حکومت کی پھرتیاں ، قائمہ کمیٹیاں بائی پاس ، بغیر بحث کے 11آرڈیننسز بلوں کی شکل میں منظور

National Assembly of Pakistan

اسلام آباد(آئی این پی )قومی اسمبلی میں حکومت کی پھرتیاں ، قائمہ کمیٹیوں کو بائی پاس کرتے ہوئے اور بغیر کسی بحث کے 11آرڈیننسز کو بلوں کی شکل میں منظور کروا لیا جبکہ3آرڈیننس کو120دن کی توسیع کی قرار دادیں منظور کروا لیں۔7آرڈیننسز کو سپلیمنٹری ایجنڈے میں شامل کر کے انہیں بلوں کی شکل میں منظور کروایا گیا ۔قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹس کی روشنی میں مجموعہ ضابطہ دیوانی ترمیمی بل اورنیا پاکستان ہاﺅسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی بل بھی منظور کر لئے گئے ۔ اپوزیشن نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر کی ڈائس کا گھیراﺅ کیا اور آرڈیننسز و بلوں کی کاپیاں پھاڑ دیں ۔اپوزیشن نے حکومت مخالف شدید نعرے بازی بھی کی اور جعلی ڈپٹی سپیکر ،ووٹ چور نامنظور ،آرڈیننس فیکٹری بند کرو کے نعرے لگائے ۔اپوزیشن ارکان مسلسل ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کو متوجہ کرتے رہے مگر ڈپٹی سپیکر نے کسی کی نہ سنی اور بلوں کی منظوری کا عمل جاری رکھا۔ ڈپٹی سپیکر نے بل منظور کروانے کے بعد نماز مغرب کی ادائیگی کیلئے اجلاس کی کارروائی 15منٹ کیلئے ملتوی کی۔بعد ازاں اپوزیشن کی جانب سے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر ڈپٹی سپیکر نے اجلاس (آج)جمعہ تک ملتوی کر دیا۔پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی جگہ پاکستان میڈیکل کمیشن کے قیام کا بل ، میڈیکل اور صحت کے شعبوں سے متعلق معاملات سننے کےلئے الگ سے ” میڈیکل ٹربیونلز” کے قیام کے بل بھی منظور کر لئے گئے۔جمعرات کو قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی زیر صدارت ہوا ۔اجلاس کے آغاز میں وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے ایجنڈے پر موجود وقفہ سوالات ملتوی کرنے کی تحریک پیش کی جس کی اپوزیشن نے مخالفت کی ۔ ڈپٹی سپیکر نے کثرت رائے سے تحریک منظور کر لی ۔ اس کے بعد علی محمد خان نے میڈیکل ٹربیونل آرڈیننس 2019 (نمبر 14بابت2019)ایوان میں پیش کیا جس پر اپوزیشن نے احتجاج کیا ۔احتجاج کے دوران پارلیمانی سیکرٹری نوشین حامد نے میڈیکل ٹربیونل آرڈیننس 2019 کی روشن میں خصوصی عدالتی ٹربیونل کے قیام کا بل (طبی ٹربیونل بل2019) منظوری کےلئے پیش کیا جس پر اپوزیشن نے احتجاج شروع کردیا ۔اپوزیشن نے مطالبہ کیا کہ بل منطور کرنے کی بجائے متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بجھوایا جائے ۔ڈپٹی سپیکر نے بل قائمہ کمیٹی بھیجنے کی بجائے رائے شماری کے بعد بل کثرت رائے سے منظور کر لیا جس پر اپوزیشن نے آرڈیننس اور بل کی کاپیاں پھاڑ دیں اور ڈپٹی سپیکر کی ڈائس کا گھیراﺅ کیا ۔اپوزیشن نے حکومت مخالف شدید نعرے بازی بھی کی اور جعلی ڈپٹی سپیکر ،ووٹ چور نامنظور ،آرڈیننس فیکٹری نامنظور کے نعرے لگائے ۔طبی ٹربیونل بل2019 کے تحت میڈیکل اور صحت کے شعبوں سے متعلق معاملات سے پیدا ہونے والے تنازعات کو فی الفور اور مناسب طریقے سے سننے کےلئے میڈیکل ٹربیونلز قائم کیے جائیں گے اور تنازعات کا فیصلہ کیا جا سکے گا ۔طبی ٹربیونلز کے فیصلوں کی اپیل سپریم کورٹ میں کی جا سکے گی ۔پارلیمانی سیکرٹری صحت نوشین حامد نے پاکستان طبی کمیشن آرڈیننس2019(نمبر 15بابت2019)پیش کیا جس کے بعد پارلیمانی سیکرٹری نے آرڈیننس کی روشنی میں پاکستان طبی کمیشن بل 2019منظوری کےلئے پیش کیا ۔ اس بل کو بھی ڈپٹی سپیکر نے کمیٹی کو بجھوانے کی بجائے اور بل کی شق وار منظوری کی بجائے تمام شقوں کو یکجا کر کے رائے شماری کے بعد منظور کر لیا ۔بل کے تحت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی تحلیل کے بعد اس کی جگہ پاکستان طبی کمیشن قائم کیا جائے گا ۔بل کی منظوری کے دوران اپوزیشن نے اپنا احتجاج جاری رکھا مگر ڈپٹی سپیکر نے کسی کی نہ سنی اور بلوں کی منظوری کا عمل جاری رکھا ۔ بعدازاں پارلیمانی سیکرٹری ملائکہ بخاری نے مجموعہ ضابطہ دیوانی ترمیمی بل 2019اوروزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے نیا پاکستان ہاﺅسنگ اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی بل2019پیش کیا ۔ ڈپٹی سپیکر نے رائے شماری کے بعد دونوں بلوں کو کثرت رائے سے منظور کر لیا ۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور سینیٹر اعظم خان سواتی نے ایجنڈے میں شامل نہ ہونے کے باوجود گزشتہ دنوں صدر مملکت کی جانب سے جاری کئے گئے 8آرڈیننس میں سے 7آرڈیننس ایوان میں پیش کر دیے اور ساتھ ہی ان آرڈیننس کے بل بھی منظوری کےلئے ایوان میں پیش کر کئے جس پر ایک بار پھر اپوزیشن نے احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ کم ازکم ہمیں پڑھنے کےلئے بل دیے جائیں تا کہ ہم دیکھ سکیں کہ کون سے بل منظور کئے جا رہے ہیں اور ان میں کیا ہے ۔ ڈپٹی سپیکر نے اپوزیشن کا مطالبہ سننے کی بجائے بلوں کی منظوری کا سلسلہ جاری رکھا ۔سینیٹر اعظم خان سواتی نے بے نامی ٹرانزکشنز ممانعت ایکٹ2018میں ترمیم کا بل پیش کیا جس کو ڈپٹی سپیکر نے رائے شماری کے بعد کثرت رائے سے منظور کر لیا ۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم خان سواتی نے مخبر کے تحفظ اور نگران کمیشن کے قیام کےلئے انتظام کرنے کا آرڈیننس بل کی صورت میں پیش کیا جس کو ڈپٹی سپیکر نے رائے شماری کے بعد کثرت رائے سے منظور کر لیا۔ اعظم خان سواتی نے عدالتی لباس اور انداز مخاطب کے فرمان (تنسیخی )آرڈیننس 2019کا بل پیش کیا جس کو ڈپٹی سپیکر نے رائے شماری کے بعد کثرت رائے سے منظور کر لیا ۔ بل کے تحت عدالتی لباس اور طرز تخاطب سے متعلق معاملہ کو اعلیٰ عدالتیں ہی منضبط کریں گے۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم خان سواتی نے نیب ترمیمی بل 2019پیش جس کو ڈپٹی سپیکر نے کثرت رائے سے منطور کر لیا ۔ بل کے تحت 50ملین روپے سے زائد کی کرپشن کے الزام میں گرفتار ملزم کو جیل میں درجہ(ج)یا اس کے مساوی سہولیات کا حقدار ہوگا ۔ اعظم خان سواتی نے قانونی معاونت و انصاف اتھارٹی کے قیام کا بل 2019پیش کیا جس کو ڈپٹی سپیکر نے رائے شماری کے بعد کثرت رائے سے منطو رکر لیا ۔ بل کے تحت جیلوں میں قید غریب قیدیوں جو سزا مکمل کرنے کے باوجود جرمانہ ادا کرنے کی سکت نہ رکھتے ہوں کی مدد کی جائے گی جبکہ پسماندہ خواتین اور بچوں کو خاص طور ہر جنسی جرائم کے معاملات میں قانونی معاونت فراہم کی جائےگی ۔ وفاقی وزیر اعظم خان سواتی نے جائیداد میں خواتین کے مملکیتی حقوق کو محکم اور محفوظ بنانے کا بل 2019پیش کیا۔ ڈپٹی سپیکر نے کمیٹی کو بجھوانے کی بجائے اور بل کی شق وار منظوری کی بجائے تمام شقوں کو یکجا کر کے رائے شماری کے بعد منظور کر لیا ۔اعظم خان سواتی تیز تر وراثتی سرٹیفکیٹ کے اجراءکا بل کیا جس کو ڈپٹی سپیکر نے کثرت رائے سے منظور کر لیا ۔قومی اسمبلی میں فیڈرل گورنمنٹ ہاﺅسنگ اتھارٹی ،قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی ترمیمی آرڈیننس اور تعزیرات پاکستان ترمیمی آرڈیننس کو مزید 120دن کی توسیع کی قراردادیں منظو رکر لی گئیں ،حکومت نے دستور ترمیمی بل 2019،دارالحکومت اسلام آباد کے علاقائی حدود کے بزرگ شہریوں کا بل 2019،تحفظ قومی شاہرات ترمیمی بل 2019اورانسداد دہشت گردی ایکٹ1997میں مزید ترمیم کرنے کا بل انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2019پیش کردیا ۔بعد ازاں ڈپٹی سپیکر نے نماز مغرب کی ادائیگی کےلئے ایوان کی کارروائی پندرہ منٹ کےلئے ملتوی کردی مگر دوبارہ اجلاس شروع نہ ہوسکااور ڈپٹی سپیکر نے اجلاس (آج) جمعہ کی صبح 11بجے تک ملتوی کردیا

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*