وزیراعلیٰ بلو چستان نے ڈی ایچ او اور ای پی آئی آفیسر ضلع پشین کو معطل کر دیا

Chief Minister Balochistan, Mir Jam Kamal

کوئٹہ(خ ن) وزیراعلیٰ بلو چستان جام کمال خان نے وزیر اعلیٰ انسپیکشن ٹیم کی سفارش پر ڈی ایچ اواور ای پی آئی آفیسرضلع پشین کو فوری طور پر معطل کرکے بیڈا (BEEDA)قوانین کے تحت انکے خلاف انکوائری کرانے کا حکم دیا ہے اس سے قبل 18ستمبر کو پرنٹ ،الیکڑانک اور سوشل میڈیا پر ضلع پشین میں دوبچیوں کی غلط انجکشن لگنے کی بناءپر اموات کی خبروں کا نو ٹس لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے انسپیکشن ٹیم کو واقعہ کی تحقیقات کرنے اور رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی تھی ۔وزیر اعلیٰ انسپیکشن ٹیم کی رپورٹ کے مطابق ڈیڑھ سالہ صفیہ بنت طور جان اور دوسالہ شازیہ بنت خدائیداد بالترتیب 16اور 17ستمبر کو جان کی بازی ہار گئی تھیں ۔،دونوںبچیوں کے والد آپس میںبھائی ہیں انہو ںنے بتایا کہ صفیہ کو انجکشن لگوایا تھا جس کے بعدوہ ڈائریا اور بخار میں مبتلا ہو گئیں اورپھر ان کی طبیعت سنبھل نہ سکی انکوائری کے دوران ڈی ایچ او اور انکی ٹیم کی جانب سے بتایا گیا کہ ستمبر میںہو نے والی ویکسینشن کے دوران صرف صفیہ کی ویکسینشن کی گئی جبکہ شازیہ کو ویکسینشن نہیں دی گئی ۔بعد ازاں دونو ںبچیوں کی اموات نامناسب علاج کے سبب ہوئیں۔ سی ایم آئی ٹی کی رپورٹ میں کہاگیاہے کہ علاقے میں پسماندگی اور غربت بڑی وجہ ہے اور غربت کے باعث علاقے کے بچے غذائیت کا بھی شکار ہیں جو بچوں کے بر وقت اور مناسب علاج میں حائل ہوتی ہے ۔رپورٹ میں کہاگیاہے کہ ویکسینشن کے دوران صحت مند اور غذائیت کے شکار بچوں کو یکسا ں طور پر انجکشن لگائے گئے ۔ناخواندہ والدین نے انجکشن لگانے والے پر اعتماد کیا ۔انجکشن لگانے والے کو معلوم تھا کہ اس کا رد عمل ہو گا لیکن انہوں نے والدین کو احتیاطی تدابیر سے آگاہ نہیں کیا ۔اسطرح انہوں نے مجرمانا غفلت برتی ۔جس کے باعث صوبائی حکومت کیلئے عوام میں بداعتماد ی پیداہوئی۔ وزیر اعلیٰ نے رپورٹ میں کی گئی سفارش کے مطابق ڈی ایچ اواورڈسٹرکٹ ای پی آئی آفیسرکو فوری طور پر معطل کرنے او ر ان کےخلاف بیڈا رولز کے تحت مزید کاروائی کرنے کی ہدایت کی ۔وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ ویکسینشن کے بعد لازمی طور پردیکھ بھال کو یقینی بنایا جائے ۔ویکسینشن مہم کے دوران بعد کے اثرات سے نمٹنے کیلئے ضروری نگرانی کو یقینی بنایا جائے ۔ویکسینشن کیلئے استعمال ہونے والی سوئی کی صفائی کو یقینی بنایا جائے ۔ضلعی ہیلتھ کمیٹیا ں ایسے سانحات کو روکنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*