وفاقی کابینہ کی نواز شریف کانام ای سی ایل سے نکالنے کی مشروط اجازت

اسلام آباد(آئی این پی) وفاقی کابینہ نے مسلم لیگ (ن) کے قائدو سابق وزیراعظم نواز شریف کانام ای سی ایل سے مشروط طور پر نکالنے کی اصولی اجازت دیدی،نواز شریف کو بیرون ملک جانے کیلئے عدالت کی جانب سے انہیں کئے گئے جرمانے کے برابر سیکیورٹی بانڈ، مقررہ وقت میں واپسی کی گارنٹی دینا ہو گی۔ کابینہ نے اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے کےلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کی بھی منظوری دیدی جبکہ کابینہ نے قرضوں کی انکوائری کے حوالے سے قائم تحقیقاتی کمیشن سے متعلق میڈیا رپورٹس کی سختی سے تردید اور مذمت کی ،کابینہ نے الیکشن 2018کی شفافیت کی جانچ کے حوالے سے حکومت کے کردار کے بارے میںمنفی پروپیگنڈا پرتشویش کا اظہار کیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت الیکشن کے بارے میں کسی بھی قسم کا ابہام دور کرنے کے ضمن میں ہر طرح کا تعاون کرنے کےلئے پرعزم ہے ۔وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ اگر گارنٹی دی جاتی ہے تو حکومت نواز شریف کے باہر جانے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گی، دھرنے والوں کا غصہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ وہ بند گلی میں داخل ہو گئے ہیں، حکومت نے کامیابی سے اپنے معاشی اہداف کو حاصل کرلئے، ہم صحت مند معیشت کی جانب سے بڑھ رہے ہیں،پاکستان کی صحت مند معیشت پر مہر آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک بھی لگارہے ہیں ۔وہ منگل کو کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دے رہی تھیں ۔وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں سات نکاتی ایجنڈے کی منظوری دی گئی ، وزارت صحت کا ایجنڈا واپس لے لیا گیا ۔ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مشیر خزانہ نے کابینہ کو اقتصادی اشاریوں اور اقدامات پر بریفنگ دی اور بتایاکہ رواں مالی سال میں جولائی سے اکتوبر تک کے معاشی اہداف حاصل کر لیے گئے، ملکی محصولات کی آمدن طے شدہ اہداف سے زیادہ رہی۔’انہوں نے کہا کہ ‘مثبت معاشی اشاریے اقتصادی استحکام کی علامت ہیں جس کے ثمرات عوام تک پہنچائیں گے۔’ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان مشکل حالات سے نکل آیا ہے اور مشکل معاشی چیلنجز پر قابو پارہا ہے، معیشت کےاستحکام کے لیے تمام اشاریے حاصل کیے گئے، اسٹاک مارکیٹ میں تیزی حکومت کی مثبت پالیسیوں کا مظہر ہے جبکہ پاکستان کے مستحکم حالات کے عالمی ادارے بھی معترف ہیں ۔مشیر خزانہ نے کابینہ کو آگاہ کیا کہ مالی سال کے پہلے چار ماہ جولائی سے اکتوبر کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے میں36فیصد کمی ،ملکی برآمدات میں چار فیصد اضافہ ،درآمدات میں 30فیصد کمی اور تجارتی خسارے میں 8ارب کی کمی ہوئی ،حکومتی مالی خسارے میں 9فیصد کمی آئی ،پہلے چار ماہ میں بجٹ خسارہ286ارب رہا ،ایف بی آر نے گزشتہ چار میں 1280ارب ریونیو اکٹھا کیا ،سیکیورٹی ایکس چینج کمیشن میں مزید1100کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں ۔مشیر خزانہ نے کابینہ کو آگاہ کیا کہ ٹیکس دہندگان کی تعداد19لاکھ سے بڑھ کر27لاکھ ہوگئی ہے ۔حکومت سٹیٹ بینک سے ادھار نہ لینے کی پالیسی پر کاربند ہے جبکہ نئے نوٹس چھاپنے کی پالیسی کا خاتمہ کردیا ہے ،آئی ایم ایف نے گردشی قرضوں کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا،ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ ترقیاتی منصوبوں کےلئے آدھے سال کے فنڈز ریلیز کردیے گئے ہیں ۔کابینہ اجلاس میں ملک میں مہنگائی میں کمی کے حوالے سے بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف مو¿ثر اقدامات کے ساتھ شہر اور تحصیل کی سطح پر ہفتہ وار قیمتوں کی اتارچڑھاﺅ کی تفصیل وزیراعظم آفس کو بجھوائی جائے ۔کابینہ کو آٹا،گھی ، چاول ،دالیں کی قیمتوں میں کمی لانے کے حوالے سے یوٹیلیٹی سٹور کارپوریشن کو مہیا کئے جانے والے 6ارب روپے اور اس فیصلے کے قیمتوں پر اثرات کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔ معاون خصوصی نے کہا کہ صوبوں نے مہنگائی کے خلاف چھاپوں، جرمانوں اور گرفتاریوں کو معیار بنا رکھا ہے، تاہم چھاپوں سے غرض نہیں، قیمتوں پر نظر رکھی جائے گی، جبکہ صوبوں سے کہا ہے کہ اسٹاک رکھنے والوں پر نظر رکھی جائے۔کابینہ اجلاس میں الیکشن 2018کی شفافیت کی جانچ کے حوالے سے حکومت کے کردار کے بارے میں میڈیا کے ذریعے بعض حلقوں کے منفی پروپیگنڈا پرتشویش کا اظہار کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت الیکشن کے بارے میں کسی بھی قسم کا ابہام دور کرنے کے ضمن میں ہر طرح کا تعاون کرنے کےلئے پرعزم ہے ۔ کابینہ اجلاس میں قرضوں کی انکوائری کے حوالے سے قائم تحقیقاتی کمیشن سے متعلق میڈیا رپورٹس کی بھی سختی سے تردید کی گئی اور اس کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ کمیشن کی رپورٹ دسمبر میں آئے گی ،رپورٹ آنے سے پہلے اس سے متعلق قیاس آرائیاں افسوسناک اور منفی پروپیگنڈے کا حصہ ہیں ۔ وزیراعظم نے معاون خصوصی کو ہدایت کی کہ ان بے بنیاد خبروں کی سختی سے تردید کی جائے ۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ ایک سال میں 21ممالک سے 4675پاکستانی قیدی رہا ہوئے ۔وزیر منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار نے کابینہ کو جے سی سی میں ہونے والے اہم فیصلوں سے آگاہ کیا ۔کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 6نومبر کو ہونے والے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کی ۔ کابینہ کو حویلی بہادر شاہ اور بلوکی ایل این جی پاورپلانٹ کی نجکاری کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ 2022کے بعد ایل این جی سے بجلی بنانے کی ضرورت نہیں رہے گی اس کے باوجود عالمی معاہدوں کے تحت مہنگی ایل این جی خریدنے پڑے گی جس سے ملک کو 471ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑے گا ۔ کابینہ نے وزارت توانائی کو ہدایت کی کہ وزارت پیٹرولیم کی معاونت سے اس نقصان کو کم کرنے کی حکمت عملی بنائے گی ۔ کابینہ نے محمد عارف کو اوگرا کا ممبر تعینات کرنے کی منظوری دی جبکہ ملیحہ حسین کو اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیشن ایکٹ کے تحت اتھارٹی بورڈ کا ممبر تعینات کرنے کی بھی منظوری دی ۔ کابینہ نے اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے کےلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کی بھی منظوری دی ۔ کمیٹی پاکستان سٹیزن پورٹل پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات اور فیڈ بیک کی بنیاد پر تشکیل دی گئی ۔کابینہ اجلاس میں معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ وتخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے اساس پروگرام کے تحت گورننس اور شفافیت کو یقینی بنانے کے حوالے سے جامع پالیسی پیش کی جسے کابینہ نے منظور کر لیا ۔ کابینہ اجلاس میں ہونے والے فیصلوں پر عمل درآمد کے حوالے سے رپورٹ بھی پیش کی گئی ۔کابینہ کو بتایا گیا کہ اب تک وفاقی کابینہ نے 1192فیصلے کئے جن میں سے 1087پر عمل درآمد ہوچکا ۔کابینہ کو بتایا گیا کہ مختلف وزارتوں کے تحت 132اداروں کے سربراہوں کی تعیناتی کا عمل ابھی مکمل ہونا ہے جس پر وزیراعظم نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مشیر برائے اسٹیبلشمنٹ کو ہدایت کی کہ آئندہ اڑتالیس گھنٹوں کے اندر اس حوالے سے جامع رپورٹ دی جائے ۔ وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہاہے کہ وی ای پی قید کے حوالے سے سب نڈھال ہیں،نواز شریف کی صحت واقعی تشویشناک ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹروں کی سفارش پر نواز شریف کو علاج کی بہترین سہولتیں فراہم ہونی چاہیے، اس سلسلے میں آج کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا بھی اجلاس ہوا جس کے بعد کمیٹی کے چیئرمین فروغ نسیم نے کابینہ اراکین کو بریفنگ دی اور نیب اور میڈیکل بورڈ کی سفارشات کے حوالے سے آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ بریفنگ کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے کابینہ اراکین سے مشاورت کی اور ووٹنگ میں85سے90فیصد کابینہ اراکین نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی حمایت کی، تاہم تمام اراکین کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دی جائے اور ان کی واپسی کا وقت بھی پوچھا جائے جس کے بعد عمران خان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی اصولی طور پر اجازت دے دی ہے۔انہوں نے کہا کہ دھرنے والوں کا غصہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ وہ بند گلی میں داخل ہو گئے ہیں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*