کیا جائے،حکومت اس مقصد کے لئے نجکاری ڈویژن کو درکار تمام ضروری وسائل فراہم کرنے کے لئے پر عزم ہے، اثاثوں اور اداروں کی نجکاری کے عمل میں شامل تمام وزارتوں کے متحرک کردار اور بھرپور تعاون کو بھی یقینی بنایا جائے، حکومت کی ترجیح ہونے کے سبب وزیرِ اعظم آفس کو نجکاری عمل کی پیش رفت سے مسلسل آگاہ رکھا جائے اور اس ضمن میں کسی بھی دقت کو ہنگامی بنیادوں پر دور کیا جائے، حکومتی وسائل میں نان ٹیکس ریونیو میں اضافہ کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے ، یہ تاثردرست نہیں کہ نجکاری کے تحت حکومت محض نقصان کے حامل اداروں سے چھٹکارہ حاصل کرنا چاہتی ہے ، قومی خزانے کو نقصان سے بچانے کے ساتھ ساتھ اداروں کی کارکردگی کو ان کی استعداد کے مطابق چلانا، اداروں سے بہترین نتائج کا حصول اور مجموعی طور معیشت کی بہتری نجکاری عمل کی اصل روح ہے ، نجکاری کے عمل سے ان اداروں کی کارکردگی کو بہتر کرنے میں مدد ملے گی جن کی کاکردگی عدم توجہ کے باعث گذشتہ سالہا سال سے انکی اصل استعداد سے کم رہی ہے ، نجکاری عمل کی جلداز جلد تکمیل سے حکومتی مالی وسائل خصوصا نان ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہوگا ۔جمعہ کو وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت نجکاری عمل میں پیش رفت کا جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیرِ نجکاری میاں محمد سومرو، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر، معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی سید ذوالفقار عباس بخاری، سیکرٹری نجکاری رضوان ملک و دیگر سینئر افسران نے شرکت کی ۔ اجلاس میں نجکاری عمل میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا ۔اجلاس میں وزیرِ اعظم کو نجکاری کے لئے نشاندہی کی جانے والے سرکاری اداروں کی نجکاری کے عمل میں اب تک کی پیش رفت کی رپورٹ پیش کی گئی ۔ سیکرٹری نجکاری رضوان ملک نے نجکاری عمل پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس عمل میں ان اداروں اور املاک کو شامل کیا گیا ہے جو سرکاری خزانے پرمسلسل بوجھ ہیں یا اپنی صلاحیت سے کم کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسی سرکاری املاک کو بھی نجکاری عمل میں شامل کیا گیا ہے جو کہ سالہا سال سے غیر استعمال شدہ یا غیر منافع بخش ہیں۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ اربوں روپے مالیت کے مختلف سرکاری ادارے جن میں حویلی بہادر شاہ پاور پلانٹ، بلوکی پاور پلانٹ، ایس ایم ای بنک، سروسز انٹرنیشنل ہوٹل لاہور، جناح کنونشن سنٹر وغیرہ شامل ہیں انکی نجکاری کا عمل تیاری کے آخری مراحل میں ہے۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ ان اداروں کی نجکاری کے عمل میں بین الاقوامی طور پر گہری دلچسپی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ ان اداروں کے علاوہ گدو پاور پلانٹ، نندی پور پاور پلانٹ، فرسٹ وویمن بنک، پاک پٹرولیم لمیٹڈ، اسٹیٹ لائف وغیرہ جیسے مختلف اداروں کی نجکاری کا عمل بھی شروع کر دیا گیا اور اس میں خاطر خواہ پیش رفت حاصل کر لی گئی ہے۔ اجلاس کو مختلف وزارتوں اور سرکاری اداروں کی ملکیت بیش قیمت اراضی کی فروخت کے حوالے سے پیش رفت پر بھی تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی ۔ وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی وسائل میں نان ٹیکس ریونیو میں اضافہ کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجکاری کا مقصد جہاں روزانہ کی بنیاد پر سرکاری خزانے کو کروڑوں اربوں روپے کے خسارے سے بچانا ہے وہاں اس عمل کا مقصد ان اداروں کو کہ جن کی کارکردگی انکی استعداد کے مطابق نہیں ان کو متعلقہ شعبوں میں اہل افراد کے حوالے کرنا ہے تاکہ ان اداروں کے پوٹینشل کو صحیح معنوں میں برے کار لا کر ان سے بھرپور استفادہ حاصل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثردرست نہیں کہ نجکاری کے تحت حکومت محض نقصان کے حامل اداروں سے چھٹکارہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ قومی خزانے کو نقصان سے بچانے کے ساتھ ساتھ اداروں کی کارکردگی کو ان کی استعداد کے مطابق چلانا، اداروں سے بہترین نتائج کا حصول اور مجموعی طور معیشت کی بہتری نجکاری عمل کی اصل روح ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ نجکاری کے عمل سے ان اداروں کی کارکردگی کو بہتر کرنے میں مدد ملے گی جن کی کاکردگی عدم توجہ کے باعث گذشتہ سالہا سال سے انکی اصل استعداد سے کم رہی ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ نجکاری عمل کی جلداز جلد تکمیل سے حکومتی مالی وسائل خصوصا نان ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہوگا جس سے حکومت کی جانب سے عوامی فلاح وبہبود کے زیادہ منصوبے شروع کرنے اور صحت، تعلیم و دیگر سہولتوں کی عوام تک فراہمی میں آسانی پیدا ہوگی۔ وزیرِ اعظم نے سیکرٹری نجکاری کو ہدایت کی کہ نجکاری کے لئے نشاندہی کیے جانے والے تمام اداروں کی نجکاری کو مقررہ ٹائم فریم میں مکمل کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے حکومت نجکاری ڈویژن کو درکار تمام ضروری وسائل فراہم کرنے کے لئے پر عزم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ اثاثوں اور اداروں کی نجکاری کے عمل میں شامل تمام وزارتوں کے متحرک کردار اور بھرپور تعاون کو بھی یقینی بنایا جائے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت کی ترجیح ہونے کے سبب وزیرِ اعظم آفس کو نجکاری عمل کی پیش رفت سے مسلسل آگاہ رکھا جائے اور اس ضمن میں کسی بھی دقت کو ہنگامی بنیادوں پر دور کیا جائے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*