نمود و نمائش کے چھچھورے انداز

تحریر : ممتاز ملک
پیسے کی نمودونمائش میں ہم پاکستانیوں اور ساوتھ ایشینز کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ کہیں ہم درختوں پر اپنے نام کھود کھود کر تاریخ میں زندہ رہنا چاہتے ہیں ، تو کہیں ہم ٹائلٹس میں بسوں کی سیٹوں پر، جہاز کے آلات پر اپنے نام لکھ لکھ کر تاریخی شخصیات بننے کی جاہلانہ کوششیں کرتے نظر آتے ہیں۔قومی طور پر ہمیں اپنی مشہوری کے آسان ترین طریقوں پر عبور حاصل ہے۔ کوئی ہمیں کچھ پڑھانے یا کچھ سکھانے کی کوشش کرے تو وہ شخص ہمیں اپنا دشمن اول دکھائی دینے لگتا یے۔ہمیں اس پر بھی ملکہ حاصل ہے کہ کوئی شخص محنت سے کوئی ہنر حاصل کرے یا کوئی چیز بنائے اور ہم اس بنی بنائی تیار چیز پر اپنے نام کا سٹیکر چپکا دیں۔ نہ تو ہمارا ضمیر ہمیں ایسے کاموں میں ملامت کرتا ہے اور نہ ہی ہمیں اس پر کوئی شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔کسی کی تحریر اپنے نام سے شائع کر کے ہم خود کو دانشور سمجھنے لگتے ہیں تو کبھی کسی کی شاعری اسی کے منہ پر دھڑلے سے اپنے نام سے سنانے پر بھی ہمیں کوئی شرم یاد نہیں رہتی۔ اب سوشل میڈیا کا دور ہے تو جو چاہے جس کی چاہے ٹوپی اتار کر جس کے مرضی سر پر منڈھ دے۔ جس کے نام سے جو چاہے پوسٹ لگا دے۔ اور اگر وہ اصل صاحب تحریر موجود ہے تو دیکھ دیکھ کر صلواتہ سناتا ہے اور اگر دنیا سے سدھار چکا ہے تو عالم ارواح میں بھی اسے پتنگے ہی لگ جاتے ہونگے۔ لیکن جناب کسی چور کو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ اس کی اس واردات سے کسی مالک پر کیا گزری۔کہیں شادی بیاہ کے موقع پر اپنی چادر پھاڑ کر پاوں باہر نکال کر ناک اونچی کی جاتی ہے چاہے اس کے بعد پاوں ساری عمر چادر سے باہر ہی لٹکتے رہیں۔ لیکن اس سے بہتر موقع دکھاوے کے لیئے اور لوگوں کے دل میں حسد و حسرت کے بیج بونے کے لیئے اور کونسا ہو سکتا ہے؟سرکاری طور پر ہمارے دکھاوے کا یہ عالم ہے ہم بھیک مانگنے بھی دنیا بھر میں چارٹرڈ طیاروں میں گھومتے ہیں۔ دنیا ہم پر ہنستی ہے تو ہنسے، ہمیں دنیا کو ہی دکھانا ہے اور دنیا ہی کے ہنسنے سے کوئی سبق بھی نہیں سیکھنا۔ کمال کے لوگ ہیں ہم۔اپنی زندگی کو دکھاوے اور دو نمبری کی بھینٹ چڑھا کر مشکل بھی کرتے ہیں اور اسی مشکل پر آہ و بقا کر کے دوسروں سے ہمدردی کی امید بھی لگاتے ہیں۔عقل۔سے ہمیں خدا واسطے کا بیر ہے۔ جانے وہ دن کب آئیگا جب ہم خود اپنی ذات میں اللہ کے دیئے ہوئے خوائص جواہر کو تلاش کرینگے اور اسی کے بل بوتے پر خالصتا اپنی محنت اور رب کی رضا پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی حیثیت اور مقام پر صبر و شکر بجا لائیں گے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*