اقبال اور اسلامی جدیدیت کی مختصر تاریخ

حفیظ الرحمان قریشی
اسلام میں جدیدیت کے علمبرداروں میں برصغیر کے مفکرین اور دانشوروں کا حصہ کہیں غالب ہے۔ سید امیر علی (1928-1849) اور ان سے بھی پہلے سرسید (1898-1817) اور خاص طور پر ان کے نو رتنوں جن میں چراغ علی اور حالی سرِفہرست ہیں۔ حالی کا تو یہ مصرع ضرب المثل اختیار کر چکا ہے۔یوں تو تاریخ کے سمندر میں غوطہ زنی کریں تو کچھ اور نام بھی مل جاتے ہیں۔ مثلاً مرزا ابو طالب خاں کے قلم سے اینگلو سیکسن تمدن کا جائزہ نسلی و ثقافتی رشتوں کے پہلے مرحلے میں نشانِ راہ کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ اس سے پہلے اعتصام الدین مغل بادشاہ شاہ عالم ثانی کے سفیر کی حیثیت سے 1767 ء میں یورپ کے دورے پر گئے تھے اور اپنے تاثرات قلم بند کئے تھے۔ابو طالب خاں کے روابط دربار اودھ سے تھے، اور مختلف برطانوی نڑاد لوگوں سے ان کے ذاتی تعلقات تھے۔ ا±نہوں نے 1799ئ اور 1803ء کے دوران اپنے سفر یورپ کے تاثرات اپنی قابل مطالعہ اور دلچسپ تصنیف مآثر طالبی فی بلاد افرنجی میں قلم بند کئے ہیں جو ان پہلی تصانیف میں سے ہے جس میں کسی مسلمان نے موجودہ مغربی تمدن سے روشناس کرایا ہے۔ ابو طالب کی یہ تصنیف مشہور مصری عالم اور ماہر تعلیمات، التحتوی کے مشاہدات اور تاثرات سے تقریباً چوتھائی صدی قبل ضبط تحریر میں آئی جن لوگوں کو اسلام میں جدیدیت کے موضوع سے شغف ہے ا±نہیں ضرور یہ یعنی ابوطالب خان کی کتاب پڑھنی چاہئے۔ یہ پہلی بار 1827 ءمیں چھپی۔ چند برس قبل تک تو بازار میں دستیاب تھی۔ میرے پاس اس کا ایک پرانا نسخہ ہے بعد میں مجلس ترقی ادب پنجاب لاہور سے ڈاکٹر تحسین فاروقی کے مبسوط مقدمے کے ساتھ شائع ہوئی۔ابو طالب خان نے چار سال انگلستان میں گزارے۔ اس کے علاوہ آئرلینڈ، فرانس، اٹلی اور ترکی کا بھی سفر کیا۔ غیر معمولی ذہین آدمی تھا۔ انگریزی پر مکمل عبور رکھتا تھا۔ اپنی ذہانت کے بل بوتے پر لندن میں اشرافیہ میں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا حتیٰ کہ ملکہ برطانیہ سے ملاقات کا بھی شرف حاصل کیا۔ اس کی قوت مشاہدہ کی داد دینا پڑتی ہے کہ ایک جگہ لکھتا ہے آکسفورڈ کی تعمیری ساخت اور ہندوﺅں کے قدیم مندروں میں عجیب و غریب مشابہت و مماثلت پائی جاتی ہے۔ وہ برطانوی دوستوں کو متنبہ کرتا ہے کہ رہن سہن کا اعلیٰ معیار اور روزمرہ کی سہل پسندانہ زندگی ، بے حسی اور سنگ دل کو جنم دیتی ہے اور جن قوموں میں یہ اوصاف پیدا ہو جائیں وہ حریف اور مقابل قوموں سے پیچھے رہ جاتی ہیں۔ اس کا عملی مظاہرہ تو ہم برصغیر میں ہندوﺅں اور مسلمانوں کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ اس نے فرانس کا دورہ اس وقت کیا جب نپولین بونا پارٹ اپنی طاقت و قوت کے پورے عروج پر تھا۔ وہ فرانسیسی کو انگریزی کے مقابلے میں زیادہ مشکل اور پیچیدہ سمجھتا ہے، ا±س نے فرانسیسی مستشرقین لنگ لوئی اور ا±ردو کے دلدادہ اور محقق گارساں دی تاسی سے بھی ملاقات کی۔ وہ ہندوستانی مسلمانوں کی ترکی پرستی کی عام روش سے تقریباً ستر پچھتر سال قبل ترکی پہنچا۔ ا±س نے ترکی کو معاشرت میں یوروپ سے بہت پیچھے پایا۔ البتہ وہ ترکی عمائدین کا مداح تھا اور ترکی کے مغربی رنگ میں رنگنے کے ابتدائی آثار ا±س نے محسوس کر لئے تھے جو وقت کے ساتھ ساتھ بالکل درست ثابت ہوئے۔ ایک وقت آیا کہ ماڈرن بننے کے شوق میں مصطفی کمال اتاترک نے ترکوں کے ماضی سے تمام مذہبی و معاشرتی رشتے کاٹ دئیے۔ اس سودے میں ترکی کو نفع کتنا ہوا اور نقصان کتنا؟ یہ بتانے کے لیے مبسوط تصنیف کی ضرورت ہے۔18 ویں صدی کے اواخر اور 19 ویں صدی کے اوائل میں مسلمانوں کا مغربی اداروں سے انحراف اتنا بے لچک نہیں تھا۔ جتنا سمجھا جاتا ہے ، خاندان شاہ ولی اللہ کے جانشین ، شاہ عبدالعزیز نے ایک فتویٰ کے ذریعے مسلمان طلبہ کو برطانوی سکولوں میں داخلہ لینے کی اجازت دے دی تھی ان کے بھتیجے شاہ محمد اسماعیل نے برطانیہ کے سا تھ اس وقت تک وفاداری نبھانے کی اجازت دے دی تھی، جب تک وہ مسلمانوں کی آزادی میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔ حتیٰ کہ ایک موقع پر شاہ عبدالحیی نے اپنے اتالیق شاہ عبدالعزیز کی اجازت سے برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کی ملازمت بھی کی تھی۔ مغربی اداروں کے اثرات قبول کرنے کی ایک نمایاں مثال مولوی کرامت علی جونپوری (متوفی 1873 ) ہیں۔ اگرچہ وہ مذہباً شیعہ تھے۔ مگر شاہ عبدالعزیز کے شاگرد تھے۔ ا±نہوں نے اپنے اصولی نظریات کے اندر رہ کر ایک طرف مغربی سائنس اور علوم کی طرف قدم بڑھایا اور د وسری طرف 1931ئ تک کمپنی کی انتظامیہ سے ان کا قریبی تعلق تھا۔ ا±نہوں نے محمڈن لٹریری ایسوسی ایشن کی ر±کنیت قبول کر لی جسے عبداللطیف خاں نے کلکتے میں قائم کیا تھا۔ ا±ن کے شاگردوں میں سید امیر علی بہت نامور ہوئے۔ہندوستان میں جدید سائنس کی تعلیم 1835ء میں انگریزی زبان میں شروع ہوئی، پہلا انجینئرنگ کالج رڑکی (یوپی) میں 1847ء میں اور پہلا میڈیکل کالج بمبئی میں 1845ء میں قائم ہوا۔ جنگ آزادی سے پہلے 1827 ء میں اسلامی تعلیمات کے مدرسے نے جو بعد میں دہلی کالج کے نام سے موسوم ہوا، انگریزوں سے مالی امداد لینا شروع کی، اس مدرسے کے ایک استاد و دبستان ولی اللہ کے مولانا مملوک علی بھی تھے جو سرسید کے ہم درس بھی رہ چکے تھے۔اس مدرسے نے پہلی نیم مغربی روشن خیالوں کی کھیپ پیدا کی، جس میں مورخ ذکاء اللہ شاعر و مفکر اور سرسید کے قریبی رفیق مولانا الطاف حسین حالی اور تعزیرات ہند کے مترجم اور مفسر قرآن اور ناول نگار ڈپٹی نذیر احمد بھی شامل ہیں۔ مسلمانوں کی انگریزی تعلیم سے دوری کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک رپورٹ کے مطابق مسلمان ہند میں آبادی کا ایک تہائی تھے مگر 1835 اور 1870 کے مابین سرکاری ملازمتوں میں ہندوﺅں کے مقابلے میں مسلمانوں کا تناسب ایک اور سات سے بھی کم تھا۔ اس کے بعد سرسید ، سید امیر علی، مولانا حالی ، مولوی چراغ علی اور ا±ن کے دیگر ساتھیوں کا دور آتا ہے، ان لوگوں نے مسلمانوں کو انگریزی پڑھنے اور جدید علوم کی تحصیل کی طرف راغب کیا۔ اب تک انگریزی اور دیگر جدید علوم کی تحصیل کو تبدیلی مذہب کی ایک شکل یا ترغیب سمجھا جاتا تھا۔ حالانکہ خود انگریزوں کا (لیفٹیننٹ گورنر بنگال) کے ایک گزٹ کے مطابق انگریزی اور مغربی علوم کی تعلیم رائج کرنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ قدیم مذاہب کی اکھاڑ پچھاڑ کی جائے بلکہ لوگوں کو جہالت سے نجات دلانا اور ا±ن کی ترقی کے لیے حکمت و دانش کے راستے کھولنا مقصود ہے تاکہ اس طرح رفتہ رفتہ ملک کی پسماندگی اور غربت و افلاس کی بیخ کنی کر دی جائے۔ہمارے بعض اکابر انگریزی واں ہونے کے باوجود مسلمانوں کے جمود ، پستی اور زوال کی وجوہات کو سمجھنے سے قاصر رہے اور ایک ایسے ملک میں جس کی اکثریت غیر مسلموں پر مشتمل تھی اور جس کے حکمران انگریز تھے وہ ہندوستان میں ایک ایسا جزیرہ تعمیر کرنے میں اپنی ساری صلاحیتیں ضائع کر بیٹھے کہ جہاں مسلمان، قرونِ ا ولیٰ کی زندگی بسر کر سکیں لیکن زمانے نے ان کی آرزوﺅں کی اس طرح تکذیب کی کہ مسلمان زندگی کے ہر شعبے میں ہم وطنوں سے بہت پیچھے رہ گئے۔ سید سلیمان ندوی نے اپنے ا±ستاد اور سب سے بڑے سیرت نگار مولانا شبلی نعمانی کا ایک بیان نقل کیا ہے ”دوسری قوموں کی ترقی یہ ہے کہ آگے بڑھتے جائیں آگے بڑھتے جائیں اور مسلمانوں کی ترقی یہ ہے کہ وہ پیچھے ہٹتے جائیں پیچھے ہٹتے جائیں، یہاں تک کہ صحابہ کی صف میں شامل ہو جائیں۔“ اس جذباتی دور میں علامہ اقبال ایسی ہستی کا وجود میں آنا جس نے تشکیل الہٰیات جدید“ لکھ کر مسلمانوں کی فکری تربیت کا بندوبست کیا، معجزہ معلوم ہوتا ہے۔ اقبال 1875ء میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے، اور 1938ء میں 63 سال کی عمر میں لاہور میں وفات پائی۔ 1905ء سے 1908ء تک وہ کیمبرج میں زیر تعلیم رہے، اور میونخ (جرمنی) میں ” فارس (ایران) میں مابعدالطبیعات کا ارتقائ“ کے عنوان پر اپنا ڈاکٹریٹ کا مقالہ مکمل کیا۔لکھتے ہیں:۔ کہ سنت نبوی کی صحیح پیروی اسی صورت ہی ہو سکتی ہے کہ اخلاق نبوی کی پیروی ہو، فقط ظاہری امور میں شعار نبوی کا خیال رکھنا نہ بہت مشکل ہے اور نہ بہت مفید۔ یورپ اور مغرب کی اچھی باتیں اخذ کرنے میں بھی یہ اصول پیش نظر رہنا چاہئے کہ ضروری اور غیر ضروری باتوں میں امتیاز ہے۔ پھر کہتے ہیں، کہ ظاہر پرستی اور کورانہ تقلید کا جو سبق بعض کم فہم ملا دیا کرتے تھے، آج شیدائیانِ فرنگ بھی ا±سی کو راہِ اصلاح سمجھے ہوئے ہیں اور آنکھیں بند کر کے مغرب کی ظاہری تقلید پر زور دے رہے ہیں۔ مثلاً انسانی اصلاح کیلئے ضروری نہیں کہ اسے ہیٹ پہنا دیا جائے۔ ہیٹ پہننے یا ریش کی صفائی سے دماغی اصلاح نہیں ہو جاتی۔ اسی طرح مستورات کی اصلاح کیلئے ان کی درست تعلیم و تربیت ضروری ہے۔ بالوں کو قطع ک±رتا یا لباس تبدیل کرنا ضروی بلکہ مفید نہیں لیکن ہمارے نئے ہیروں نے حسن تناسب کا خیال نہیں رکھا۔ ان نظری اور بحث طلب چیزوں کے پیچھے پڑ گئے ہیں، جو غیر ضروری ہیں اور اصل چیزوں کی طرف پوری توجہ نہیں کی، اقبال ہمارے چند بااثر بزرگوں کی طرح قدامت پرست نہیں وہ مغرب کی کورانہ تقلید کا مخالف ہے، لیکن اچھی چیزیں اخذ کرنے میں کوئی نقص نہیں سمجھتا، بلکہ حالات زمانہ کے مطابق اسے ضروری سمجھتا ہے۔ وہ علم الاشیا یعنی سائنس کا جس پر تہذیب مغرب کا مدار ہے، بے حد معترف ہے۔ اسے مسلمانوں کی کھوئی ہوئی پونچی سمجھتا ہے، جسے واپس لینا ان کا فرضِ اولین ہے۔ اقبال کی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ ان میں روحانی و اخلاقی ترقی اور دینی و دنیاوی فلاح کی وہ باتیں ہیں، جن میں زمانہ دحال میں ان کی اہمیت کیمطابق کِسی نے زور نہ دیا تھا اور نہ ہی ان تعلیمات میں کوئی ایسی بات ہے، جس سے جمہور علماء اختلاف کر سکیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*