مزید وقت نہیں دیا جائیگا، حکومت کو ہر حال میں گھر جانا ہوگا،رہبر کمیٹی

opposition

اسلام آباد(آئی این پی) اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے ایک بار پھرواضح کیا ہے کہ حکومت کو مزید وقت نہیں دیا جائے گا، حکومت کو ہر حال میں گھر بھیجا جائیگا ، وزیر اعظم عمران خان فوری مستعفی ہوں، فوج کی مداخلت کے بغیر نئے الیکشن کرائے جائیں،جس طرح کشمیر کو بیچ دیا ہے اسی طرح منافع بخش اداروں کو بیچنے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے ،حکومت نے منافع بخش نیشنل بنک کو بھی بیچنے کا فیصلہ کر لیا ہے،ہمیں خوف ہے کہ یہ حکومت پاکستان کو نہ بیچ دے، آئین پاکستان کی تمام دفعات پر عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہیں، آئین احتجاج کا حق دیتا ہے، آزادی مارچ بھی ملین مارچ کی طرح پرامن ہوگا، کسی سے تصادم نہیں چاہتے، خیبرپختونخوا میں آرڈیننس جاری کیا گیا ہے کہ کسی کو کہیں بھی گرفتار کیا جاسکتا ہے، خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت نے مارشل لا ء لگادیا، حکومت نے سی پیک اتھارٹی کا آرڈیننس جاری کیا ہے ،حکومت پارلیمنٹ کو مسلسل نظرانداز کرکے بیک ڈور قانون سازی کر رہی ہے ،سی پیک پارلیمانی کمیٹی میں یہ مسودہ پیش کیا گیا تھا جسے کمیٹی نے مسترد کردیا تھا ، سی پیک کو متنازع کرنے کی کوشش کی ہے، سی پیک اتھارٹی سے وزارتوں کے دوران رسہ کشی شروع ہوجائے گی۔ ان خیالات کا اظہار منگل کو اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے اجلاس کے بعد کنونیئر اکرم خان درانی،مسلم لیگ (ن)کے احسن اقبال ،اے این پی کے میاں افتخار احمد اور پیپلز پارٹی کے فرحت اللہ بابر نے کیا۔قبل ازیںاپوزیشن کی رہبر کمیٹی کا اجلاس کنونیئر اکرم کان درانی کی زیر صدارت اسلام آباد میںہوا،جس میں اپوزیشن رہنما احسن اقبال، نیئر حسین بخاری، فرحت اللہ بابر، طاہر بزنجو، میاں افتخار احمد اور اویس نورانی و دیگر نے شرکت کی۔رہبر کمیٹی کا اجلاس تقریباً اڑھائی گھنٹے جاری رہا ۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہبر کمیٹی کےکنونیئر اکرم خان درانی نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کی قیادت کے اے پی سی کے کافی اجلاس ہوئے، اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے خلاف تحریک پر کافی مشاورت کی اور آخری سربراہی اجلاس میں حکومت کو مزید وقت نہ دینے پر اتفاق ہوا تھا ،طے ہوا تھا کہ حکومت مزید رہی تو بہت تباہی ہوگی،جتنی دیر یہ حکومت رہے گی اتنا معیشت کو نقصان ہوگا ، آج بھی اجلاس میں یہی فیصلہ ہوا کہ حکومت کو گرانا ہے۔انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں صنعتیں، کارخانے اور کاروبار بند ہیں، تاجر ہڑتال پر ہیں، مزدور طبقے کو کہیں روزگار نہیں مل رہا، کے پی میں 12دن سے ڈاکٹر ہڑتال پر ہیں ،خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور او پی ڈی بند ہیں، فاٹا کے 22ہزار افراد احتجاج پر ہیں، واپڈا والے بھی نجکاری کیخلاف احتجاج کو تیار ہیں،ملک کو بھکاری اور لوگوں کو بے روز گار کردیا ہے، پورے ملک کے کارخانے بند کردیئے گئے، میڈیا پر قدغن ہے، اظہار رائے کی آزادی نہیںملک کا کوئی ایسا طبقہ نہیں جو خوشحال ہوجس طرح کشمیر کو بیچ دیا ہے اسی طرح منافع بخش اداروں کو بیچنے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے ،حکومت نے منافع بخش نیشنل بنک کو بھی بیچنے کا فیصلہ کر لیا ہے،ہمیں خوف ہے کہ یہ حکومت پاکستان کو نہ بیچ دے۔انہوں نے کہا کہ جس انداز میں میڈیا پر پابندیاں ہیں لوگ اب بیرون ملک جا کر بتا رہے ہیں ۔رہبر کمیٹی کے کنونیئر اکرم خان درانی نے ایک بار پھر ویراعظم سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہ چاہتے ہیں وزیر اعظم عمران خان فوری مستعفی ہوں، فوج کی مداخلت کے بغیر نئے طریقے سے الیکشن کرائے جائیں،مولانا اتنے پرانے سیاستدان ہے کہ مذہبی کارڈ استعمال کرنے کی ضرورت نہیں۔اکرم خان درانی نے کہا کہ ہم آئین پاکستان کے تمام دفعات پر عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہیں، آئین ہمیں احتجاج کا حق دیتا ہے، آزادی مارچ بھی ملین مارچ کی طرح پرامن ہوگا، ہم پرامن احتجاج کرینگے، ماضی میں پی ٹی وی، پارلیمنٹ پر حملہ کیا گیا، پولیس افسران کے ساتھ پولیس اہلکاروں کی پٹائی اور سپریم کورٹ، پارلیمنٹ کا راستہ روکا گیا تھا ،ایک جمہوری حکومت نے پی ٹی آئی احتجاج میں کوئی رخنہ اندازی نہیں کی، یہاں پر وفاقی وزراءکہتے ہیں اس طرح بٹھائینگے کوئی اٹھائے گا نہیں، یہ چھوٹا منہ بڑی بات ہے ،کے پی کے وزیراعلی کو بات کرنا نہیں آتی اور دوسری طرف کہتا ہے مولانا کو نہیں جانے دینگے ،ہم وزیر اعلی خیبرپختونخوا کو گھر میں بند بھی کرسکتے ہیں،ہم بارہا کہہ رہے ہیں ہم کسی سے تصادم نہیں چاہتے، ہم پرامن مارچ کےلئے آرہے ہیں، تمام اپوزیشن جماعتیں حکومت مخالف تحریک کو حتمی شکل دیدیں،یقین دلاتا ہوں تمام اپوزیشن حکومت مخالف تحریک پر متفق ہے۔لیگی رہنما احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نے سی پیک اتھارٹی کا آرڈیننس جاری کیا ہے ،حکومت پارلیمنٹ کو مسلسل نظرانداز کرکے بیک ڈور قانون سازی کر رہی ہے ،سی پیک پارلیمانی کمیٹی میں یہمسودہ پیش کیا گیا تھا جسے کمیٹی نے مسترد کردیا تھا ، اسے پارلیمان میں لانے کی بجائے آرڈیننس کے ذریعے متنازعہ بنانے کی کوشش کی ۔ سی پیک جیسے منصوبے کو متنازع کرنے کی کوشش کی ہے، سی پیک اتھارٹی سے وزارتوں کے دوران رسہ کشی شروع ہوجائے گی، سی پیک کو اتھارٹی نہیں فنڈز کی ضرورت ہے، ایم ایل ون بنانے کیلئے سالانہ سو ارب سے زائد بجٹ درکار ہے، اس سال ریلوے کا ترقیاتی بجٹ چالیس ارب سے سولہ ارب کر دیا گیا ،حکومت نے قومی منصوبے پر ملک دشمنی کا مظاہرہ کیا ہے۔اے این پی کے میاں افتخار احمد نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ایک آرڈیننس جاری کیا گیا ہے کہ کسی کو کہیں بھی گرفتار کیا جاسکتا ہے، خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت نے مارشل لا لگادیا گیا ہے جس کی مذمت کرتے ہیں،27تاریخ آپ سب ہمیں اکٹھا دیکھیں گے، ہم متحد ہیں۔پیپلز پارٹی کے فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اس وقت سب آپ کے سامنے بیٹھے ہیں کہ ہم سب متحد ہیں اور رہیں گے، سی پیک اور کے پی کے آرڈیننس کے پیچھے سوچ یہ ہے کہ خیبرپختونخوا اور سی پیک کو فوج کے حوالے کردیا گیا، اس سے پہلے بھی فاٹا میں ایک ناکام کوشش کی گئی تھی جسے پارلیمان نے ناکام بنایا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*