ہم کب تک کشمیریوں کےساتھ کھڑے رہیں گے؟؟؟؟؟

محمد اکرم چودھری
ہر گذرتا دن کشمیریوں کے لیے اذیت کا سامان کرتا ہے، ہر گذرتا دن ان کے لیے تکلیف میں اضافے کا سبب بنتا ہے، ہر گذرتا دن کشمیریوں کے مسائل میں اضافہ کر رہا ہے، ہر گذرتا دن کشمیریوں کے لیے مصائب بڑھا رہا ہے، ہر گذرتا دن مظلوموں کے صبر کا امتحان ہے، ہر دن وہ ایک نئی آزمائش میں مبتلا ہوتے ہیں، ہر دن انہیں نئی اذیت کا سامنا ہوتا ہے، ہر دن انہیں بھارتی فوج کے ظلم کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کشمیریوں سے ان کی آزادی چھین لی گئی ہے، حتی ٰکہ ظالمانہ، متعصبانہ اقدامات سے ان کی شناخت بھی چھیننے کی کوشش کی گئی ہے۔ بھارتی حکومت کے تمام تر اقدامات، سختیوں اور ظلم کے باوجود کشمیر کے لوگوں میں آزادی کی تڑپ ختم نہیں ہوئی آج بھی کشمیریوں میں آزادی کی جستجو میں کوئی کمی نہیں آئی، گذشتہ روز بھی مقبوضہ وادی کے کئی علاقوں میںبھارتی حکومت کے مظالم کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں، آزادی کے متوالے سخت کرفیو کے باوجود اپنے بنیادی حق کے لیے باہر نکلے اور تمام پابندیوں کو توڑتے ہوئے احتجاج کیا ہے۔ پانچ اگست سے آج تک کشمیریوں کو نماز جمعہ کی ادائیگی کی آزادی نہیں دی گئی، اتنی سختی اور ظلم ہے مذہب کو بھی نہیں بخشا گذشتہ روز بھی مقبوضہ کشمیر میں نماز جمعہ کی اجازت نہیں دی گئی۔ بہادر کشمیریوں نے سخت حالات کے باوجود آزادی کے نعرے بلند کیے ہیں۔ بھارت طاقت کے نشے میں کشمیریوں کے حقوق غصب کیے بیٹھا ہے اور اب اس نے آزادی کا مطالبہ کرنے والوں کو اور زیادہ سختی، شدت اور طاقت کے ساتھ دبانے کی حکمت عملی ترتیب دی ہے۔
پانچ اگست سے اب تک نریندرا مودی اور ان کے ظالم ساتھی اس حکمت عملی پر کام کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ کتنا بڑا ظلم ہے کہ اسی لاکھ انسانوں کو قید کر دیا گیا ہے، ان کا روزگار تباہ کر دیا گیا ہے۔ اسی لاکھ انسانوں کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہے۔
اسی لاکھ جیتے جاگتے انسانوں کے گھروں کو قید خانہ بنا دیا گیا ہے، اسی لاکھ انسانوں کے مستقبل کا فیصلہ ان کی مرضی اور مشاورت کے بغیر زبردستی کر دیا گیا ہے اور دنیا نے اب تک اس غیر انسانی سلوک پر عملی طور پر کچھ نہیں کیا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ مذمتی بیانات جاری ہو رہے ہیں، مظاہرے ہو رہے ہیں، خطوط لکھے جا رہے ہیں، یادداشتیں پیش کی جا رہی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی تشویش بڑھ رہی ہے لیکن اسی لاکھ انسانوں کو قید سے نکالنے اور انہیں ان کا بنیادی حق دلانے کے لیے کسی نے عملی طور کوئی کام نہیں کیا۔ پاکستان نے اب تک سفارتی سطح پر اپنی ذمہ داری نبھانے کی کوشش کی ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ اسی لاکھ کشمیری بھی یہ جانتے ہیں کہ اس مسئلے کا حل سفارتی نہیں عسکری ہے اور ہمارے کشمیری بہن بھائی اس حوالے سے فیصلے کے منتظر ہیں۔ دوسری طرف بھارت میں بھی کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے حوالے سے کانگریس کے شدید تحفظات ہیں۔ راہول گاندھی کو کشمیر کے عوام سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی اب کانگریس نے تنازع کشمیر حل کرنے کے لیے انگلینڈ سے مداخلت کی درخواست کی ہے۔کانگریس کے رہنماﺅں نے برطانوی اپوزیشن لیڈر جیرمی کوربن سے ملاقات میں مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ جیرمی کوربن نے ملاقات کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کانگریس رہنماوں سے کشمیر کی صورتحال پر بات چیت ہوئی ہے۔ کانگریس رہنما سمجھتے ہیں کہ وہاں مداخلت نہیں ہونی چاہیے پانچ اگست کے اقدامات سے حالات بہت کشیدہ ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ اس مشق کا کیا فائدہ نکلتا ہے۔ کانگریس کے اراکین نے اندرون ملک بھی کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے خلاف آواز بلند کی تھی۔ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں جگہ کانگریس کا موقف اس حوالے سے واضح رہا ہے لیکن نریندرا مودی کی ظالم سرکار اب تک اپنے فیصلے پر قائم ہے۔ایک طرف یہ سب کچھ ہو رہا ہے تو دوسری طرف کشمیر میں لاک ڈاون کے دوران ہی مقامی انتخابات کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔
کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد یہ پہلی انتخابی سرگرمی ہو گی۔ انتخابات کا پہلا مرحلہ چوبیس اکتوبر سے شروع ہو گا۔ یہ انتخابات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب کشمیر کے تمام نمایاں سیاستدان قید یا نظر بند ہیں۔ کشمیر کے گورنر کہتے ہیں کہ تمام سیاستدانوں کو ایک ایک کر کے رہا کر دیا جائے گا۔ وہ یہ نہیں بتا پائے کہ اس عمل میں کتنا وقت لگے اور تمام سیاستدان کب تک آزاد ہوں گے۔ حزب اختلاف نے ان انتخابات کو جعل سازی قرار دیا ہے۔
بڑے پیمانے پر جعلسازی کا عمل شروع ہونے والا ہے۔ جب اسی لاکھ لوگ قید ہوں، ایک دوسرے سے ملنے کی پابندی ہو، سیاست دانوں کو جیل میں ڈال رکھا ہو تو امیدواروں کا انتخاب کیسے ہو گا اور ووٹرز کیسے باہر آں گے۔وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے ایک مرتبہ پھر کشمیریوں کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کو دہرایا ہے انہوں نے بین الاقوامی نشریاتی اداروں کے تعصب کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے بین الاقوامی میڈیا اس انداز میں کشمیر میں ہونے والے مظالم کو دنیا کے سامنے نہیں رکھ پایا۔ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کا پلان بی کیا ہو گا۔ بھارت تو اپنی طرف سے تمام کام مکمل کر چکا ہے، اس نے کرفیو اور لاک ڈاون کے دوران ہی انتخابات کا ڈرامہ رچانے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔ ہم کب تک کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہونے کے بیانات جاری کرتے رہیں گے یا پھر ہم صرف یہی بیانات جاری کرتے رہیں گے، کیا ہم کبھی بیانات سے آگے بڑھیں گے۔ یہی وہ سوال ہے جو آج بھی ذہنوں میں ہے۔ اس کا جواب کب آتا ہے اس بارے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا۔
٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*