ختم نبوت کے عقیدے کے بغیر سارے اعمال فارغ ہیں، علماءکرام

رائے ونڈ (این این آئی)عالمی اجتماع کا دوسرا مرحلہ امیر جماعت مولانا نذرالرحمان اور دیگر علماءکرام کے فکر انگیز بیانات سے شروع ہوگیا ۔علمائے کرام نے کہا ہے کہ اسلام اجتماعیت کا دین ہے جو جوڑ کا حکم دیتا ہے اور توڑ سے بچنے کی تلقین کرتا ہے اسلام کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوئے بغیر دنیا و آخرت میں نجات ممکن نہیں ، اللہ سے دوستی کرلو ،ساری مشکلات سے نجات مل جائیگی ،اپنی زبان کو قابو میں رکھو ،مغفرت کیلئے سب سے بڑا عمل اپنی زبان سے کسی کو نقصان نہ پہنچاﺅ ۔خود کو اور اپنی نسلوں کو غیبت سے بچاﺅ معاشرہ سلجھ جائے گا ،معاشرے میں امن قائم ہو جائے گا ۔علما ئے کرام نے مزید کہا کہ اپنے دلوں کو کدوتوں اور بغض سے پاک رکھو ،اللہ کی رحمت نازل ہوگی ،سارا اسلام ،سارا دین اور ساری تبلیغ صرف دو عمل پر مشتمل ہے زبان کی حفاظت اور دل کا صاف ہونا ۔زندگی کا جتنا وقت حضور اکرم کی محبت اور پیروی میں خرچ ہوگا وہی نفع کا سبب بنے گا ،دنیا کی محبت سے نجات حاصل کرلو کیونکہ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ،اپنے کپڑوں کو پاک رکھنے کیساتھ اپنے دلوں کو بھی صاف رکھو جس سے تمہار تن اور من صاف ہو جائے گا ،آج دنیا کی محبت میں دین کو فراموش کردیا گیا ہے ،مصائب اور آلام کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں جسکی سب سے بڑی وجہ مسلمانوں کے دلوں کا نفرتوں سے بھرا ہونا ہے ،جب تک دلوں میں اسلام نہیںآتا ہماری عملی زندگی بیکار ہے ،اخلاق اسلام کی بنیادی اکائی ہے اگر اس کو ہی چھوڑ دیا تو پھر باقی معاملات کیسے پایہ تکمیل تک پہنچیں گے ،عبادات کیساتھ ساتھ معاملات کی حفاظت کرنا ضروری ہے ،دنیا میں اگر کوئی نقل کرتا پکڑا جائے تو اسکو کمرہ امتحان سے نکال دیا جاتا ہے لیکن اگر کوئی آقائے کائنات کی نقل کرے تو اسکے لئے کامیابی ،کامرانی کی گارنٹی ہے ،نبی اکرم کی سنتوں اور حرمت کے محافظ بن جاﺅ ،دنیا بھی سنور جائیگی اور آخرت بھی ۔ختم نبوت کے عقیدے کے بغیر سارے اعمال فارغ ہیں، اپنے عقیدوں کو درست کرلو ۔نبی اکرم کے طریقے اور سنت کے بغیر کیا جانیوالا عمل غارت ہے ،نبی کریم کے ادب کے بغیر کوئی کامیابی نہیں مل سکتی ،عقیدہ ختم نبوت کو عام کرو ،گھروں میں بازاروں میں دوستوں میں محافل میں عام کرو ،اسی میں کامیابی ہے ،اللہ تک پہنچنے کا واحد ذریعہ آقائے کائنات ہیں ،صورت محمد اور سیرت محمد کو اپنا لو،کسی کی عزت نفس مجروح نہ کرو ،انسانیت کی عزت کرو ،اللہ سے دوستی کرو وہ سخی ہے اور وہ کسی سے دوستی توڑتا نہیں کسی کو مایوس نہیں کرتا اور نہ ہی اللہ کسی بخیل سے دوستی کرتا ہے ،لوگوں کے کام آﺅ یہی انسانیت کا فلسفہ ہے، کوئی ضرورت مند آئے تو اسکی تذلیل نہ کرو ،اسکا ادب کرو اس کی داد رسی کرو اس کی معاونت کرو کیونکہ اللہ نے تمہیں اس قابل بنایا ہے تو اس کو تیر ے پاس بھیجا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*