ڈینگی کے وار

تحریر : امتیاز علی شاکر
ایک سانحہ کے زخموں سے خون رسنا بند نہیں ہوتا اور دوسرا پہلے سے بڑا سانحہ رونما ہو جاتا ہے،نہ کوئی سانحات روکنے کی کوشش کرتا ہے نہ کوئی متاثرین کی مدد کیلئے آگے بڑھتا ہے اور نہ ہی انصاف ملتاہے،ریاست کے تمام ستون بنے ہوئے ہیں لگاتار بے حسی کی تصویر، حکمران طبقہ توشائدچاہتاہی یہی ہے کہ عوام سانحات میں مبتلارہے ،ان کی عیاشیوں کی طرف دیکھنے کے قابل ہوہی نہ پائے جبکہ عوام بھی اپناتماشہ خودہی دیکھ رہے ہیں،جب تک عوام حکمرانوں کوانصاف فراہم کرنے پرمجبورنہیں کرتے تب تک انصاف ملناممکن نہیں لگتا،عوام اپنے پیاروں کوسانحات کی نظرہوتے دیکھتے ہیں اورآگے گزرجاتے ہیں جبکہ سانحات جوں کے توں جاری ہیں،سسٹم جس کی لاٹھی اس کی بھینس مظلوم کوانصاف دینے کااہل نہیں پھربھی انسانی معاشرے میں یہی سسٹم رائج ہے،مصنوعی مہنگائی اورملاوٹ وہ زہریلے ناگ ہیں جوانسانیت کے وجودکوکھوکھلاکررہے،بے پناہ مہنگائی کے باوجودحالات اس قدرسنگین ہیں کہ زہربھی خالص نہیں ملتا،دیگرسانحات کے ساتھ قوم ہرسال ڈینگی مچھرکے سامنے بھی بے بس نظرآتی ہے سرکار تو مچھرمار سپرے کرتی نہیں دوسری جانب بازارمیں دستیاب مہنگے،جعلی سپرے مچھرکوکم جبکہ انسان کوزیادہ متاثرکرتے ہیں۔
سپرے کرتے ہی آنکھوں کی جلن،زکام اورجلدکے مسائل پیداہونے لگتے ہیں جبکہ مچھراسی طرح دھن دھناتارہتاہے،بدلتے موسم کے ساتھ ہرسال کی طرح اس سال بھی لوگ تیزی کے ساتھ ڈینگی کاشکارہوکراسپتالوں میں پہنچ رہے ہیں،راولپنڈی میں ڈینگی کے مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہونے کی خبریں ہیں، ضلعی انتظامیہ کے مطابق راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں ڈینگی سے بچاو کیلئے سپرے کیا جا رہاہے جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 47 مریضوں کو اسپتالوں میں منتقل کیاجاچکاہے،خبروں کے مطابق اسلام آباد کے 111 جبکہ راولپنڈی کے مزید179 شہری ڈینگی بخار میں مبتلا ہیں جن میں ڈینگی وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے ،راولپنڈی سے ہی تعلق رکھنے والا14 سالہ آریان ڈینگی بخارکے باعث فیصل آباد میں جان کی بازی ہارگیا،صوبہ پنجاب کے دیگرشہروں سے بھی ایسی ہی خبریں موصول ہورہی ہیں،محکمہ صحت کے مطابق سب سے زیادہ راولپنڈی میں1500سے زیادہ افراد میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہوئی جن 20کی حالت تشویشناک ہے۔
رواں برس ملک بھر میں ہزاروں افراد ڈینگی وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں جبکہ ابھی ڈینگی مچھرکے وارجاری ہیں، ڈینگی وائرس مچھروں کی ایک قسم کے ذریعہ پھیلتا ہے،بتایاجاتاہے کہ یہ استوائی خطے کا وائرس ہے اور تقریباً دنیاکے110 ممالک اس سے متاثر ہیں،خبرداررہیں ہم ڈینگی کے ریڈارپر ہیں جس کاثبوت یہ ہے کہ پاکستان ڈینگی کے شکار سرفہرست 10 ممالک میں سے ایک ہے،اس وائرس کی چار مختلف اقسام ہیں،اس کی ایک قسم سے متاثرہ مریض میں زندگی بھر کیلئے صرف اسی قسم کی وائرس کیخلاف قوت مدافعت پیداہو جاتی ہے جبکہ دیگراقسام خطرناک حدتک متاثر کرسکتی ہیں،ڈینگی وائرس سے متاثرہ مریض بخار میں مبتلاہوسکتا ہے،جسم پر دھبے نمودار ہوسکتے ہیں،دست اور قئے آسکتی ہیں،زیادہ شدید حملے کی صورت میں دانتوں،مسوڑھوں اور آنتوں وغیرہ سے خون رسنا شروع ہوسکتا ہے،ماہرین کے مطابق 80 فیصد مریضوں میں یہ علامات درمیانے درجے کی ہوتی ہیں جبکہ50 فیصد مریض شدیدمتاثرہوجاتے میں،ڈینگی مچھر انسانوں کو طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے اوقات میں زیادہ کاٹتا ہے لہٰذاکسی کاانتظارکئے بغیراحتیاطی تدابیراپنائیں،اپنے گھر،دفتر،کارخانے،فیکٹری اوردیگرمقامات پرڈینگی مچھرپیدانہ ہونے دیں۔
ذاتی مشاہدے میں دیکھ چکاہوں کہ ڈینگی مچھرزیادہ ترشہری علاقوں میں گھروں کے اندر ایسے کم روشن مقامات جن میں سرفہرست غسل خانوں جنہیں کم استعمال کیاجاتاہے سمیت ہرا±س جگہ افزائش پاتے ہیں جہاں مسلسل نمی موجودرہتی ہے،قصبوں اوردیہاتوں میں یہ مچھرکم پیداہوتاہے جبکہ لاہور کی شاہ عالم مارکیٹ،ہال روڈمارکیٹ،سول کورٹ جیسے شہری علاقوں سے راقم خودڈینگی مچھر رنگے ہاتھوں گرفتارکرچکاہے اورمزیدخبرداررہیں جہاں سورج کی روشنی نہیں پہنچتی وہاں یہ مچھرسارادن حملہ آوررہتاہے، محتاط رہیںاپنے گھر،دفتر،کارخانے،فیکٹری خاص طورپروہ مقامات جہاں خواتین دیکھ بھال نہیں کرتیں وہاں کی صفائی کاخاص خیال رکھیں،دفتر،کارخانے یافیکٹری میں کام کے دوران اس بات کاخاص خیال رکھیں کہ آپ کے ہاتھ،پاﺅں یاجسم کے کسی اورحصے پرشدیدخارش یاجلن تونہیں ہورہی،ایسی صورت میں فوراًاپنے اردگردکامکمل جائزہ لیں کہیں آپ کے دفتر،کارخانے یافیکٹری میں ڈینگی مچھرکی افزائش تونہیں ہورہی،کام کے دوران اکثرہمیں اس بات کادھیان ہی نہیں رہتاکہ ہمیں مچھرکاٹ رہے ہیں۔

تین سال قبل میرے ساتھ بھی ایساہی ہواتھا،دفترمیں پہنچتے ہی پاﺅں پرخارش اورجلن شروع ہوجاتی،پاﺅں کوٹھنڈے پانی سے دھونے پرکچھ دیرسکون ملتاپھروہی حالت ہونے لگتی،مجھے لگا جلدکی الرجی کاکوئی مسئلہ ہے،ڈاکٹرسے بات کی انہوں نے کچھ ادویات تجویزکردیں،گھرپہنچ کرادویات لے لیتاتوآرام مل جاتاجبکہ دفترمیں جاتے ہی پھرسے مسئلہ ہوناشروع ہوجاتا،ایک دن اللہ سبحان تعالیٰ نے ذہن میں یہ بات ڈالی کہ تجھے یہ مسئلہ دفترپہنچ کرشروع ہوتاہے جبکہ گھراوردیگرمقامات پرایسانہیں ہوتا،فوراًبڑی سرچ لائیٹ منگوائی،لائیٹ جلاکراپنے پاﺅں کی طرف روشنی کرکے دیکھاتومچھرڈستے ہوئے نظرآئے،ا±ن دنوں بھی ڈینگی کاسیزن چل رہا تھا لہٰذا مچھر کوپکڑکردیکھااورحیران رہ گیاکہ ا±س مچھرمیں وہ تمام علامات موجودتھیں جوڈینگی مچھرکے بارے میں بتائی جاتی ہیں،دفترکے غسل خانے کی طرف روشنی کرکے دیکھاتووہاں ڈینگی مچھروں کی بہتات نظرآئی،فوری طورپرصفائی کروائی،سپرے کروایااورآئندہ ننگے پاﺅں دفترمیں بیٹھناہی چھوڑ دیااسی طرح شاہ عالم مارکیٹ اورسول کورٹ کی عمارت میں بھی دن کے اوقات میں اس مچھرکی موجودگی دیکھ چکا ہوں۔

اپنی مددآپ جیناسیکھیں،کسی کاانتظارمت کریں،کوئی حکومت آپ کو ڈینگی مچھروں سے بچانے کیلئے عملی اقدامات نہیں کرے گی،بازارمیں دستیاب مہنگے سپرے بھی اس قابل نہیں کہ آپ کوڈینگی مچھرسے محفوظ کردیں،اپنے گھر،دفتر،کارخانے،فیکٹری اوردیگرمقامات کوصاف رکھیں اوراس بات کاخیال رکھیں کہ آپ کویہ مچھرلگاتارنہ کاٹنے پائے،ڈینگی کاسیزن چل ہے لہٰذاکسی بھی علامت کے ظاہرہونے پربلاتاخیرڈاکٹرسے رابطہ کریںتاکہ بروقت علاج ہوسکے،ڈینگی سیزن کی عادت ڈالیں اوراسے بھی سانحہ تصورکریں جس سے بچاﺅحکومت کے کسی ادارے کے بس کی بات ہے نہ ہی حکومتیں ایسے معاملات میں دلچسپی لیتی ہیں،اللہ نہ کرے جب آپ بیمارہوکراسپتال پہنچے گے تو میڈیاپرخبریںچل جائیں گی ورنہ حکومت مچھرمارسپرے نہیں کرتی نہ کرے گی،بازارمیں دستیاب مچھر مارسپرے جعلی اوربے اثرہونے کے باوجود انتہائی مہنگے ہیں توکیاہوا،میڈیابھی خاموش تماشائی کاکرداراداکرتارہے گا،آپ تسلیم کرلیں کہ ہم سانحات زدہ قوم ہیں جن میں سے سب سے عظیم سانحہ قوم کاظلم کیخلاف نہ ا±ٹھنا،مسلسل ظلم برداشت کرنااوردوسراعظیم سانحہ ہمارے بے حس حکمران ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*