مولانا کا آزادی مارچ

تحریر:جاوید صدیق
مدرسوں کے طلبہ 1977ء کی انٹی بھٹو تحریک میں بھی اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف جب مارچ 1977ء کے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد‘ پاکستان قومی اتحاد نے تحریک شروع کی تو ابتداء میں احتجاجی تحریک ٹھنڈی تھی۔ اس میں لوگ بہت بڑی تعداد میں شرکت نہیں کررہے تھے۔ لیکن رفتہ رفتہ تحریک زور پکڑتی گئی۔ اس تحریک میں جان ڈالنے کے لیے دینی مدارس کے طلبہ اور علمائ نے بڑا اہم کردار ادا کیا تھا۔ بھٹو مخالف تحریک کا مقصد ملک میں نظام مصطفے کے نظام کا قیام تھا۔ مولانا مفتی محمود‘ مولانا شاہ احمد نورانی‘ جماعت اسلامی کے لیڈروں پروفیسر غفور احمد‘ میاں طفیل اور دوسروں نے اس احتجاجی تحریک کو ملک گیر سطح پر پھیلانے اور روزانہ کی بنیاد پر احتجاجی جلوسوں میں تعداد بڑھانے دینی مدارس اور مساجد نے بہت اہم رول کیا تھا۔آئی ایس آئی کے سابق اعلیٰ عہدیدار بریگیڈئیر (ر) ایس آئی ترمذی نے اپنی کتاب جو نوے کی دہائی میں PROFILES OF INTELLIGENCE کے نام سے شائع ہونی تھی لکھا ہے کہ بھٹو کے خلاف احتجاجی تحریک کے لئے دینی طبقوں خاص طور پر جماعت اسلامی جمعیت علمائے اسلام اور دوسری دینی جماعتوں کو متحرک کرنے میں امریکی سی آئی اے نے بڑا کردار ادا کیا تھا۔ اس کتاب میں شامل باب جس کا عنوان “THE DARK DAYS” ہے میں مصنف نے لکھا ہے کہ سی آئی اے کے اہل کار ‘ صحافیوں کے روپ میں 1976ء میں بڑی تعداد میں پاکستان آئے تھے جنہوں نے انٹی بھٹو تحریک کو منظم کرنے کے لیے دینی جماعتوں کے راہنماﺅں سے ملاقاتیں کی تھیں۔ملک کی سیاسی تاریخ میں جب بھی حکومت کے خلاف کوئی احتجاجی تحریک شروع کی گئی اس میں مذہبی جماعتوں نے اہم کردار اداکیا۔ 1996ء میں بے نظیر حکومت کے خلاف جماعت اسلامی کے احتجاجی دھرنوں کو بڑی شہرت ملی۔ ان دھرنوں نے بے نظیر حکومت کو غیر مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا تھا۔ اس دور میں صدر کے پاس آئین کے آرٹیکل 58 ٹو بی کے تحت اسمبلیاں توڑنے اور حکومت کو برطرف کرکے نوے دن میں نئے انتخابات کرانے کا اختیار ہوتا تھا۔ اس اختیار کے تحت نوے کی دہائی میں بے نظیر اور نوازشریف کی دو دوحکومتوں کو گھر بھیجا گیا۔ تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف جمعیت علماء اسلام کے راہنما مولانا فضل الرحمان نے 31اکتوبر کو آزادی مارچ کے نام سے احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔ اس مارچ کا آ غاز 27 اکتوبر سے ہوگا۔ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی اس احتجاجی مارچ میں بھرپور طریقے سے شریک ہونے کے فیصلے کے بارے میں ابھی ڈانوں ڈول ہیں۔ جماعت اسلامی نے اس مارچ سے اپنے آپ کو الگ رکھا ہے۔ جمعیت علمائے پاکستان نے بھی اس ”آزادی مارچ“ کی حمایت کا ابھی اعلان نہیں کیا۔
دوسری دینی جماعتوں نے بھی ابھی تک جے یو آئی کے ” آزادی مارچ“ یا ”دھرنے“ کی حمایت کا اعلان نہیں کیا۔ یہ مولانا فضل الرحمان اور جے یو آئی کا فی الحال ”سولو شو“ نظر آرہا ہے۔ مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت اسلام آباد تک اس مارچ کی تیاریاں کم وبیش مکمل کر چکی ہیں۔ ان کے راہنماﺅں کے مطابق پندرہ لاکھ افراد کو ”آزادی مارچ“ کے قافلے میں شامل کرنے کے لئے ٹرانسپورٹ کا انتظام مکمل کر لیا گیا ہے۔ چاروں صوبوں سے جمعیت علمائے اسلام کے مدارس کے طلبہ اور اساتذہ جن کی تعداد یقیناً لاکھوں میں ہے کو متحرک کیا جارہا ہے۔
اس مارچ پر اٹھنے والے اخراجات کے لیے چندہ بھی دینی مدارس اور جے یو آئی سے ہمدردی رکھنے والے افراد دے رہے ہیں۔ جمعیت کا دعویٰ ہے کہ وہ پندرہ لاکھ افراد کو اسلام آباد میں مارچ کے لئے لائے گی۔ پندرہ لاکھ کی فگر بہت حیران کن ہے۔ پندرہ لاکھ افراد کو متحرک کرنا اور انہیں دارالحکومت تک لانے کے لیے جن وسائل کی ضرورت ہے۔ وہ کس طرح میسر ہوں گے۔
اس بارے میں مولانا ہی بہتر جانتے ہیں۔ (ن) لیگ اور پی پی پی اس مارچ کے لئے وسائل یا ٹرانسپورٹ مہیا کرنے پر فی الحال ا?مادہ نہیں ہیں۔ پندرہ لاکھ نہ سہی دولاکھ افراد ہی دارلحکومت میں داخل ہو جائیں تو پاکستان کایہ دارلحکومت مفلوج ہو جائے گا۔ اسلام آباد والوں کو اس سے پہلے عمران خان اور علامہ طاہر القادری کے دھرنوں کا تجربہ ہو چکا ہے۔وزیر داخلہ اعجاز شاہ بڑے یقین سے کہہ رہے ہیں کہ مولانا آزادی مارچ نہیں کریں گے۔ کے پی کے کے وزیراعلیٰ نے تو یہ دعویٰ کر دیا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو ان کے گھر سے نہیں نکلنے دیں گے۔
جب کہ جے یو آئی نے جواباً وزیراعلیٰ چیلنج کیا ہے کہ وہ اپنے حلقہ مٹہ سے مارچ میں شریک ہونے والوں کوروک کر دکھائیں۔ اس لانگ مارچ کو روکنے کے لئے فورس کا استعمال ہوا تو اس کا نتیجہ تصادم کی شکل میں نکلے گا۔ تصادم یا خون خرابہ کے مضمرات بھی سنگین ہوں گے۔آزادی مارچ میں ابھی تین ہفتے باقی ہیں۔ ان تین ہفتوں میں مارچ کو رکوانے کے لئے حکومت بھی اپنا زور لگائے گی۔ جمعیت والے تو یہ حقیقت پر یہ مارچ کرنے کے لئے بتا دیں۔ اگر پس پردہ کوئی بات چیت ہورہی ہے تو اس کا نتیجہ بھی ایک آدھہ ہفتے میں سامنے ا?جائے گا مولانا اور ان کی پارٹی کو یقین ہے کہ معاشی حالات ‘ سیاسی اور انتظامی ابتری سے تنگ عام لوگ ان کے مارچ میں بڑی تعداد میں شریک ہوں گے۔ اس وقت پاکستانیوں اور باہر والوں کی نظریں مولانا کے ”ا?ٓزادی مارچ“ پر لگی ہوئی ہیں۔ ایک سوال یہ پوچھا جارہا ہے کہ مولانا کیوں اتنے پ±راعتماد ہیں کہ وہ اپنے احتجاجی مارچ کو کامیاب بنالیں گے۔ ان کے پیچھے کون سی قوت ہے؟
٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*