محکمہ تعلیم میں کاروائیاں

محکمہ ثانوی بلوچستان میں بد عنوانی ،غیر حاضری اور خلاف ضابطہ امور میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کاروائیاں جاری ہیں اب تک 133اہلکاروں کو ملازمت سے برخاست کردیا گیا ہے برخاست کئے جانے والے اساتذہ اور نان ٹیچنک سٹاف عرصہ دراز سے غیر حاضر تھے ان میں ایسے بھی ملازمین تھے جو صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے مختلف سکولوں میں تعینات تھے بہت سے اہلکاروں کی جگہ متبادل عیوضی غیر متعلقہ افراد ڈیوٹی کرتے رہے جبکہ اصل اہلکاروں کا کوئی پتہ معلوم نہیں ا س طرح بر طرف اساتذہ اور نان ٹیچنگ سٹاف میںبہت سے سرکاری اہلکار غیر قانونی اقدامات میں ملوث ہیں ان تمام اہلکاروں کی بر طرفی تمام تر قانونی ضابطے مکمل کرتے ہوئے عمل میں لائے گئے ہیں ۔
محکمہ ثانوی تعلیم بلوچستان میں مذکورہ کاروائیاں اور اس میں ملوث اہلکاروں کی برخاستگی بلاشبہ قابل تعریف اقدام ہے کیونکہ ان لوگوں کی وجہ سے محکمہ تعلیم پسماندگی کی جانب گامزن تھا بلکہ اس سے سرکاری سکولوں کا معیار تعلیم بھی بری طرح متاثر ہورہا تھا کیونکہ یہ تمام لوگ انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کررہے تھے جوکہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے انہوں نے تعلیم جیسے اہم شعبے میں مذکورہ عمل کرکے بہت بڑا جرم کا ارتکاب کیا ہے بلکہ انہوں نے مستقبل کے معماروں کی زندگیوں سے کھیلنے کی کوشش کی ہے انہوں نے ان معماروں کا مستقبل تاریک کرنے کی مذموم کو شش کی ہے کیونکہ افسوس کی بات یہ ہے کہ اساتذہ جو بلاشبہ قابل احترام طبقہ ہے لیکن اپنی حرکتوں کی وجہ سے وہ لوگوں کی نظروں میں گر گئے ہیں با الفاظ د یگر وہ اس طرح کا عمل کرکے بد دیانتی کے مرتکب بھی ہورہے ہیں جوکہ ان کو زیب نہیں دیتا ۔
ہم سمجھتے ہیں کہ محکمہ ثانوی تعلیم بلوچستان کی مذکورہ کاروائیاں محکمے کو صحیح سمت میں لے جارہی ہے کیونکہ برطرف اساتذہ اور دیگر سٹاف اپنی ڈیوٹیاں ایمانداری سے سرانجام نہیں دے رہے تھے سب سے برا لمحہ فکریہ ہے کہ سال کے 365دن میں موسم سرما،گرما اور دیگر تعطیلات کا حساب کیا جائے تو پیچھے بہت ہی کم دن رہ جاتے ہیں جن میں اساتذہ اور دیگر سٹاف فرائض سرانجام دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود اگر وہ مذکورہ حرکتوں میں ملوث پائے جائیں تو یہ بہت ہی محیوب بات ہے ۔
اس لئے یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ ثانوی تعلیم بلوچستان کو اپنی کاروائیاں جاری رکھنی چاہئیں ایسا کرنے سے ہی محکمے میں اصلاحات آسکتی ہیں اس کو اس سلسلے میں کسی قسم کا کوئی کمپرومائز نہیں کرنا چاہےے اور اس طرح برخاست کئے گئے افراد کے ساتھ کسی بھی قسم کی کوئی رعایت نہیں ہونی چاہےے ان کا جرم بہت بڑا ہے جس کی ان کو ہر صورت سزا ملنی چاہےے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*