پاکستانی قوم کشمیر کے لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے،عمران خان

اسلام آباد (این این آئی+آئی این پی)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے بڑی تعداد میں عوام سڑکوں پر نکل آئے ، صدر مملکت عارف علوی وزیر اعظم عمران خان کی موجودگی میں انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی گئی جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے ایک بارپھر واضح کہا ہے کہ پاکستانی قوم کشمیر کے لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے اور کھڑی رہے گی ،افسوس ہے ملکوں کےلئے انسانوں سے زیادہ پیسا اہم ہے اور جبھی مقبوضہ کشمیر کو کوریج نہیں دی جارہی،کشمیریوں کے حقوق کی تحریک سمندر بن جائے گی اور کشمیریوں کی آزادی کا راستہ نظر آرہا ہے۔جمعہ کو وزیر اعظم عمران خان کی اپیل پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے بڑی تعداد میں عوام سڑکوں پر نکل آئے ، صدر مملکت عارف علوی وزیر اعظم عمران خان کی موجودگی میں انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی گئی۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ افسوس ہے کہ ملکوں کےلئے انسانوں سے زیادہ پیسا اہم ہے اور جبھی مقبوضہ کشمیر کو کوریج نہیں دی جارہی۔انہوںنے کہاکہ ہم اس لیے جمع ہیں کہ کشمیریوں کو پیغام دیں کہ پاکستانی قوم کشمیر کے لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے اور کھڑی رہے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم بار بار دنیا کو یہ پیغام دیں گے کہ 80 لاکھ انسانوں کو بھارت کی فوج نے کرفیو میں بند کیا ہوا ہے، جسے 2 ماہ سے زیادہ ہوگیا ہے، عالمی میڈیا ہانگ کانگ کے احتجاج کو فرنٹ پیج، شہ سرخی اور خبروں میں بیان کررہا ہے کہ وہاں ایک جمہوری تحریک چل رہی ہے جبکہ وہاں تھوڑے لوگ زخمی ہوئے اور 2 سے 3 لوگ مرے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں 80 لاکھ لوگوں کو ہی بند نہیں کیا، بچے، بوڑھے، خواتین، بیمار سب لوگ بند ہیں اور عالمی میڈیا میں اس کی کوریج نہ ہونے کے برابر ہے، گزشتہ 30 سال میں کم از کم ایک لاکھ کشمیریوں کی شہادت ہوئی کیونکہ وہ اپنا وہ حق مانگ رہے ہیں جو عالمی برادری، اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے دیا تھا اور وہ حق خودارادیت ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ کشمیریوں کو حق دیا گیا تھا کہ وہ اپنی زندگی کا فیصلہ خود کریں گے لیکن وہ حق نہ ملنے پر وہ احتجاج کرتے ہیں، جس پر بھارتی فوج ظلم کرتی ہے لیکن بھارتی ظلم کی یہ داستانیں کبھی کبھی عالمی اخباروں میں آتی ہیں۔عمران خان نے کہا کہ آج دنیا کے سامنے اس دہرے معیار کو سامنے رکھنا چاہتا ہوں کہ ایک طرف ایک مظاہروں کو اتنا دکھایا جاتا جبکہ دوسری طرف اتنا ظلم ہورہا اسے نہیں دکھایا جاتا، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہانگ کانگ تو چین کا حصہ ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر تو بھارت کا حصہ بھی نہیں ہے وہ تو ایک متنازع علاقہ ہے۔انہوں نے کہا کہ افسوس سے یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ یہاں دنیا یہ دیکھتی ہے کہ ایک ارب افراد سے زائد کا ایک ملک ہے، جس سے تجارت ہوسکتی ہے، ممالک کےلئے پیسہ انسانوں سے زیادہ اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ افسوس مقبوضہ کشمیر میں اتنا ظلم ہورہا لیکن میڈیا پر اس کی اتنی کم کوریج ہے لیکن میں اپنی قوم کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اللہ نے انسان کے ہاتھ میں کوشش دی ہے کامیابی اللہ دیتا ہے۔کشمیروں سے اظہار یکجہتی کے لیے موجود لوگوں سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ ہم کوشش کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے، ہماری پوری قوم کوشش کرےگی اور کشمیریوں کے بتائیں گے کہ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، انشااللہ ہماری یہ تحریک سمندر بن جائے گی۔انہوںنے کہاکہ یہ ایک تحریک، جدوجہد ہے، نریندر مودی نے جو حماقت کی ہے اور اپنا آخری پتہ کھیل دیا ہے، کشمیر کے لوگ جس طرح پر پہنچ گئے ہیں ان کا موت کا خوف ختم ہوچکا ہے، جیسے کرفیو اٹھے گا لاکھوں کشمیری سڑکوں پر نکلیں گے اور میرا ایمان ہے کہ یہ راستہ کشمیریوں کی آزادی کا ہے۔انہوںنے کہاکہ عالمی رہنماو¿ں کو پہلے مسئلہ کشمیر نہیں معلوم تھا لیکن اب سمجھ آنا شروع ہوگیا ہے، میں نے ان سے ملاقاتوں میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا ہے، کبھی امریکی سینیٹرز نے اس طرح کا بیان نہ دیا جو اب دیا جا رہا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے مودی نے بڑی حماقت کی اور آخری پتہ کھیل دیا، کشمیریوں کا موت کا خوف ختم ہوگیا، کرفیو اٹھنے کے بعد لاکھوں کشمیری باہر نکلیں گے، جو راستہ مجھے نظر آ رہا ہے وہ کشمیریوں کی آزادی کا ہے۔قبل ازیں وفاقی دارالحکومت میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے بڑی تعداد میں عوام سڑکوں پر نکلی اور اس سلسلے میں ایک ریلی بھی نکالی گئی جس میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی بھی شریک تھے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبر کے باعث محصور ہونے والے مظلوم عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی گئی جس میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان خود بھی شریک تھے۔اسلام آباد میں ایکسپریس چوک سے ڈی چوک تک انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی گئی، اس کے ساتھ ساتھ ملک کے مختلف حصوں میں بھی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیا گیا۔مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے عوام کی بڑی تعداد موجود تھی اور شرکا نے ہاتھوں میں پاکستان کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر کا جھنڈا بھی تھاما ہوا تھا۔واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست کے بھارت کے یکطرفہ اقدام کے بعد صورتحال المناک ہے اور 2 ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود وادی سے بھارتی لاک ڈاو¿ن اور کرفیو کو نہیں ہٹایا گیا ہے۔خیال رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے 2 اکائیوں میں تقسیم کردیا تھا جبکہ مذکورہ فیصلے کے سبب کشیدگی کے خطرے کے پیشِ نظر وادی میں مزید ہزاروں بھارتی فوجیوں کو تعینات کردیا تھا۔دریں اثناء وزیر اعظم عمران خان اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں اہم امور پر تبادلہ خیال ہوا۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے ترک صدر طیب اردوان کو ٹیلی فون کیا۔ دونوں رہنما وں کی گفتگو میں خطے کی حالیہ صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔وزیر اعظم عمران خان نے ترک صدر کو پاکستان کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے معاملے پر ترکی کے تحفظات کو اچھی طرح سمجھتا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار جانوں کی قربانی دی، پاکستان نے 30 لاکھ مہاجرین کو پناہ دی۔ خطے میں امن و سلامتی کے لیے ترک کوششوں کی کامیابی کے لیے دعاگو ہوں۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام آپ کے دورے اور شاندار استقبال کے منتظر ہیں۔ترک صدر 23 اکتوبر کو پاکستان کے دورے پر بھی پہنچ رہے ہیں۔ ترک صدر کا دورہ پاکستان 2 روزہ ہوگا، اس دوران وہ پاکستان کی اعلی سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ذرائع کے مطابق رجب طیب اردوان اسٹریٹیجک مذاکرات میں شرکت کریں گے، پاک ترک اسٹریٹیجک مذاکرات 23 اور 24 اکتوبر کو ہوں گے۔ 23 اکتوبر کو مذاکرات میں وزرائے خارجہ بھی نمائندگی کریں گے۔ترک صدر مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں پاکستان کے مقف کی بھرپور حمایت کر چکے ہیں۔ علاوہ ازیں، اقوام دنیا میں اسلامو فوبیا کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی پاکستان نے ترکی اور ملائیشیا کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ انگریزی چینل شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*