خوف حکومت کی کامیابی کا ہے

تحریر : مسز جمشید خاکوانی
مولانا صاحب کا فرمانا ہے کہ ہمارے کشمیر کمیٹی کی چیئر مینی کے وقت کسی کی ہمت نہیں تھی کشمیر کو چھیڑ سکے ،ارے مولانا یہی تو سارا مسلہ تھا آپ کو یہ کشمیر کا مسلہ دبانے کے ہی پیسے ملتے تھے بھلا آپ کیوں چھیڑتے اب جب اس حکومت نے مسلہ کشمیر کو عالمی سطع پر اٹھایا جنرل اسمبلی میں عمران خان کی ساری تقریر ہی اسی پر تھی اس تقریر کی وجہ سے بھارت دباﺅ میں آیا اس نے مدد کے لیے اپنے خریدے ہوئے مہروں کو آگے بڑھایا جو ایک ایک کر کے پٹتے گئے اور باقی بچے آپ ،جن کے پاس مذہب کا سب سے خطر ناک کارڈ ہے اور پاکستانی ہمیشہ مذہب کے نام پر بے وقوف بنتے آئے ہیں اس لیے تو آپ کو مدرسوں میں ریفارمز کے نام پر آگ لگ گئی کیونکہ اتنی تعداد میں ایک جگہ جاہل ،بے دام غلام جمع کرنا آپ جیسے لوگ ہی کر سکتے ہیں ذرا سوچیے اگر ان میں شعور ہوتا تو آپ وزیر اعظم نہ ہوتے؟ ظاہر ہے معصوم ،و بے خبر بچے جب شعور کی منزل کو پہنچتے ہیں آپ کا اصل جان لیتے ہیں۔
ذرا یہ بتائیے آپ تو ہر حکومت کا حصہ رہے آپ نے اپنے علاوہ کس کا بھلا کیا؟ اور یہ بات کتنی عجیب سی لگ رہی ہے پی ٹی آئی کے دھرنے کو بزور قوت منتشر کرنے کے مشورے آپ جناب اسمبلی میں کھڑے ہو کر دیتے تھے آپ کا فرمانا تھا یہ کیا بات ہوئی جو بھی جتھہ لے کر دارلحکومت میں گھس آئے اور حکومت چھین لے انہوں نے تو صرف چار حلقے کھولنے کا مطالبہ کیا تھا۔آپ مکمل الیکشن کا مطالبہ کر رہے ہیں ،انہوں نے نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا پ تو وزیر اعظم کو گھر کے اندر سے گرفتار کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں ،انہوں نے بھی ری الیکشن کا مطالبہ نہیں کیا تھا صرف دھاندلی کی نشاندہی کی تھی اور سب جماعتوں نے کی تھی تب آپ خاموش رہے دھاندلی 2008کے الیکشن میں ہوئی 2013کے الیکشن میں بھی ہوئی یہ بات آپ بھی مانتے ہیں لیکن اقتدار میں حصہ ملتے ہی آپ کو نیند آ جاتی تھی شائد لسی کا اثر تھا اب پہلی بار آپ کو کوئی سیٹ نہیں ملی تو آپکی نیند اکھڑ گئی ڈیزل کا پرمٹ نہیں ملا تو مہنگائی بھی کاٹنے لگی ،بنگلہ چھنا تو عوام کی بھوک پیاس بھی نظر آنے لگی اور یہ بات کتنی عجیب ہے ہمارے ازلی دشمن بھارت کے 145چینل آپکو کوریج دے رہے ہیں بھارتی فوجی افسر آپ سے آس لگائے بیٹھے ہیں کہ فضل الرحمن اسلام آباد پہنچ گیا ہے اب ہر طرف خون ہی خون ہوگا مولانا آپ کیوں بھول جاتے ہیں یہ انویسٹمنٹ انہوں نے نواز شریف پر بھی کی تھی اور توقعات مریم بی بی سے بھی وابستہ کر لی تھیں کہ اب ہوئے پاکستان کے ٹکڑے کہ تب ہوئے ،تیرہ سال آپ لوگوں نے ہر ستم کیا اس ملک کو توڑنے کے لیے ،کیا ہم غافل تھے؟ ادھر بارڈر سے بھارت حملہ کرتا اندر سے آپ لوگ حملہ کرتے ،ادھر کشمیر پر ظلم کرتے ادھر آپ لوگوں کو سپورٹ کرتے کیا اس کا جواب دینا پسند کریں گے آپ ؟کہ بھارت کو کب ہمدردی ہوئی پاکستانی عوام سے یہ معقولہ تو سب کو پتہ ہے دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے۔آپ لوگوں کی فوج دشمنی کی وجہ سے بھارت آپ کا دوست ہے ورنہ اس کو آپ لوگوں سے کوئی ہمدردی نہیں ،میں نے تو ایک جگہ پڑھا ہے ۔
کہ آپ کے والد مولانا مفتی محمود مدرسہ دیو بند میں نہیں بلکہ کسی اور مدرسے میں پڑھے تھے مدرسے میں انہوں نے کوئی ایسی حرکت کی کہ ان کو مولانا حسین احمد مدنی نے مدرسے سے نکال دیا اور ان کے فارم یعنی سرٹیفکیٹ پر لکھ دیا اس کو کسی دیو بندی مدرسے میں داخلہ نہ دیا جائے وہ سرٹیفکیٹ دکھاتے تو داخلہ نہیں ملتا تھا ویسے پھر شروع سے پڑھنا پڑتا لہذا انہوں نے تعلیم ترک کر دی برصغیر کے اسی فیصد مدرسے موجودہ انڈیا میں تھے لہذا جب تقسیم ہوئی تو پاکستان میں علما کی کمی ہو گئی اکثریت وہاں رہ گئی اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ تقریبا اسی فیصد علماء تقسیم ہند کے خلاف تھے یوں مفتی محمود بغیر علم مکمل کیے مفتی بن گئے مولانا عبدالستار خان نیازی بڑے عالم تھے میانوالی کے رہنے والے تھے بہت ہی دلیر اور صاف گو انسان تھے لوگ کہتے ہیں عدالت میں قید ،سزا سے بچنے کے لیے بھی کبھی انہوں نے جھوٹ نہیں بولا ،وہ کہتے ہیں مفتی محمود سے ملنے میں ڈیرہ گیا ہم بیٹھے باتیں کر رہے تھے ایک نوجوان لڑکا بار بار اندر آتا ،آخر مفتی محمود صاحب نے اسے ڈانٹ دیا میں نے پوچھا کون ہے تو بولے یہ میرا بیٹا فضل الرحمن ہے یہ میری جاسوسی کرتا ہے کہ کون ملنے آیا کیا کہا مفتی محمود۔۔۔بھٹو کے حریف تھے۔اب اللہ نے آپ کو عزت دی ہے فوج نے آپ کی اوقات سے زیادہ نوازہ ہے اور آپ اسی فوج کے خلاف کھڑے ہو گئے ہیں صرف اس لیے کہ فوج پاکستان بچانے کی کوششوں میں جمہوری حکومت کے ساتھ کھڑی ہے ؟ اگر آپ لوگ اس کو سلیکٹڈ بھی کہتے ہو تو آپ کو معلوم ہونا چاہیے کسی میں کوئی ہنر ہوتا ہے تو اسے سلیکٹ کیا جاتا ہے آپ تو ریجیکٹ ہیں اس پر صبر کریں ،انتظار کریں۔
پاکستان نے ورلڈ بینک کے ڈوئنگ بزنس انڈکس میں اٹھائیس پوائنٹس کی جمپ ماری ہے اور 108ویں نمبر پر آ گیا ہے جو پہلے 136 نمبر پر تھا ،کیا آپ جانتے ہیں اب سی پیک کے تحت چائنا اگلے ہی ہفتے گوادر میں 300میگا واٹ کے پاور پلانٹ کا افتتاح کرنے جا رہا ہے اور اسی اگلے ہفتے کے اجلاس میں ایم ایل ون جو کہ ریلوے لائن کا پروجیکٹ ہے جس میں اکنامک زون ہیں کراچی سرکلر ریلوے ہے ان سب پر بات ہوگی اور یہ بھی سن لیں دنیا کے بڑے معاشی جریدے بلوم برگ نے اپنی ایک رپورٹ میں پاکستان کی اکانومی کو دوہزار چوبیس کے اندر ٹاپ ٹوئنٹی گلومبرگ گروتھ پلیئر میں شامل کیا ہے۔
اگر آپ نہیں جانتے تو تو لوگوں کو یہ کہہ کر گمراہ بھی نہ کریں کہ عمران نے معیشت تباہ کر دی ہے جو معیشت آئی سی یو میں پڑی تھی وہ کس طرح بہتری کی طرف آ رہی ہے میڈیا پلیٹ لیس کی خبریں تو دیتا ہے ملک کی بہتری کی خبریں کیوں نہیں دیتا ؟کیوںہ وہ اس حکومت کو کامیاب نہیں دیکھنا چاہتا وہ عوام کو انتشار اور مایوسی میں دھکیلنا چاہتا ہے اور اس کا سبب آپ جیسے منفی سوچ کے مالک منافق سیاست دان ہیں ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان پچھلے ایک سال کے اندر کیے گئے اقدامات کی وجہ سے پاکستان ٹاپ ٹین گلوبل ریفارمز میں چھٹے نمبر پر ہے جب سے انڈیکس میں بہتری آئی ہے معیشت کی نبضیں بحال ہو رہی ہیں کچھ لوگوں کی سانسیں اکھڑنے لگی ہیں نبضیں ڈوبنے لگی ہیں۔
ہمارا میڈیا کبھی ہمیں یہ رپورٹیں نہیں دکھاتا نہ اس پر بات کرتا ہے کیونکہ اس کو لفافے ہمیں مایوس کرنے کے ملتے ہیں امید دلانے کے نہیں ایک سال سے ہر گھڑی ہر پل ہم نے سیاستدانوں کی بیماریوں ان کے علاج ان پر اٹھنے والے اخراجات ،ان کی مظلومیت ،دھونس ،دھمکیاں دھرنے جلسے ان کے سوا کوئی خبر نہیں سنی تو قوم میں انتشار اور بے چینی تو پھیلے گی ہماری پاکستانی عوام اسلام کے لیے اپنی جان کی بازی لگانے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگائے گی یہ بات سب بخوبی جانتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ عوام ہر دفعہ آپکے مذہب کارڈ کے دھوکے میں آئے گی جب آپکے نواز شریف نے ختم نبوت بل میں ترمیم کی تھی تب تو آپ ان کے ساتھ کھڑے تھے تب تحفظ نبوت کا خیال نہیں آیا اور اب جب کہ ملک میں ایسا کوئی مسلہ نہیں اصلاحات کا عمل جاری ہے معیشت سنبھل چکی ہے مثبت اشارے مل رہے ہیں آپ لاﺅ لشکر لے کر دارلحکومت پر چڑھ دوڑے؟اب سوشل میڈیا کا دور ہے آپکے علاقے کے لوگوں نے ہی آپ کے کرتوتوں سے پردہ اٹھایا ہے کہ کس طرح مسجدوں سے اعلان کیے گئے چھوڑو نمازیں ،چھوڑو مدرسے نکلو گھروں سے اسلام آباد میں اسرائیل کا جھنڈہ لگنے جا رہا ہے عمران خان نے قرار داد پاس کر لی ہے۔
اسرائیل کو تسلیم کرنے کی،اس طرح کا الزام تو آپ پر بھی ہے کہ پچیس جولائی کو آپ اردن کے راستے اسرائیل گئے تھے کیا لینے گئے تھے جس لشکر کو آپ لے کر آئے ہیں وہ بیچارے خود بتا رہے تھے قائدین نے کہا یہودی ایجنٹ کو حکومت سے ہٹانا ہے ہمارے پاس تو نہ ٹی وی ہے نہ کوئی خبر ایسے معصوم لوگوں کو مروانا اپنی غرض کے لیے ڈھال بنانا کہاں کا انصاف ہے خود تو آپ اسلام آباد اپنی رہائش گاہ میں آرام سے رات گذارتے ہیں وہ بے چارے سردی مرتے ہیں حکومت نے جو کینٹینر لگائے تھے وہ انہی میں بستر لگا لیتے ہیں لیکن کب تک میں نے تو سنا ایک ایک کارکن دس روٹیاں کھا جاتا اور دن بھر چائے سو اسلام آباد میں آٹے اور دودھ کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے ایسے میں آپ اپنے لیے اور ان کے لیے آسانی پیدا کریں اس بار وہ فارمولا نہیں چلے گا جو مشرف کے خلاف تم سب نے مل کر آزمایا تھا کاٹھ کی ہنڈیا بار بار نہیں چڑھا کرتی۔
٭٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*