حکومت ڈیلیور کیسے کر سکتی ہے؟؟؟؟

تحریر:محمد اکرم چودھری
وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ کا کہنا ہے کہ حکومت نے ڈیلیور کیا تو آئندہ پانچ سال بھی ہم ہی ہوں گے۔ انہوں نے فوج کے بغیر الیکشن اور دیگر اہم معاملات پر بھی خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ڈیلیور کرنے والی بات اہم ہے۔ پارلیمانی جمہوریت میں حکمران اگر عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو انتخابات میں عوام انہیں دوبارہ موقع نہیں دیتے۔ بیلٹ باکس کے ذریعے حکومتوں کی تبدیلی ہوتی ہے۔
عوام اپنے حکمران خود منتخب کرتے ہیں۔ پاکستان کی جمہوریت میں عوام کو اپنے ووٹ کے استعمال کا شعور نہیں ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ہے عوام کو آج تک سوچ بچار کے قابل بنایا ہی نہیں گیا انہیں دو جمع دو کے چکر میں الجھا کر رکھا گیا ہے۔
عوام کی تخلیقی صلاحیتیں دب کر رہ گئی ہیں۔ ہر طرف شدت پسندی نظر آتی ہے۔ کہیں سیاسی شدت پسندی ہے، کہیں صوبائی شدت پسندی ہے، کہیں مذہبی شدت پسندی ہے، کہیں لسانی شدت پسندی یے۔ یوں معاشرہ ہر طرف سے شدت پسندوں کے نرغے میں ہے۔ اس سے برھ کر کہیں فوڈ انڈسٹری سے منسلک افراد نے عوام کے دماغ پر قبضہ کر رکھا ہے، کہیں مہنگائی نے ان کا جینا مشکل کیا ہوا ہے ان حالات میں شعور کی موجودگی یا اس کا بیدار ہونا نہایت مشکل ہے۔
عوام کی ان مشکلات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حکمرانوں یا سیاست دانوں نے ہر دور میں شدت پسندی کا سہارا لے کر اقتدار حاصل کیا ہے۔ حصول اقتدار کے بعد عوامی مسائل کو حل کرنے کے بجائے ذاتی کاروبار اور کاموں میں لگے رہے۔
نہ عوام ان کی ترجیحات میں شامل تھی نہ حکمرانوں نے عوامی مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھ کر حل کرنے کی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ خاص طور پر دیہی علاقوں میں عوام کا شناختی کارڈ کی اہمیت صرف پولنگ کے دن ہوتی ہے۔ دیہی علاقوں سے اسمبلیوں میں آنے والے اکثر اراکین اسمبلی کے لیے خاندانی سیاست کو آگے بڑھانا اور اپنی چودھراہٹ قائم رکھنا عوامی مسائل سے کہیں زیادہ اہم ہوتا ہے۔
ان علاقوں میں ووٹرز کا جو حال ہوتا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ وہاں ووٹ کو کتنی عزت ملتی ہے اور ووٹ کا کتنا احترام کیا جاتا ہے۔ ان حالات میں شعور کیسے پیدا ہو سکتا ہے۔ عوام کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھا کر انہیں حقیقی علم سے دور رکھ کر باریاں لگائی جاتی رہی ہیں۔
ان باریوں میں عوام کی باری کبھی نہیں آئی۔ یہاں تک کہ دس سال میں چوبیس ہزار ڈالرز قرضے میں اضافہ ہو گیا لیکن قوم کے رہنماﺅں نے سچ بتانے کی زحمت گوارا نہیں کی اور عوام کہیں نہ کہیں آج بھی ان حکمرانوں کو یاد کرتے ہیں جن کی بدانتظامی، شاہ خرچیوں، غیر ضروری منصوبوں اور مصنوعی اقدامات سے معیشت کا جنازہ نکال دیا ہے۔
اداروں کو تباہ کر دیا، غیر ضروری اقدامات سے اداروں پرمالی بوجھ بڑھایا اس کے باوجود وہی لوگ بار بار الیکشن جیت کر اسمبلیوں میں آتے رہیں، وزارتیں لیتے رہیں اور قوم کے درد مند بننے کا ڈھونگ رچاتے رہیں تو پھر نظام کی کمزوری کا سیاسی شعور کا اندازہ لگانا مشکل نہیں رہتا اس لیے اس پارلیمانی نظام حکومت میں عوام نے ہمیشہ ذات برادری، مسلک،مذہب اور جذباتی وابستگی کی بنیاد پر ووٹ دیے ہیں۔
اکثریت سے تو ووٹ لے لیے جاتے ہیں کراچی میں ہونے والے انتخابات ووٹ لیے جانے کی حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے۔
اس لیے وفاقی وزیر داخلہ کا یہ کہنا کہ ڈیلیور کیا تو آئندہ پانچ سال بھی ہم ہوں گے۔ شاہ جی شاید نہیں جانتے کہ عوام تو ناکام رہنے والوں کو بھی دوبارہ منتخب کر لیتے ہیں۔ جنہوں نے قوم کو بے دردی سے لوٹا ہے وہ دوبارہ بھی اپنے آپکو وزیراعظم ہاﺅس میں دیکھنا چاہتے ہیں۔
اقتدار کی خواہش کیلئے ملکی مفاد کہیں بہت پیچھے رہ گیا ان حالات میں عوامی مسائل کو کون پوچھے گا اس لیے ہمارے ہاں کارکردگی کی بنیاد پر حکومتیں کم ہی بنتی ہیں۔ عوام کو جس دن یہ شعور آگیا کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط اس دن تبدیلی آ جائے گی لیکن مستقبل قریب میں ایسا ممکن نہیں ہے۔ اس نظام کی خرابی کی وجہ ملک قرضوں میں جکڑا ہوا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ڈیلیور کیسے کر سکتی ہے اس کے لیے مختصر اور طویل مدت کی منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔ پہاڑ جیسے مسائل حکومت کے سامنے ہیں۔ مختصر وقت میں عوام کی زندگی کو آسان بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں، اشیاء خوردونوش کی مناسب قیمتوں پر فراہمی کو یقینی بنایا جائے، عوام کو تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ کھیل کے مواقع پیدا کیے جائیں۔ نوجوانوں کو صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع دیے جائیں۔ ترقیاتی کام کروائے جائیں۔ امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جائے، جرائم کی روک تھام کے لیے اداروں کو فعال بنایا جائے، کسانوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے، ڈاکٹرز کے مسائل حل کیے جائیں۔
طویل المدتی منصوبوں میں قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ بیرونی دنیا سے بہتر تعلقات قائم کیے جائیں، بیرونی دنیا میں ملک کی ساکھ اور سبز پاسپورٹ کی اہمیت میں اضافے کے لیے کام کیا جائے۔ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے اندرونی طور پر کرپشن پر قابو پایا جائے۔ پاکستان کے حکمرانوں کے بارے منفی تاثر کو ختم کرنے کے لیے کرپشن میں ملوث سیاست دانوں کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں۔ خطے میں ملک کو درپیش مسائل حل کرنے کے لیے ہمسایہ ممالک سے بامقصد مذاکرات کیے جائیں۔یہ تمام کام کیے بغیر اگر کوئی حکومت یہ سمجھے کہ وہ ڈیلیور کر رہی ہے تو وہ غلط ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے وزراء کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے احتساب کا سخت نظام قائم کرے۔ وزراء اپنے دفاتر میں زیادہ وقت گذاریں عوامی مسائل حل کرنے کی طرف توجہ دیں اور جس نعرے کے ساتھ حکومت کا قیام عمل میں آیا ہے اس وعدے کو بنھانے کے لیے کام کریں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*