پاکستان سٹیزن پورٹل عوام کی شکایات کے ازالے کا سب سے موثر ذریعہ بن گیا

اسلام آباد(آئی این پی)پاکستان سٹیزن پورٹل عوام کی شکایات کے ازالے کا سب سے موثر ذریعہ بن گیا ہے ،وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے قائم کیے گئے پاکستان سٹیزن پورٹل سے ملک کے طول و ارض سے تعلق رکھنے والی عوام براہ راست مستفید ہورہی ہے۔ اپنے قیام کے محض گیارہ ماہ میں شکایات کے ازالے کے حوالے سے پاکستان سٹیزن پورٹل ملک کا سب سے معروف ترین پلیٹ فارم بن چکا ہے جس پر ملک بھر کے شہری اپنی شکایات اعلی حکام تک پہنچا سکتے ہیں اور وزیرِ اعظم آفس کی جانب سے اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ ان شکایات کا ازالہ ہو۔ وزیرِ اعظم کی ہدایت کے مطابق تمام وزارتوں کی جانب سے پاکستان سٹیزن پورٹل پر موصول ہونے والی شکایات کے ازالے کی رپورٹ باقاعدگی سے وزیرِ اعظم کو مہیا کی جا رہی ہے۔ جس میں نہ صرف ازالہ شدہ شکایات کے حجم کی نشاندہی کی جاتی ہے بلکہ عوام کی جانب سے فراہم کردہ فیڈ بیک جس میں وہ اپنی شکایات کے ازالے کے حوالے سے آرا کا اظہار کرتے ہیں اس کے متعلق بھی مفصل رپورٹ وزیرِ اعظم آفس کوباقاعدگی سے فراہم کی جا رہی ہے۔ پاکستان سٹیزن پورٹل پر اب تک گیارہ لاکھ تہتر ہزار سے زائد شہری مندرج ہیں۔اب تک بارہ لاکھ تینتیس ہزارشکایات موصول ہوئی ہیں جن میں سے 1057334شکایات کا ازالہ کیا جا چکا ہے جو کہ 86فیصد بنتا ہے۔ ان میں وفاق کی سطح پر 92فیصد کا ازالہ کیا گیا، پنجاب میں 88فیصد کا ازالہ کیا گیا۔ خیبر پختونخواہ میں 87فیصد، بلوچستان میں 79فیصد جبکہ سندھ میں ازالے کی یہ شرح محض 40 فیصد رہی۔ ایک سروے رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کے رہائشی شہاب حیدر نے بتایا کہ اس کا سی ڈی اے کے ایک سیکٹر میں پانچ مرلے کا پلاٹ تھا۔ اس نے تقریبا ڈیڑھ سال پہلے اپنے پلاٹ کے قبضے کے لئے سی ڈی اے کی جانب سے مطلوبہ لیٹر کے لئے درخواست دی لیکن سی ڈی اے کے متعلقہ حکام کی جانب سے مطلوبہ پوزیشن لیٹر کا اجرا نہیں کیا جا رہا تھا۔ شہاب حیدر نے بتایا کہ مطلوبہ دستاویز کے لئے سی ڈی اے کے بے شمار چکر لگائے۔ بالآ خر اس نے پاکستان سٹیزن پورٹل پر رابطہ کیا جہاں اسے مکمل معاونت فراہم کی گئی اورپاکستان سٹیزن پورٹل کی کوشش کے نتیجے میں اس کو اپنے پلاٹ کی مطلوبہ دستاویز مل چکی ہیں۔ شہریوں کی جانب سے موصول شدہ شکایات کا جائزہ لیا جائے تو دو لاکھ چھپن ہزار سے زائد شکایات میونسپل سروسز سے تعلق موصول ہوئیں جن میں 35%صفائی اور 13%سڑکوں کی مرمت سے متعلق تھیں۔ دو لاکھ دس ہزار سے زائد شکایاے توانائی اور بجلی سے متعلق تھیں جن میں سے 62%بجلی جبکہ 38%گیس سے متعلقہ تھیں۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار سے زائد شکایات تعلیم، اکتہر ہزار محکمہ صحت، ستر ہزار سے زائد امن و امان، تقریبا ساڑھے سینتالیس ہزارلینڈ ریونیو سے متعلق تھیں۔ انفرادی سطح پر لو گ اپنے اپنے مختلف مسائل کے لئے بھی پاکستان سٹیزن پورٹل سے بھی استفادہ حاصل کر رہے ہیں۔ لاہور سے تعلق رکھنے والی محترمہ ش ط نے وزیرِ اعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی بیٹی پانچ ماہ کے بعد بازیاب ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ متعلقہ تھانے کے اہلکاروں کی جانب سے نہ صرف ان کو اور انکے خاندان کو حراساں کیا جا رہا تھا بلکہ ان سے رشوت بھی وصول کی گئی لیکن اس کے باوجود انکی بیٹی کو بازیاب نہیں کرایا جا رہا تھا۔ جب اس کی شکایت پاکستان سٹیزن پورٹل پر کی گئی تو وزیرِ اعظم کی ٹیم نے اس مظلوم عورت کا بھرپور ساتھ دیا اور بالآخر اسکی بیٹی کو بازیاب کرا لیا گیا۔ واضح رہے کہ اس شکایت کے نتیجے میں پولیس کے سینئر افسر جو کہ ڈی آئی جی کے عہدے پر تعینات تھا معطل کیا گیا۔ بہاولپور سے تعلق رکھنے والی الف۔ ی نے بتایا کہ انہوں نے پاکستان سٹیزن پورٹل پر اپنی شکایت درج کرائی کیونکہ انہیں دو سال سے بااثر خاندان سے تعلق رکھنے والا ایک لڑکا حراساں کر رہا تھا دھمکیاں دے رہا تھا، گن پوائنٹ پر خاتون کو اغوا کرکے تصاویز بنائی گئیں اور بعد ازاں اسے بلیک میل کیا جاتا رہا۔مسمات الف نے بالآخر پاکستان سٹیزن پورٹل پر شکایت درج کرائی جس کا فوری نوٹس لیا گیا اور متاثرہ خاتون کے ملزمان کے خلاف کاروائی کو یقینی بنایا گیا اور انہیں سلاخوں کے پیچھے پہنچایا گیا۔ خاتون نے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ تمام لوگ جو اپنی پریشانیوں میں گھرے ہوئے ہیں وہ بجائے کوئی غلط قدم اٹھائیں ایسے افراد پاکستان سٹیزن پورٹل پر اپنی شکایت وزیرِ اعظم کو پہنچائیں جہاں ان کی بھرپور مدد کی جائے گی جس طرح اقرا کی کی گئی۔فیصل آباد کے رہائشی کامران نے بتایا کہ ان کا کیس تھانہ سرگودھا و فیصل آباد میں درج ہے۔ دوران تفتیش ان کے سامنے انکی بیٹی سے غلیظ سوالات کیے گئے۔ ملزم کو تھانے میں کرسی پر جبکہ مدعی کو کھڑا رکھا جاتا تھا۔ دوران تفتیش ان کو اس بات پر مجبور کیا جاتا تھا کہ وہ اپنا بیان بدل لے۔ امید کی آخری کرن سمجھ کر کامران نے پاکستان سٹیزن پورٹل پر رابطہ کیا جہاں سے اسے بھرپور معاونت فراہم کی گئی اور اسے امید ہے کہ اسکی بیٹی کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے ذمہ داران کو قانون کے مطابق سزا ملے گی۔ اکوڑہ خٹک (نوشہرہ) کی خاتون نے بتایا کہ اس کے شوہر نے علی نامی ایک شخص سے زمین لی جس نے اسے دھوکہ دیا اس کے بچوں کا حق کھا لیا۔ جو چیک دیا گیا وہ بانس ہو گیا۔ انہوں نے پولیس میں ایف آئی آر درج کرائی چا ر سال گزر گئے مگر پولیس نے ساتھ نہ دیا۔ اسکی چھوٹی بیٹی نے موبائل پر سٹیزن پورٹل کے ذریعے اپنی شکایت درج کی۔ ایک مہینے کے اندر اندر فراڈ میں ملوث شخص گرفتار ہوا اور اب وہ نوشہرہ جیل میں ہے۔ شاہد علی نے بتایا کہ وہ سعودی عرب میں کام کرتا تھا۔ کمپنی کے دیوالیہ ہونے کی وجہ سے وہ شدید مشکلات کا شکار ہوا۔ جب تک پاکستان سٹیزن پورٹل نہیں بنا تھا وہ مختلف اداروں کے چکر کاٹ رہا تھا۔ اس کے ساتھ آٹھ نو دیگر پاکستان بھی تھے۔ جب اس نے پاکستان سٹیزن پورٹل پر اپنے مسئلے کا بتایا تو سعودی عرب میں پاکستان کے سفارت خانے سمیت تمام متعلقہ اہلکاروں نے اس کی معاونت کی اور بالآخر وہ اپنے وطن واپس پہنچا۔ اسی طرح ایک اور خاتون نے بتایا کہ اس کا تعلق محکمہ صحت سے ہے لیکن نوزائیدہ بچے کی وجہ سے وہ مشکلات کا شکار تھی کیونکہ محکمے کی جانب سے نہ اسے اس کے بچے کو ساتھ رکھنے دیا جاتا تھا نہ اس کی غذائی ضروریات کی فراہمی کے لئے وقت دیا جاتا تھا۔ اس کی وجہ سے شیرخوار بچے کی صحت متاثر ہو رہی تھی۔ اس خاتون نے اپنا مسئلہ پاکستان سٹیزن پورٹل پر بتایا جس پر فوری ایکشن لیا گیا اور متعلقہ خاتون کو ریلیف فراہم کیا گیا۔ پاکستان سٹیزن پورٹل پر موصول ہونے والی شہریوں کی شکایات کی روشنی میں کئی پالیسی اقدامات لیے گئے ہیں۔ ان میں فنگر پرنٹس مٹ جانے والے افراد کی نادرا میں سہولت کاری، بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کے لئے ودہولڈنگ ٹیکس میں چھوٹ، 29000انٹرن کو 941ملین روپے کے لگ بھگ وظیفوں کی ادائیگیوں (یہ ادائیگیاں گذشتہ حکومت کی ذمہ داری تھی)، خواتین اور مخصوص افراد کی سہولت کاری کے ضمن مین پالیسی اقدامات وغیرہ جیسے اقدامات شامل ہیں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*