ریاست ماں باپ کا درجہ رکھتی ہے، اراکین بلوچستان اسمبلی

کوئٹہ(ای این آئی) بلوچستان اسمبلی کا اجلاس حسب معمول دو گھنٹے کی تاخیر سے ڈپٹی سپیکر سردار بابرخان موسیٰ خیل کی زیر صدارت شروع ہوا ۔ اجلاس میں پشتونخوا میپ کے رکن نصراللہ زیرئے نے گزشتہ روز دکی میں احتجاج پر بیٹھے مظاہرین پر تشدد کرنے والے اسسٹنٹ کمشنر کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر ایوان کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ پیر کے روز بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں صوبائی وزیر داخلہ نے اسمبلی فلور پر یقین دہانی کرائی تھی کہ انہوں نے واقعے کی رپورٹ طلب کی ہے تاہم آج احتجاجی مظاہرین پر مقدمہ درج کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ ریاست ماں باپ کا درجہ رکھتی ہے اور آئین میں شہری کو تقریر ، تحریر اور احتجاج کا پورا پورا حق حاصل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ایک آفیسر کو بچانے کے لئے احتجاج پر بیٹھے افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے وزیر داخلہ پرامن مظاہرین پر تشدد کرنے والے اسسٹنٹ کمشنر کے خلاف کارروائی یقینی بناتے ہوئے عوام پر درج مقدمہ واپس لے ۔جمعیت العلماءاسلام کے اصغرترین نے کہا کہ دکی میں پیش آنے والا واقعہ باعث افسوس ہے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر نے باقاعدہ منصوبے کے تحت مظاہرین پر دھاوا بولا انہوں نے ماتحت اہلکاروں کو پہلے ہی ہدایت کی تھی کہ وہ جب مظاہرین پر تشدد کریں تو فوری طو رپر ہوائی فائرنگ کی جائے ۔انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے ساتھ اسلحہ ہوتا اور وہ کراس فائرنگ کرتے تو اس کے نتیجے میں رونما ہونے والے سانحے کا ذمہ دار کون ہوتا ؟ انہوںنے کہا کہ عوام کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے وزیر داخلہ مقدمہ واپس لینے کے لئے متعلقہ ذمہ داروں کو ہدایت کریں ۔ جے یوآئی کے سید فضل آغا نے کہا کہ انتظامی پوسٹوں پر تعینات لوگ کچھ زیادہ ہی بے لگام ہوئے ہیں حکومت فوری طور پر واقعے کا نوٹس لے انہوںنے بولان میڈیکل یونیورسٹی اینڈ میڈیکل سائنسز کے ہاسٹل سے ہاﺅس جاب ڈاکٹرز کو بے دخل کرنے کے واقعے کی بھی مذمت کی اور کہا کہ ڈاکٹرز کے ساتھ پیش آنے والے واقعے سے ہمارا سر شرم سے جھک گیا ہے انہوںنے کہا کہ لسبیلہ میں ہندو تاجرکو قتل کیاگیا ہے پاکستان ایسے واقعات کا کسی صورت متحمل نہیں ہوسکتا۔ آئین اور اسلامی قوانین میں اقلیتوں کویکساں حقوق حاصل ہیں اور ریاست انہیں تحفظ کرنے کی ذمہ دار ہے انہوںنے وزیر داخلہ سے واقعے میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کے لئے اقدامات اٹھانے کامطالبہ کیا انہوںنے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں پر مودی سرکار جس طرح سے مظالم ڈھا رہی ہے وہ قابل مذمت ہے ۔ بہار میں آج بھی مسلمانوں کے مساجد اور گھروں کو آگ لگایا گیا ہے بھارت کے مسلم دشمن اقدامات سے اس کا سیکولر کہلانے والا چہرہ بے نقاب ہوا ہے ۔بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن اختر حسین لانگو نے گلگت بلتستان سے آنے والے اراکین اسمبلی کو ایوان میں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ دکی میں پیش آنے والا واقعہ قابل مذمت ہے ۔ انہوںنے کہا کہ بی ایم سی ہاسٹل سے بندوق کی نوک پر ہاﺅس جاب خواتین ڈاکٹرز کو بے دخل کرکے اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ نے وہاں موجود ڈاکٹروں سے جو رویہ اختیار کرکے ان کی تذلیل کی ہے ہمارے معاشرے میں ایسے رویئے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔انہوںنے کہا کہ انتظامی افسران کا یہ مائنڈ سیٹ بن گیا ہے کہ ان کی پوسٹنگ جہاں ہوتی ہے وہ خود کو وہاں کا بادشاہ سمجھتے ہیں انہیں قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنے اختیارات استعمال کرنے چاہئیں انہوںنے کہا کہ دکی میں احتجاجی مظاہرین پر تشدد اور کوئٹہ میں ہاﺅس جاب خواتین آفیسرز کے ساتھ پیش آنے والے واقعات قابل مذمت ہیں انتظامی افسران کے رویوں اور واقعات کی تحقیقات کے لئے کمیٹی قائم کی جائے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے ۔سابق وزیراعلیٰ نواب محمد اسلم خان رئیسانی نے کہا کہ چھ ماہ قبل میں نے ایوان میں قرار داد پیش کی تھی کہ سی پیک سے متعلق ہونے والے معاہدوں کو ایوان کی پراپرٹی بناتے ہوئے ایوان کو ان پر اعتماد میں لیا جائے لیکن اسے ایوان کی پراپرٹی نہیں بنایاگیا جس پر میں احتجاج کرتا ہوں انہوں نے کہا کہ اسمبلی کی قرار ادادوں کو کاغذ کا ٹکڑا سمجھ کر اسے ٹوکری میں پھینک دیا جاتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ سی پیک کا مسئلہ ایک اہم نوعیت کا مسئلہ ہے لہٰذا سی پیک سے متعلق ہونے والے معاہدوں کو ایوان کی پراپرٹی بنایا جائے اور وزیراعلیٰ بلوچستان اور متعلقہ لوگوں کو پابند کیا جائے کہ وہ ایوان سے منظورہونے والی قرار دادو ں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے ۔ انہوںنے گلگت بلتستان سے آنے والے اراکین اسمبلی کو ایوان میں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ سی پیک کے معاملے پر گلگت بلتستان کے لوگ بھی پریشان ہیں۔ اجلاس میں بی این پی کی شکیلہ نوید دہوار نے بھی بولان میڈیکل ہاسٹل سے ہاﺅس جاب ڈاکٹرز کی بے دخلی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کچھ روز قبل بھی ڈاکٹرز کو ہاسٹل سے بے دخل کیا گیا تھا جب میں وہاں پہنچی تو بکتر بند گاڑیاں اور فورسز کی بھاری نفری وہاں موجود تھی اور ہاسٹل میں رہائش پذیر ہاﺅس جاب ڈاکٹرز کا سامان روڈ پر بکھرا پڑا تھا اس سے متعلق میں نے گورنر بلوچستان سے بھی ملاقات کی تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وائس چانسلر نے طلبہ سے متعلق جو نازیبا الفاظ استعمال کئے ہیں انہیں میں یہاں بیان نہیںکرسکتی انہوںنے اے سی کوئٹہ کی جانب سے ہاسٹل میں رہائش پذیر طلبہ کے ساتھ اختیار کئے گئے رویئے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اے سی کا رویہ غیر مناسب تھا ۔جب ذمہ دار شخص کی جانب سے طلبہ کانام کالعدم تنظیموں اور دہشت گردوں کے ساتھ ان کا نام منسلک کیا جائے تو ایسے ماحول میں ہماری بچیاں کیسے تعلیم حاصل کرسکتی ہیں انہوں نے محکمہ تعلیم میں ہونے والی تعیناتیوں پر بھی ایوان میں اپنے تحفظات کااظہار کیا ۔صوبائی وزیر سماجی بہبود میر اسداللہ بلوچ نے پوائنٹ آف آرڈر پراظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں ہماری روایات باقی صوبوں سے مختلف ہیں پسماندہ صوبے میںچھ سو کلومیٹر دور سفر کرکے ہماری بچیاں اور بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں انکے ساتھ اچھا برتاﺅ اور انکی اخلاقی حوصلہ افزائی ہماری قومی اقدار اور اخلاقی ذمہ داری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بچیوں کو رات کی تاریک میں ہاسٹل سے بیدخل کرکے انکی تذلیل کرنا قابل مذمت ہے اپنے بچیوں کا دفاع کرنا جانتے ہیںغلط عمل میں جو بھی ملوث ہو اس کیخلاف کارروائی ہونی چائیے ۔ انہوں نے کہاکہ ہاﺅس آفیسر ڈاکٹرز کیساتھ پیش آنیوالے واقعہ کی تحقیقات کیلئے حکومت اور اپوزیشن اراکین پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی قائم کیاجائے ۔ بی این پی کے رکن اسمبلی ٹائٹس جانسن نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ چرچز کی سیکورٹی کیلئے خاطر خواہ اقدامات اٹھائے جائیں اس سلسلے میں گزشتہ ماہ میں نے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خا ن سے ملاقات کی تھی تاہم اس کے باوجود سیکورٹی کے حوالے سے رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ چرچ کی سیکورٹی کے حوالے سے سپریم کورٹ کے واضح احکامات ہیں اگر کسی کو مجھ سے سیاسی اختلاف ہے تو سپریم کورٹ کے واضح فیصلے کے تحت چرچز کو سیکورٹی فراہم کی جائے ۔حکومتی رکن دنیش کمار نے کہا کہ اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے سیکورٹی اقدامات کے لئے 20کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں حکومت اقلیتوں کی عبادت گاہوںکو ہر ممکن سیکورٹی فراہم کرے گی ۔ جمعیت العلماءاسلام کے شام لعل لاسی نے بھی اقلیتوں کی عبادت گاہوں سے متعلق موثر سیکورٹی اقدامات کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا انہوں نے ایوان کی توجہ بی ایم سی ہاسٹل میں قائم کینسر وارڈ کی خستہ حالی کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ کینسر وارڈ میں مریضوں کے لئے جگہ نہیں ہے گزشتہ حکومت نے2008ءمیں وارڈ کی توسیع کے لئے بجٹ میں رقم مختص کی تھی لیکن رقم لیپس ہوگئی موجودہ حکومت نے بھی اب بجٹ میں رقم مختص کی ہے اس کا فوری ٹینڈر کیا جائے ۔ بی این پی کے احمد نواز بلوچ نے بھی بی ایم سی ہاسٹل میں ہاﺅس آفیسر ڈاکٹرز کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لئے پارلیمانی کمیٹی کے قیام کا مطالبہ کیا ۔ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نائل نے محکمہ تعلیم میں ہونے والی بھرتیوں پر اپنے تحفظات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو درجہ چہارم کی آسامیوں پر بھی تعینات نہیں کیاگیاانہوںنے کہا کہ میرٹ کے برعکس ہونے والی بھرتیوں پر ہم نے پہلے ہی دن اخبارات کے ذریعے اپنا موقف واضح کیا تھا انہوں نے کہا کہ پندرہ سالوں سے ایک شخص رضاکارانہ طو رپر کام کررہا تھا لیکن حالیہ تعیناتیوں میں اسے بھی نظر انداز کیا گیا ہے اور اس کی جگہ دوسرے علاقوں سے لوگوںکو تعینات کیا گیا انہوں نے کہا کہ تعینات ہونے والے افراد اس کے منتظر ہیں کہ وہ جلد جوائننگ کرکے اپنا تبادلہ کہیں اور کروائیں ۔ گزشتہ روز اس سلسلے میں کوئٹہ سے منتخب ہونے والے مبین خلجی ، ملک نعیم بازئی اور میں نے وزیراعلیٰ انسپکشن ٹیم کے سر براہ سے ملاقات کی توقع ہے کہ کمیٹی ہمارے تحفظات کاازالہ کرے گی انہوںنے کہا کہ سندھ اور پنجاب سمیت دیگرعلاقوں سے مقدس مقامات کی زیارت کے لئے ایران اور عراق جانے والے زائرین قافلوں کی صورت میں کوئٹہ آتے ہیں وہ یہاں علمدار روڈ اور بروری میں قیام کرتے ہیں حکومت کو چاہئے کہ وہ ان کے لئے راستے میں زائرین ہاﺅسز بنا کر انہیں سہولیات فراہم کرے ۔انہوںنے کہا کہ زائرین کی آمد پر سڑکیں بند ہوتی ہیں جس سے لوگوں میں نفرت پیدا ہوئی اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس عمل کا ذمہ دار ہزارہ قبیلہ ہے ۔بی این پی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر شاہوانی نے تجویز دی کہ کوئٹہ آنے والے زائرین کو کراچی سے سمندر کے راستے ایران اور عراق بھیجا جائے جو سیکورٹی کے حوالے سے بھی محفوظ ہے اور اس پر اخراجات بھی کم آئیں گے ۔انہوں نے محکمہ تعلیم میں ہونے والی تعیناتیوں سے متعلق کہا کہ یہ ایک کمیونٹی ، کسی ایک پارٹی یا حلقے کی بات نہیں میرٹ کے برعکس بھرتیاں کرکے حقیقی اور حقدار نوجوانوں کی حق تلفی کی گئی ہم نے گزشتہ اجلاس میں مطالبہ کیا تھا کہ تعیناتیون کی تحقیقات کے لئے کمیٹی بنائی جائے لیکن وزیراعلیٰ نے کمیٹی کی تشکیل کی بجائے اس معاملے کو سی ایم آئی ٹی کے حوالے کیا ایچ ڈی پی کے رکن نے جس طرح اعتراف کیا ہے کہ وہ سی ایم آئی ٹی کے چیئر مین سے ملے ہیں وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت اور حکومت کی اتحادی جماعتیں خود کو نوازنے کی بات کرتی ہیں اگر وہ بطور عوامی نمائندے ملے ہیں توا نہیں کوئٹہ سے منتخب ہونے والے اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کو بھی ساتھ لے کر جانا چاہئے تھا ۔انہوںنے کہا کہ سی ایم آئی ٹی کا کردار متنازعہ ہے ہمیں اس پر کسی صورت اعتماد نہیں انہوںنے مطالبہ کیا کہ تعیناتیوں میں ہونے والی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لئے پارلیمانی کمیٹی قائم کی جائے ۔ وزیر داخلہ میر ضیاءلانگو نے کہا کہ دکی میں پیش آنے والے واقعے سے متعلق میں نے پشتونخوا میپ کے رکن کو اس ایوان میں یقین دہانی کرائی تھی کہ بلوچستان کی فورسز اور عوام ہمارے ہیں واقعے کی رپورٹ مل چکی ہے تاہم مصروفیات کی وجہ سے اس کا جائزہ نہیں لے سکا ہوں رپورٹ کا جائزہ لے کر مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی انہوںنے کہا کہ بی ایم سی ہاسٹل میں بے دخل ہونے والی بچیوں نے مجھ سے رابطہ کیا تھا اور میں نے انہیں اگلے روز وزیراعلیٰ سے ملاقات کرانے کی یقین دہانی کرائی تھی تاکہ ان کا مسئلہ فوری طور پر حل کیا جاسکے ۔انہوںنے کہا کہ معاملے کی تحقیقات کی جائیں گی ۔بی اے پی کے دنیش کمار نے کہا کہ تعیناتیوں میں اقلیتوں ، معذوروں اور خواتین کے کوٹے پر عملدرآمد نہ ہونے پر میں پہلا شخص ہوں گا جو عدالت کے دروازے پر دستک دے گا ۔وزیر صحت میر نصیب اللہ مری نے کہا کہ بی ایم سی یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے ہمیں اعتماد میں نہیں لیا ہم نے اس سے قبل مسئلہ حل کرلیا تھا آج بھی سیکرٹری صحت کو وائس چانسلر سے معاملے سے متعلق بات کرنے کی ہدایت کی ہے انہوں نے کہا کہ بی ایم سی معاملے پر کمیٹی بننی چاہئے میں اس کے حق میں ہوں تاکہ کمیٹی معاملے کی تحقیقات کرے اور رپورٹ ایوان میں پیش کرے ۔انہو ںنے کہا کہ حکومت ہاﺅس جاب ڈاکٹرز کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی ۔ جمعیت علماءاسلام نے اصغر ترین نے پشین میں بجلی کے تیز رفتار میٹرز کی تنصیب کی جانب ایوان کی توجہ مبذول کراتے ہوئے ایوان میں ایک بل بھی پیش کیا جو1480ءکا تھا جبکہ نئے میٹرکی تنصیب کے بعد 61ہزار روپے تھا انہوںنے کہا کہ صوبائی حکومت سے بغیر کیسکو باقی صوبوں کے مسترد شدہ میٹرز بلوچستان میں نصب کررہا ہے انہوںمطالبہ کیا کہ کیسکو چیف کو اسمبلی میں طلب کیاجائے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*