بے گھروں کا اپنا گھر، نیا پاکستان رہائشی منصوبہ

تحریر : عمار مظہر
تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے نیا پاکستان رہائشی منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد سستے اور بہترین گھر بنا کر ایسے خاندانوں کو رہائش کی سہولت فراہم کرنا ہے جو یا تو کچی آبادیوں میں مقیم ہیں یا پھر مجبوری کی حالت میں کسی نہ کسی جگہ کرائے پر رہائش پذیر ہیں۔ نیا پاکستان رہائشی منصوبہ ان سب خاندانوں کے لئے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہو گا، کیونکہ اس منصوبے کے ذریعے کم آمدنی والے افراد بھی اپنا گھر حاصل کر سکتے ہیں۔ نیا پاکستان رہائشی منصوبے کے ذریعے ملک بھر میں رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں بھی تیزی آئے گی کیونکہ اس کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل کرنے کے لئے حکومت کو ایک بڑی تعداد میں ٹھیکیدار (کنٹریکٹرز) درکار ہیں۔
نیا پاکستان رہائشی منصوبے پر ہونےوالی پیشرفت وفاقی حکومت کی جانب سے اب تک نیا پاکستان رہائشی منصوبے پر خاطر خواہ پیش رفت کی جا چکی ہے۔ نیا پاکستان رہائشی منصوبے کے پہلے دو مرحلے متعارف کرائے جا چکے ہیں، جس کے لئے آن لائن رجسٹریشن کے پہلے مرحلے کی کامیابی سے تکمیل کے بعد دوسرا مرحلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ دوسرے مرحلے کے تحت شہری رواں سال 15 اکتوبر تک اپنی رجسٹریشن کروا سکتے ہیں۔وفاقی حکومت نے نیا پاکستان رہائشی منصوبے کے تحت گھروں کےساتھ ساتھ 1 لاکھ 35 ہزار اپارٹمنٹس بھی تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ابتدائی طور پر 25 ہزار کے قریب اپارٹمنٹس جڑواں شہروں راولپنڈی-اسلام آباد میں جبکہ باقی 1 لاکھ 10 ہزار اپارٹمنٹس صوبہ بلوچستان کے مختلف شہروں میں تعمیر کرنے کے حوالے سے پلاننگ جاری ہے۔ نیا پاکستان انتظامیہ کے مطابق ان اپارٹمنٹس کی تعمیر کا آغاز جلد کر دیا جائے گا اور ان میں سے 54 ہزار اپارٹمنٹس صرف ماہی گیروں کے لئے مختص ہوں گے۔
وزیر اعظم کا خواب۔کچی آبادیوں سے اپنے گھر تک ملکی آبادی میں تیزی سے ہوتے اضافے کے باعث شہروں میں خصوصی اور دیہی علاقوں میں عمومی طور پر رہائش گاہوں کے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔ مناسب رہائش نہ ملنے کے باعث ایک بڑی تعداد میں شہری کچی آبادیوں یا کرائے کے چھوٹے چھوٹے گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ ایسے میں وزیر اعظم عمران خان کا یہ خواب ہے کہ انقلابی نیا پاکستان رہائشی منصوبے کے تحت کچی آبادیوں میں رہنے والوں کو سستے داموں اپنا گھر مہیا کیا جائے۔
رہائشی منصوبے کا عملی آغاز نیا پاکستان رہائشی منصوبے کا باقاعدہ آغاز بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے کچلاک سے کر دیا گیا ہے جہاں 21 اپریل 2019 کو وزیر اعظم عمران خان نے اس کا باقاعدہ افتتاح کیا اور 7 ہزار 6 سو 84 شہریوں نے پہلے ہی دن رجسٹریشن فارمز جمع کرائے۔ حکومت کی منصوبہ بندی کے مطابق کچلاک میں ابتدائی طور پر 6 سو سے 750 گھر تعمیر کرکے شفاف ترین قرعہ اندازی کے ذریعے کامیاب درخواستگزاروں کو آسان اقساط پر دئیے جائیں گے۔اس کے علاوہ ملک کے مختلف شہروں لاہور، رحیم یار خان، ملتان، لیہ، بہاولپور، سیالکوٹ، وہاڑی، قصور، چشتیاں، جہلم، مظفرگڑھ، ڈیرہ غایخان اور گجرانوالہ میں نیا پاکستان رہائشی منصوبے پر ضلعی انتظامیہ کے ساتھ کام جاری ہے۔ نیا پاکستان رہائشی منصوبے میں اسلام آباد، سوات اور سکھر سمیت دیگر شہروں کو بھی شامل کیا جا چکا ہے۔
زمین کی نشاندہی۔نیا پاکستان رہائشی منصبوے کے تحت آئندہ پانچ سال کے دوران صوبہ خیبر پختونخوا میں 7 لاکھ 50 ہزار گھر تعمیر کئیے جائیں گے۔ اس حوالے سے مختلف شہروں میں زمین کی نشاندہی بھی کی جا چکی ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق بڑے پیمانے پر سروے کرکے سوات میں 3 سو کنال اور ہنگو میں 4 ہزار کنال اراضی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پشاور کے علاقے سری زئی میں بھی 41 سو کنال اراضی کی نشاندہی کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔نیا پاکستان منصوبے میں کاروبار کے مواقع نیا پاکستان رہائشی منصوبہ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا سرکاری منصوبہ ہے۔ اس منصوبے میں تعمیرات کے لئے حکومت کو نجی شعبے سے ایک بڑی تعداد میں ٹھیکیدار (کنٹریکٹرز) کی بھی ضرورت ہے۔ منصوبے میں دلچسپی لینے والے کنٹریکٹرز کے لئے آن لائن رجسٹریشن بھی شروع ہو چکی ہے جبکہ صرف بہترین سہولیات فراہم کرنے والے کنٹریکٹرز کو ہی منصوبے میں کام کے مواقع ملیں گے۔نیا پاکستان رہائشی منصوبے میں گھروں کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لئے ٹھییکیداروں کو ٹھیکے دینا شروع کر دئیے گئے ہیں۔ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر ابتدائی طور پر پنجاب کے اضلاع چشتیاں، رینالہ خورد اور لودھراں میں شروع کی گئی ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں لیہ، بھکر اور خوشاب میں شروع کی جائے گی۔نیا پاکستان رہائشی منصوبے میں سرکاری کے ساتھ نجی شعبے کی شراکت داری کے لئے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) نے بھی اپنے قوانین میں ترمیم شروع کر دی ہے۔ جیسے ہی ٹھیکیداروں کے تعین کا عمل مکمل ہوا شہریوں کو قرعہ اندازی کی بنیاد پر گھروں کی الاٹمنٹ شروع کر دی جائے گی۔
بین الاقوامی اہمیت نیا پاکستان رہائش منصوبے میں تعمیرات کے لئے ملکی کے ساتھ ساتھ غیر ملکی ادارے بھی دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے چین کی مصنوعی گھر بنانے کی ماہر کمپنی نے پنجاب ہاو¿سنگ اینڈ ٹاو¿ن پلاننگ اتھارٹی (PHATA) کے ساتھ مفاہمت کی یاداشت پر بھی دستخط کئے ہیں جس کے تحت اس کمپنی نے ابتدائی طور پر ملک کے مختلف علاقوں میں ملکی تاریخ میں پہلی بار مصنوعی گھر بنانے کی جدید تکنیک کے تحت 10 ہزار گھر تیار کرنے کی پیشکش کی ہے۔
نیا پاکستان رہائشی منصوبے پر زمین ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم کی تشکیل کردہ 17 رکنی ٹاسک فورس کے سربراہ ضیغم محمود رضوی نے بتایا کہ وہ چین کے علاوہ دیگر ممالک کے مصنوعی گھر بنانے کی جدید تکنیک پر کام کرنے والے اداروں سے بھی رابطہ کر رہے ہیں۔ ترکی، قطر اور سعودی عرب کی مختلف کمپنیوں نے بھی اس حوالے سے دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔
نیا پاکستان رہائشی منصوبہ۔۔ روزگار کے سنہری مواقع وفاقی حکومت کی جانب سے جن بین الاقوامی اداروں سے نیا پاکستان رہائشی منصوبے میں کام کرنے کے حوالے سے بات چیت چل رہی ہے ان پر اس حوالے سے بھی زور دیا جا رہا ہے کہ منصوبے میں کام کرنے کے لئے افرادی قوت مقامی افراد پر ہی مشتمل ہو گی تاہم انجینئرز اور دیگر تکنیکی عملہ غیر ملکی ہو سکتا ہے۔ اس پیشرفت کے بعد نیا پاکستان رہائشی منصوبے میں روزگار کے بھی مواقع پیدا ہوں گے جو ملک میں بیروزگاری کی شرح کو نمایاں حد تک کم کرنے میں معاون ثابت ہو گا۔
نیا پاکستان رہائشی منصوبے میں سہولیات
نیا پاکستان رہائشی منصوبے کے لئے شمسی توانائی کے حصول پر بھی توجہ دی جا رہی ہے، اس کے ساتھ ہی نیا پاکستان رہائش گاہوں کے مکینوں کے لئے فلٹریشن پلانٹس کے ذریعے صاف پانی کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔نیا پاکستان منصوبے میں تعمیر ہونے والے گھر 1 سے لے کر 4 کمروں پر مشتمل ہوں گے، رہائشی منصوبے کے لئے نہ صرف بہترین سڑکیں بنائی جائیں گی بلکہ سیوریج کا بھی بہترین نظام وضع کیا جائے گا۔ رہائشی علاقوں کے قریب سرسبز باغات ہوں گے جبکہ بہترین انداز میں مساجد اور سماجی مراکز بھی تعمیر کئے جائیں گے۔نیا پاکستان رہائشی منصوبے میں گھروں کی ممکنہ قیمت اور ادائیگی وفاقی حکومت نے نیا پاکستان رہائشی منصوبے میں گھروں کی قیمت انتہائی کم مقرر کی ہے۔
زمین ڈاٹ کام کو موصول ہونے والے حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں 3 مرلے کے گھر کی قیمت 16 لاکھ 50 ہزار سے لے کر 29 لاکھ 30 ہزار کے درمیان ہو گی جبکہ 5 مرلہ گھر کی قیمت 21 لاکھ 90 ہزار سے 41 لاکھ 10 ہزار کے درمیان مقرر کی گئی ہے۔ قرعہ اندازی میں کامیاب ہونے والے شہریوں کو ابتدائی طور ہر 10 فیصد رقم پیشگی ادا کرنا ہو گی جبکہ باقی رقم 15 سے 20 سال کی آسان اقساط میں ادا کی جا سکتی ہے۔ شہری گھر کی قیمت کی ادائیگی کے لئے ہاو¿س بلڈنگ فنانس کارپوریشن، میزان بنک اور بنک آف پنجاب سے قرض بھی حاصل کر سکتے ہیں۔بنکوں سے قرض لے کر واپس نہ کرنے کے معاملے کے بعد عام آدمی کے لئے بنکوں سے قرض حاصل کرنا انتہائی دشوار ہو گیا تھا۔ اس حوالےسے وزیر اعظم عمران خان کی کوشش ہے کہ قوانین میں ضروری ردو بدل کرکے شہریوں کے لئے نیا پاکستان رہائشی منصوبے کے لئے قرض کا بآسان حصول ممکن بنایا جا سکے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*