ہماری جنگ اداروں سے نہیں حکومت کےساتھ ہے ،مولانا غفور حیدری

اسلام آباد ( آئی این پی) سیکریٹری جنرل جمعیت علما اسلام مولانا غفور حیدری نے کہا ہے کہ ہماری جنگ اداروں کے ساتھ نہیں بلکہ سلیکٹڈ حکومت کے ساتھ ہے جو ہم جیتیں گے،اگر کسی ادارے نے کسی کو سپورٹ کیا تو اپنی ساکھ کا نقصان کریں گے، دھرنا وہیںہو گا جہاں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن نے کہاہےکہ27اکتوبر کا انتخاب اس لئے کیا گیا ہے کہ اس دن بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوئی تھی اور27 اکتوبر کو کشمیری یوم سیاہ مناتے ہیں، ہمارے حکمرانوں نے کشمیر بیچ دیا اب مگرمچھ کے آنسو بہا رہے ہیں قوم کشمیرکے سودے پر وزیر اعظم سے جواب طلب کرے ،آزادی مارچ اور دھرنے میں18سے کم عمر افراد شرکت نہیں کر سکیں گے ،18سال سے کم عمر افراد کے مارچ میں شرکت پر مکمل پابندی لگائی گئی ہے ، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا27 اکتوبر کو اپنے گھر سے نہ نکلیں کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کو منہ کی کھانی پڑے ۔ تفصیلات کے مطابق بد ھ کے روز میڈیا سے گفتگو میں رہنما جمعیت علماءاسلام مولانا غفور حیدری نے کہا ہے کہ 27 اکتوبر کے آزادی مارچ میں شامل ہونے کیلئے جمیعت علماءاسلام (ف) نے عمر کی حد کا تعین کر لیا ہےسیکریٹری جنرل جمعیت علما ءاسلام(ف) مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ آزادی مارچ میں ہر قسم کے لوگ شامل ہو سکتے ہیں، لیکن شرکاءدھرنے کی عمر18سال سے کم نہ ہو اور جمعیت علما اسلام اسلام نے فیصلہ کیا ہے کہ 27اکتوبر کے آزادی مارچ میں18سال سے کم عمر افراد کو شرکت کی اجازت نہیں ہوگی ، مولانا غفور حیدری نے کہ کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے چھوٹی اور بڑی بات کی ہے ،آزادی مارچ روکا نہیں جا سکتا، مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ کہا جا رہاہے کہ آزادی مارچ میں صرف مدارس کے بچوں کو لایا جا رہا ہے لیکن ایسی کوئی بات نہیں ہے جبکہ انہوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو انتباہ کیا کہ وہ 27 اکتوبر کو گھر سے باہر نہ نکلیں اور اگر باہر نکلیں تو انہیں منہ کی کھانی پڑے گی ،مولانا عبدالغفورحیدری نے کہا کہ اسلام آبادمیں دفعہ144 صرف ہماری لئے ہی نافذ کیا گیاہے جبکہ دو روز قبل وفاقی المدارس کی جانب سے ڈی چوک پر کشمیریوں سے یکجہتی کیلئے ریلی نکالی گئی کیا یہ دفعہ144 ہم پر ہی لاگو ہوتا ہے ، انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ سر آنکھوں پر ہے اس حوالے سے ہم نے بھی پٹیشن دائر کر دی ہے کیونکہ احتجاج کا حق ہمیں آئین اور قانون دیتا ہے جس سے تمام اپوزیشن متفق ہے انہوں نے کہا کہ جمیعت علما ءاسلام نے27 اکتوبر کے آزادی مارچ کیلئے باقاعدہ درخواست ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کودی ہے جس میں مارچ کی جگہ اور دن کی اجازت مانگی ہے جبکہ آزادی مارچ کا دھرنا وہیں ہو گا جہاں کا اعلان قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن نے کیا ہے ، کارکنان 27 اکتوبر کو کشمیر کاز کیلئے باہر نکلیں اور اس کے بعد وفاقی دارالحکومت کی جانب آزادی مارچ میں شریک ہوں ہماری جنگ سلیکٹڈ حکومت کے خلاف ہے جبکہ ریاستی ادارے غیر جانب دار رہیں،انہوں نے کہا کہ طلبہ،ڈاکٹر ، تاجر اور تمام طبقے سراپا احتجاج ہیں اور 27 اکتوبر حکومت کے جانے کا دن ہے ،سیکریٹری جنرل جمعیت علماءاسلام پریس کانفرنس میں کہا کہ ڈی چوک میں آزادی مارچ اور دھرنے کیلئے ہمارے کارکنان کو تنگ کیا جا رہا ہے لیکن مرکزی قیادت کا فیصلہ ہے کہ کارکنان مارچ کو کامیاب بنائیں ،مولانا فضل الرحمن کسی دباﺅ کو قبول نہیں کریں گے ہماری جنگ اداروں کے ساتھ نہیں بلکہ سلیکٹڈ حکومت کے ساتھ ہے جو ہم جیتیں گے،اگر کسی ادارے نے کسی کو سپورٹ کیا تو اپنی ساکھ کا نقصان کریں گے ،انہوں نے کہا کہ لمحہ بہ لمحہ حالات دیکھ کر آزادی مارچ کا فیصلہ کریں گے ہمیں انتظامیہ کی جانب سے این او سی کی ضرورت نہیں صرف اطلاع دیتے ہیں، مولانا غفورحیدری نے کہا کہ آزادی مارچ کوریج پر میڈیا کے شکر گزار ہیں اور27اکتوبر کا انتخاب اس لئے کیا گیا ہے کہ اس دن بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوئی تھی اور27 اکتوبر کو کشمیری یوم سیاہ مناتے ہیں،انہوں نے کہا کہ ہمارے حکمرانوں نے کشمیر بیچ دیا اب مگرمچھ کے آنسو بہا رہے ہیں قوم کشمیرکے سودے پر وزیر اعظم سے جواب طلب کرے ہم نے آزادی مارچ کیلئے تمام انتظامات مکمل کر لئے ہیں ،27 اکتوبر کو کارکنان گھروں سے باہر نکلیں ،اسلام آباد کی طرف قدم بڑھائیں ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*