مثبت سوچ کے ساتھ ہمیں آگے بڑھنا ہو گا،چیف جسٹس آف پاکستان

لاہور(آئی این پی)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ ہم اس وقت مقدمات کی کوالٹی پر نہیں بلکہ نمبروں پر یقین کر رہے ہیں’99 فیصد لوگوں نے ہمارے فیصلے پڑھے ہی نہیں ہوتے کیونکہ انہیں قانون کا پتہ ہی نہیں ہوتا’ ججز کے فیصلوں پر وہ لوگ تبصرہ کرتے ہیں جنہیں قانون کا پتہ ہی نہیں ہوتا’ ہم کبھی امید نہیں چھوڑ سکتے یہی ہمارا ملک ہے، ہمارا مسکن ہے اور ہم نے یہیں رہنا ہے اس لیے ہم نے حقیقت پسند بننا ہے اور آنکھیں بند نہیں کرنی’ہم کوشش ترک نہیں کر سکتے، معاملات بہتر کرنے کی کوشش جاری رکھیں گے۔ وہ لاہور میں نامور قانون دان ایس ایم ظفر کی کتاب کی تقریب رونمائی کے موقع پر خطاب کررہے تھے تقریب میں قائمقام چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مامون الرشید، جسٹس علی باقر نجفی، جماعت اسلامی کے سینئر رہنما لیاقت بلوچ، رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ عبدالستار، سابق صدر پاکستان وسیم سجاد، لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد وحید خان، جسٹس (ر)علی اکبر قریشی نے بھی تقریب میں شرکت کی اپنے خطاب میں چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اس کتاب میں پاکستان کی تاریخ کا جامع احاطہ کیا گیا ہے۔ کتاب پڑھتے ہوئے میرا خیال تھا کہ مصنف نے حالیہ حالات کو کیے قلمبند کیا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں ایسے تعلیمی ادارے بھی ہیں جہاں سیکنڈ ایئر کا طالب علم فرسٹ ایئر کے طالب علم کو پڑھا رہا ہے۔ جب میں نے اپنی وکالت شروع کی اس وقت ایس ایم ظفر ایک چمکتے ستارے کی طرح تھے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ میں اپنے شاگردوں کو کہتا تھا اگر تمہیں مجھ جیسا بننا ہے تو ایس ایم ظفر جیسے بنو۔ ہمارے پاس بہترین وکلا موجود ہیں، 99 فیصد لوگوں نے ہمارے فیصلے پڑھے ہی نہیں ہوتے کیونکہ انہیں قانون کا پتہ ہی نہیں ہوتا۔ ججز کے فیصلوں پر وہ لوگ تبصرہ کرتے ہیں جنہیں قانون کا پتہ ہی نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ ہم کبھی امید نہیں چھوڑ سکتے، یہی ہمارا ملک ہے، ہمارا مسکن ہے اور ہم نے یہیں رہنا ہے۔ اس لیے ہم نے حقیقت پسند بننا ہے اور آنکھیں بند نہیں کرنی۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اس سسٹم میں رہتے ہوئے ہم نے کامیابیاں حاصل کی ہیں، جج محنت کر کے ایمانداری سے فیصلے دیتے ہیں۔ مثبت سوچ کے ساتھ ہمیں آگے بڑھنا ہو گا۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ جج محنت کر کے ایمانداری سے فیصلہ دیتے ہیں ججز کو بہترین فیصلے دے کہ انصاف مہیا کرنا چاہیے پہلے وکلا اپنے دماغ اور اپنی ذہانت سے کیس لڑتے تھے اب ایسا نہیں ہے۔ بد قسمتی سے اب کیسز کی تعداد بہت زیادہ ہے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ہ جب مستقبل کا مرخ موجودہ دور کے بارے لکھے گا تو وہ اچھی باتیں نہیں ہونگی، تبصرہ کرنیوالوں میں اکثریت لوگ ایسے ہیں جو عدالتی ججمنٹ پڑھتے ہی نہیں، پھر بھی ہم اپنے معاشرے کی بابت مایوسی کا شکار نہیں ہو سکتے ، ہم کوشش ترک نہیں کر سکتے، معاملات بہتر کرنے کی کوشش جاری رکھیں گے، اسی نظام کے تحت یہی ججز ماڈل کورٹس میں زبردست انداز میں ڈلیور کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سینئر قانون دان ایس ایم ظفر صاحب سب کیلئے آئیڈیل شخصیت ہیں۔ ایس ایم ظفر ہسٹری آف پاکستان ری انٹرپریٹڈ کتاب میں پاکستان کی تاریخ کا جامع احاطہ کیا گیا ہے، کتاب پڑھتے ہوئے میرا خیال تھا کہ مصنف نے حالیہ حالات کو کیسے قلمبند کیا ہو گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*