پاک فوج کا نہ دھرنے سے کوئی لینا دینا اورنہ ہی سیاست میں کردارہے ، ڈی جی آئی ایس پی آر

اسلام آباد (آئی این پی )ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے جے یو آئی (ف) کے آزادی مارچ میں فوج کے کردار کی باتوںکو سختی مستردکرتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا مارچ سیاسی سرگرمی ہے اور اس سے پاک فوج کا کوئی لینا دینا نہیں، فوج ملکی دفاعی وسلامتی کے کاموں میں مصروف ہے،بھارت سے آنے والے سکھ یاتری صرف کرتارپور تک ہی محدود رہیں گے ،کرتارپور بھارت سے آنے والے سکھ یاتریوں کے لیے یکطرفہ راستہ ہے اور کرتارپور میں ملکی سیکیورٹی یا خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا تاہم سکھ یاتریوں کی پاکستان آمد قانون کے مطابق ہو گی، مولانا فضل الرحمان سینئر سیاستدان ہیں اور وہ پاکستان سے محبت کرتے ہیں،مسئلہ کشمیر پر کوئی سمجھوتہ کیا اور نہ ہی کبھی ہو گا، حکومت اور فوج اپنے طور پر کشمیر کے مسئلے پر کام کر رہی ہیں ،کشمیر سے متعلق ہم پیچھے نہیں ہٹ سکتے، مسئلہ کشمیر کا کرتارپورراہداری سے کوئی تعلق نہیں ۔ بدھ کو نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی آئی ایس پی آر) میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ فوج مکمل غیرجانبدارادارہ ہے جو ملکی دفاعی کاموں میں مصروف ہے ،فوج خودکوکسی چیزوں میں ملوث نہیں کرتی کہ الزام تراشی کاجواب دیں۔ انہوں نے کہاکہ فوج20سال سے سیکیورٹی کے جن کاموں میں مصروف ہے،فوج بطورادارہ کسی بھی سرگرمیں میں ملوث نہیں،میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ یہ دھرنا ہے یامارچ یہ سیاسی سرگرمی ہے ،دھرنے میں فوج کاکوئی کردارنہیںمولانا فضل الرحمان سینئر سیاست دان ہیں اور پاکستان سے محبت کرتے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ الیکشن میں فوج کاکوئی کردارنہیں،صرف سیکیورٹی کےلئے بلایاجاتاہے،فوج حکومت کے احکامات پر عمل کرتی ہے، ہم آئین میں رہتے ہوئے ریکوزیشن پراپناکرداراداکرتے ہیں، اگر فوج کو الیکشن میں نہیں بلایا جائے گا تو نہیں جائے گی، فوج کی خواہش نہیں کہ الیکشن میں کوئی کردار ادا کرے، الیکشن کمیشن کی درخواست پر اپنے فرائض انجام دیئے، دوران الیکشن فوج نے صرف سکیورٹی کی ذمہ داریاں ادا کیں۔ کرتار پور راہداری کے حوالے سے ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ یہ یکطرفہ راہداری ہے، بھارتی سکھ زائرین صرف حاضری دینے کے لیے آئیں گے، یہ ایک انچ کہیں آگے نہیں جا سکتے،وہ متعلقہ جگہوں پر جا سکتے ہیں وہ صرف کرتارپور تک محدود رہیں گے، یہ لوگ حاضری دے کر واپس چلے جائیں گے،دیگر سکھ زائرین ویزے کے حصول کے بعد آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کرتار پور میں ملکی سیکیورٹی یا خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ، شناختی دستاویز اور ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، کرتار پور راہداری سکھ کمیونٹی کے لیے ہے، اسے سیاسی معاملہ نہ بنایا جائے۔میجر جنرل آصف غفور کا مزید کہنا تھا کہ کرتار پور راہداری کا کشمیر سے لنک نہیں بنتا، مسئلہ کشمیر پر کوئی سمجھوتہ کیا اور نہ ہی کبھی ہو گا۔ حکومت اور فوج اپنے طور پر کشمیر کے مسئلے پر کام کر رہی ہیں ،کشمیر سے متعلق ہم پیچھے نہیں ہٹ سکتے ، کشمیر کا مسئلہ ستر سال سے چل رہا ہے ، کشمیر پر پاکستان کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا ، کشمیر ایک الگ ایشو ہے اس کاکرتارپور راہداری سے کوئی تعلق نہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*