ترکی پاکستان کو اپنا بھائی اور دوست سمجھتا ہے،رجب طیب اردگان

استنبول(آئی این پی)ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ ترکی پاکستان کو اپنا بھائی اور دوست سمجھتا ہے اور اس کے ساتھ قریبی برادرانہ تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے، ترکی کشمیر ی عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل تک اپنی حمایت جاری رکھے گا،بھارتی آئین سے آرٹیکلز370اور 35الف کا خاتمہ غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے ،مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور ظلم و بربریت کا فوری خاتمہ ہونا چائیے، تمام مذاہب دہشتگردی اور انتہاپسندی کی نفی کرتے ہیں ،دہشتگردی اور انتہاپسندی کو کسی بھی مذہب سے منسلک کرنا افسوس ناک ہے۔ہفتہ کو ترک صدر نے استنبول میں تیسری اسپیکر کانفرنس کے شرکاءکے اعزاز میں دیے جانے والے استقبالے کے موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے غیر رسمی ملاقات کی ۔ اسپیکر اسد قیصر خطے کے ممالک کی تیسری اسپیکرز کانفرنس جو دہشتگردی کے خاتمے اور خطے کے ممالک کے مابین رابطوں کو فروغ دینے کے موضوع پر استنبول میں منعقد ہورہی ہے میں شرکت کے لیے ترکی کے دورے پر ہیں۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ پاکستان اور ترکی دو قالب یک جان کی مانند ہیں،دونوں ممالک مذہب، اخوت، تاریخ اور ثقافت کے لازوال رشتے میں بندھے ہوئے ہیں اور دونوں ممالک ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ترکی کے ساتھ اپنی بے مثال دوستی پر فخر ہے۔انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں صدر رجب طیب اردوگان کے خطاب کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ صدر رجب طیب اردگان نے جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر اور مسلم امہ کو درپیش مسائل کو جس موثر انداز سے اجاگر کیا ہے اس سے ان امور پر وزیر اعظم پاکستان کے اصولی موقف کو تقویت ملی ہے۔انہوں نے پاکستان ، ترکی اور ملائشیا کی جانب سے اسلامو فوبیا کے تدارک اور اسلام کے حقیقی تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے مشترکہ ٹی وی چینل کے قیام کے فیصلہ کو سراہا۔انہوں نے مسلم امہ کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مسلم ممالک میں اتحاداور ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام امن و سلامتی کا مذہب اور دہشتگردی کی شدید نفی کرتا ہے۔ انہوں نے کشمیر پر ترکی کے واضح اور دو ٹوک موقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ ترکی نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی حمایت کی ہےاور عالمی سطح پر اس مسئلے کے حل کے لیے موثر انداز میں آواز اٹھائی ہے۔ انہوں نے کشمیر میں جاری بھارتی جاریت اور بربریت کے خاتمے کے لیے ترکی کو کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوے مسئلہ کشمیر کا کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق پر امن حل خطے کی ترقی اور امن کے لیے ناگزیر قرراد دیا۔انہوں نے عالمی برادری پر کشمیر میں کرفیو اور بھارتی افواج کی بربریت کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرنے کی ضرورت پربھی زور دیا۔ ترکی کی صدر رجب طیب اردوگان نے کہا کہ ترکی پاکستان کو اپنا بھائی اور دوست سمجھتا ہے اور اس کے ساتھ قریبی برادرانہ تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کو سراہتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے جنرل اسمبلی میں مسلم امہ اور کشمیر ی عوام کی صحیح معنوں میں ترجمانی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی کشمیر ی عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل تک اپنی حمایت جاری رکھے گا۔انہوں نے بھارتی حکومت کی جانب سے بھارتی آئین سے آرٹیکلز370اور 35الف کا خاتمہ غیر قانونی اور غیر اخلاقی قرار دیتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور ظلم و بربریت کا فوری خاتمہ کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے امہ کو درپیش چیلنجز کے خاتمے کے لیے اتحاد کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ تمام مذاہب دہشتگردی اور انتہاپسندی کی نفی کرتے ہیں ،دہشتگردی اور انتہاپسندی کو کسی بھی مذہب سے منسلک کرنا افسوس ناک ہے۔ اس موقع پر ترکی کے گرینڈ نیشنل اسمبلی کے اسپیکر مصطفی سنتوپ بھی موجود تھے ۔اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر تیسری اسپیکرز کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے اپنے خطاب میں کشمیری عوام پر بھارتی بربریت کو بے نقاب کریں گے اور دہشتگردی کی خاتمے کے لیے علاقائی رابطوں کو فروغ دینے کی اہمیت کو اجاگر کریں گے۔ کانفرنس میں اسپیکر قومی اسمبلی کے علاوہ نیشنل پیپلز کانگرس آف چائنہ، گرینڈ نیشنل اسمبلی آف ترکی ، افغان وولسی جرگہ ، روس کی اسٹیٹ ڈوما اور مجلس شوری اسلامی ایران کے پریذئیڈنگ آفیسر شرکت کر رہے ہیں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*