بلوچستا ن میں وسیع پیمانے پر ڈیمز کی تعمیر

وزیر اعلیٰ بلوچستان جا م کما ل خان نے ایک تقر یب سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ بلوچستا ن میں وسیع پیمانے پر ڈیمز بنا ئے جا رہے ہیں کچھی کینال سے صوبے کی سا ت لاکھ ایکٹر اراضی سیراب ہو سکے گی اس ضمن میں صوبائی حکومت سپا ر کو اور عالمی بینک کے تعاون سے پانی ذخیرہ کرنے کیلئے ڈیمز کی فو ری تعمیر کیلئے سنجید ہ اقدامات کر رہی ہے بد قسمتی سے ما ضی میں بلوچستان ان گنت مسائل کا شکا ر رہا ہے گذشتہ ادوار میں گو ر ننس کے مسائل کو سنجید گی سے حل نہیں کیا گیا صوبے میں امن وامان کی نا قص صورتحال کی وجہ سے معیشت متا ثر ہوئی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان جا م کمال خان کا مذکورہ بیان قابل تعر یف ہے انہوں نے اس میں بہت ہی اہم مسئلے کا ذکر کیا ہے کیونکہ اس وقت بلوچستا ن میں ڈیمزکی تعمیر بہت ہی نا گز یر ہے ان کے نہ ہونے سے با رش کا پانی ضا ئع ہو جا تا ہے جس سے زراعت کے لیے پینے کا پانی استعمال ہو رہا ہے جس کی وجہ سے پانی کی شد ید قلت پید ا ہو گئی ہے بلوچستان میں زیر زمین پانی کی سطح بڑی خطرناک حد تک گر چکی ہے اگر صوبے میںڈیمز بنا دئیے جائیں اور ان میں با رشوں کا پانی ذخیرہ کیا جائے اور اسے زراعت کے لیے استعمال میں لایا جائے تو پینے کے پانی کی بچت ہو گی۔
بلوچستا ن میںچو نکہ کوئی بڑا در یا نہیں ہے صر ف چند علا قوں کے علاوہ کہیں نہر ی نظام بھی نہیں ہے ہما رے ہا ں کا ر یز ہو ا کر تے تھے وہ بھی اب خشک ہو گئے ہیں صوبے میں ڈیمز کی تعمیر بہت پہلے ہو جا نی چا ہئیے تھی لیکن افسو س کی با ت یہ ہے کہ اس جانب کسی حکومت نے کوئی خاص تو جہ نہیں دی جس کی وجہ سے یہ بڑا اہم مسئلہ حل نہ ہو سکا اور ا س کے نتیجے میں پانی کی شد ید قلت پید ا ہو تی گئی اور پانی نا یاب ہو گیا ۔
اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ما ضی میں صوبہ مسائل کا شکا ر رہا ہے جو اس کی پسماند گی کی وجہ بنے ہیںاور اس کی معیشت خراب ہو ئی جس کا اثر صوبے کے عوام پر پڑا ہے بلوچستا ن میں شد ید معاشی بحران ہے جس کی سب سے بڑ ی وجہ یہاں بے روز گا ری ہے اس وقت لا تعد اد نو جوان بے روز گا ر ہیں ہز اروں خالی آسا میو ں کے با وجود ان کو گذشتہ حکومتوں نے بھر تی نہیں کیا اس کے سا تھ سا تھ صوبے میں سر مایہ کا ری پر بھی کوئی خاص تو جہ نہیں دی گئی حالانکہ بلوچستان کے سر مایہ کا ر دیگر صوبوں اور ممالک میں سر مایہ کار ی کر رہے ہیں صوبے میں نہیںکر رہے اگر ان کو بھر پو ر تحفظ دیا جا ئے تو وہ یہ سر مایہ کا ری صوبے میں کر یں گے جس سے جہا ں ایک جانب صوبہ خو شحال ہو گا وہاں بے روز گا ر ی کا بھی خا تمہ ہوگابلوچستا ن میں حب کے علا وہ کسی اور شہر میں صنعتیں اور کا رخانے نہیں ہیں۔
امید ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستا ن جام کما ل خان اپنے مذکورہ بیا ن کو عملی جامہ پہنا نے کیلئے اقدامات کر یں گے کیونکہ اس سے قبل ایسے بیانات صر ف بیانات کی حد تک رہے اس پر عملی طو رپر عمل در آمد نہیں کیا گیا اگر وہ ایسے کرنے میں کامیاب ہو جا تے ہیں تویہ ان کا تا ریخی کا رنا مہ ہوگا اور یہ صوبہ بھی ملک کے دیگر تر قیا تی یا فتہ صوبوں کے بر ابر آجا ئے گااور جس کا کر یڈ ٹ ان کو جا ئے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*