مودودی، ممدوٹ ا ور مسئلہ کشمیر

اسد اللہ غالب
میںنے پچھلے دنوں سید افضل حیدر کی زبانی اس سازش کاانکشاف کیا تھا جو ریڈ کلف ایورڈ کی صورت میں کی گئی اور جس نے کشمیر پر بھارتی تسلط کی راہ ہموار کی۔ میں اس تلاش میں ہوں کہ قیام پاکستان کے وقت کے کسی مسلم لیگی لیڈر سے بات ہو سکے اور پتہ چلے کہ مسلم لیگی قیادت اس سازش کا بر وقت ادراک کیوں نہ کر سکی۔ مجھے تجسس یہ بھی تھا کہ اس وقت مولانا مودودی کا ایک فتوی جہاد کشمیر کے سلسلے میں سامنے آیا جسے متنازعہ بنا دیا گیا۔ میں اس کی اصلیت جاننے کی ٹوہ میں تھا کہ میری بہن سمیہ طفیل کا فون آیا۔ وہ میاں طفیل محمد کی صاحبزادی ہیں اور انہوںنے اپنے والدگرامی کی سرگزشت بھی راہ نجات کے نام سے مرتب کی ہے۔ میںنے سمیہ طفیل کے سامنے اپنا سوال رکھاا ور درخواست کی کہ وہ جماعت اسلامی کی دستاویزات کو پیش نظر رکھ کر قارئین کی رہنمائی کریں کہ مسئلہ کشمیر پر جماعت کا کردار کیا تھا۔ میرے سوال کے جواب میں انہوںنے ایک مکتوب مجھے ارسال کیا ہے۔ میں اس کا خلاصہ پیش کر رہا ہوں جس سے کشمیر پر جماعت اسلامی کے موقف کی وضاحت اور تڑپ سامنے آی ہے اور مسلم لیگی حکومت کی مجرمانہ غفلت سے بھی پردہ اٹھتا ہے۔ اگر کسی کو اس تحقیق سے اختلاف ہو تو براہ کرم مجھے مطلع فرمائیں،سمیہ طفیل لکھتی ہیں:کشمیر میں جو ظلم و ستم ہو رہا ہے،اس کی نوبت ہر گز نہ آتی اگراس وقت کی مسلم لیگی قیادت اور حکومتی شخصیات مولانا مودودی کے بار بار کی درخواستوں پر ذرہ بھی دھیان دیتے۔کشمیر کے بارے میں تاریخی حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے سابق امیر اور معمار جماعت اسلامی پاکستان میاں طفیل محمد فرماتے ہیں۔3جون 1947ء کو جب حکومت برطانیہ نے تقسیم ہند اور قیام پاکستان کا اعلان کیا تو میں نے یہ اعلان مرکز جماعت دارالسلام میں مولانا مودودی کے ہمراہ سنا تھا، ابتدائی اعلان میں یہ تاثر پایا جاتا تھا کہ ضلع گورداسپور پاکستان میں شامل ہو گا جبکہ دونوں آزاد ریاستوں بھارت اور پاکستان کی قطعی حدود کا اعلان سترہ اگست کو ہوا۔ باﺅنڈری کمیشن نے بھارت اور مغربی پاکستان کے درمیان سرحد کا اعلان کرتے ہوئے ضلع گورداس پور کو بھارت میں شامل کر دیا، اس اعلان کو سنتے ہی مولانا مودودی نے فرمایا ”گورداسپور کی بھارت میں شمولیت کشمیر کے بھارت سے الحاق اور اس پر بھارت کے تسلط کی کھلی سازش ہے“۔”پاکستان کو فوراً ایک آدھ بٹالین فوج بھیج کر ریاست کا تعلق بھارت سے منقطع کر دینا چاہئے، ورنہ ایک مرتبہ بھارت ریاست میں گھس گیا تو اسے بے دخل کرنا آسان کام نہیں ہو گا“۔ ستر سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی آج کی موجودہ صورتحال مولانا مودودی کی دوراندیشی کی شہادت دے رہی ہے۔پاکستان بننے کے آٹھ دس روز بعد بھی جب کسی طرف سے کوئی سرگرمی نہ ہوئی تو سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں طفیل محمد کے مطابق مولانا مودودی بہت مضطرب ہوئے اور فرمایا:”اگر یہاں دارالسلام میں میرے پاس ایک سو بندوق بردار ہوتے تو میں لاہور جانے سے پہلے راوی پار کر کے ریاست کا تعلق بھارت سے منقطع کرنے کا انتظار کرتا۔ خدا معلوم پاکستان کے ذمہ دار کیا سوچ رہے ہیں۔30اگست 1947ء کی صبح ہم لوگ ایک فوجی کانوائے کی حفاظت میں دارالسلام سے لاہور پہنچے تھے۔ یہاں آتے ہی مولانا مودودی نے دوسرے روز ہی وزیراعلیٰ پنجاب نواب افتخار خان ممدوٹ سے ملاقات کی اور معاملے کی نوعیت اس قدر نازک تھی کہ مولانا مودودی نے چند گھنٹے بھی ضائع کرنے مناسب نہیں سمجھے ، اس ملاقات میں مولانا مودودینے ان سے کہا:”نواب صاحب، آپ ہمارے متعلق اور ہماری آپ کے بارے میں جو رائے بھی رہی ہو،وہ اپنی جگہ لیکن اب ہم سب لوگ اور ہم پوری قوم ایک ہی کشتی میں سوار ہیں، اگر خدا نخواستہ اس کشتی کو کوئی نقصان پہنچا تو پوری قوم خطرے میںپڑ جائے گی۔ میرے نزدیک اس وقت پاکستان کو درپیش مسائل میں سب سے اہم ترین مسئلہ اور سب خطرات سے عظیم خطرہ کشمیر کے بھارت میں زبردستی شامل کئے جانے کا ہے اور ریڈ کلف ایوارڈ نے دراصل بھارت کیلئے کشمیر کا راستہ کھول دیا ہے۔ میری دانست میں مسلمان اکثریت کا ضلع گورداسپور بھارت کو بلا وجہ نہیں دیا گیا بلکہ یہ بھارت کو کشمیر ہڑپ کرنے میں آسانی پیدا کرنے کیلئے ہی دیا گیا ہے تاکہ وہ جب چاہے اس میں داخل ہو جائے۔اسلئے میری رائے یہ ہے کہ پاکستان بلا توقف کشمیر پر قبضہ کر لے اور اگر ایسا کرنا بوجوہ ممکن نہ ہو تو کم از کم اس زمینی راستے کو کاٹ دیا جائے جس سے بھارت کا کشمیر میں فوجیں داخل کرنا ممکن نہ رہے۔مولانا مودودی نے نواب افتخار ممدوٹ صاحب سے یہ بھی کہا:”پنجاب میں ملٹری کے لاکھوں سابق ملازمین موجود ہیں، ان کو منظم اور متحرک کر کے کشمیر پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ان لوگوں کو اسلحہ فراہم کرنے کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ کچھ نہ کچھ اسلحہ ان کے پاس موجود ہے۔ اس طرح مہاراجہ کشمیر سے کوئی سٹینڈ سٹل معاہدہ بھی نہ کیا جائے“۔نواب ممدوٹ صاحب نے مولانا مودودی کے اس مشورے کا بڑی بے اعتنائی کے ساتھ جواب دیتے ہوئے یہ کہہ کر بات ختم کر دی ”مولوی صاحب“ آپ کا بہت بہت شکریہ ہم اپنے معاملات کو بہتر سمجھتے ہیں۔افتخار ممدوٹ صاحب سے یہ ملاقات رانا اللہ داد صاحب کے ذریعے سے ہوئی تھی، گفتگو کے یہ الفاظ مولانا مودودیے خود ادا کئے جو افتخار ممدوٹ اور چوہدری محمد علی مرحوم کی زندگی میں قومی اخبارات کے ریکارڈ پر لائے گئے تھے۔اس مایوس کن ملاقات کے اگلے روز ہی مولانا مودودی نے چوہدری محمد علی صاحب سے رابطہ کر کے کہا ”آپ وزیراعظم لیاقت علی خاں صاحب تک میری یہ بات پہنچا دیجئے کہ وہ فی الفور کشمیر کی فکر کریں“۔ماضی میں کی گئی مجرمانہ غفلت کے نتیجہ میں ہزاروں لاکھوں جوان، بچے، بوڑھے مرد و خواتین آزادی کشمیر کی تحریک میں جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، معذوروں، زخمیوں کی تعداد ان گنت ہے۔حال ہی میں وزیراعظم پاکستان کے دورہ امریکہ کے دوران ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی اور حکومت کی جانب سے گویا کہ اسے کشمیر کی فتح کی طرح گردانا گیا۔ نتیجتاً بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی تین سو سترشق کے خاتمہ پر دستخط کر کے وادی کی خودمختار حیثیت ختم کر دی جبکہ مقبوضہ کشمیر کی یہ خصوصی حیثیت خود بھارت کے ایک مہان لیڈر پنڈت نہرو نے ہی عطا کی تھی۔ کشمیر پر سلامتی کونسل کی کئی قرار دادیں ہیں جن کے تحت ریاست کشمیر کو حق خود ارادیت کے تحت اپنی قسمت کا فیصلہ کرنا تھا مگر بھارت نے کشمیریوں کی آواز کو دبانے کیلئے وقت کے ساتھ ساتھ فوج کی تعداد میں اضافہ شروع کر دیا تھا۔ آج نو لاکھ بھارتی فوج ہر کشمیری پر سنگینیں تانے کھڑی ہے، بھارتی فوج کشمیری خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی ہزاروں شرمناک داستانیں رقم کر چکی ہے، کشمیری معصوم بچوں کی آنکھوں میںپیلٹ گولیاں مار کر ان کی بینائی ضائع کر دی ہے ،لاکھوں نوجوانوں کو چن چن کر شہید کیا جا چکا ہے، ،دراصل بھارت کشمیریوں کی نسل کشی کے منصوبہ پر عمل پیرا ہے مگر بھارت کی یہ خام خیالی ہے کہ وہ اس طرح سے کشمیریوں کو اقلیت میں بدل سکتا ہے۔ آرٹیکل پینتیس اے کے خاتمہ کے بعد بھارتی شہری کشمیر میں جائیدادیں خرید سکیں گے، 5اگست 2019ء کے بعد سے کشمیر میں کرفیو نافذ ہے، کوئی شخص گھر سے نہیں نکل سکتا، اگر کوئی شخص بھوک سے بلکتے بچوں کیلئے دودھ لینے کیلئے بھی گھر سے نکلتا ہے تو بھارتی فوج کی گولیوں کا نشانہ بن جاتا ہے۔ 50سال میں پہلی مرتبہ سلامتی کونسل کا اجلاس کشمیر کے مسئلہ پر بحث کیلئے بلایا گیا ہے ،بند کمرے کے اجلاس میں روس نے بھی پاکستان کی حمایت کا اعلان کیا ہے جو پاکستان کی سفارتی فتح ہے،پاکستان اسی لگن اور جذبے کا مظاہرہ جاری رکھے تو یقینی بات ہے کہ کشمیریوں کی سیاہ رات کا جلد خاتمہ ہو جائے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*