وزیر اعظم اقوام متحدہ میں پاکستان اور کشمیریوں کا مقدمہ پیش کرینگے،شاہ محمود قریشی

اسلام آباد(نیوز ایجنسی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ بھارت کے آئین میں ترمیم اور آرٹیکل 370 کو ختم کرنا کوئی بڑی بات نہیں ، اس وقت تک جو بھارت نے اقدامات اٹھائے ہیں وہ سب یک طرفہ ہیں،ہندوستان دنیا کو تاثر دے رہا ہے کہ یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے بھارت یک طرفہ مذاکرات سے خطے کی صورتحال غیر مستحکم ہو سکتی ہے اور انسانی حقوق کی پامالی کا خدشہ ہے، چین نے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جانے سمیت دیگر معاملات پر پاکستان کے ساتھ مکمل تعاو ن کی یقین دہانی کرائی ہے، وزیر اعظم عمران خان اقوام متحدہ میں پاکستان اور کشمیریوں کا مقدمہ پیش کرینگے ۔وہ ہفتہ کو یہاں ترجمان دفتر خارجہ کے ہمراہ اپنے دور ہ چین کے حوالے سے میڈ یا کو بریفنگ دے رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ دورہ چین بروقت اور مفید ثابت ہوا ہے۔ چینی قیادت سے تفصیلی ملاقات ہوئی ہے یہ ملاقات صدر شی پنگ کی اجازت سے بڑے کم وقت میں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ وہاں مجھے موقع ملا کہ پاکستان کا کشمیر سے متعلق نکتہ نظر چینی قیادت تک پہنچاﺅں۔ قومی سلامتی کونسل اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا بھی تذکرہ ہوا۔ تمام فیصلے ان کے سامنے رکھے ہیں۔ چینی قیادت کا نکتہ نظر پاکستان کے موقف کے عین مطابق ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ یہ پاکستان کا ہر آڑے وقت کا حامی ہے۔ چین نے ہمارے قومی ایشوز پرکسی بھی ریزولیشن کے پاکستان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ چینی قیادت کو بتایا کہ ہم مسئلہ کشمیر کو یو این سیکیورٹی کونسل میں لے جانا چاہتے ہیں جہاں ہمیں چین کی حمایت چاہیے ہو گی۔ اس پر انہوں نے پاکستان کی مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے۔ ہم نے ان کی وزارت خارجہ میں ڈی جی سطح کا فوکل پرسن نامزد کر دیا ہے جو مسئلہ کشمیر کے متعلق آپس میں مشاورت کرے گا۔ چین نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کو متنازعہ علاقہ سمجھتے ہیں اور اس کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں میں ہی ہے۔ اس وقت تک جو بھارت نے اقدامات اٹھائے ہیں وہ سب یک طرفہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت یک طرفہ مذاکرات سے خطے کی صورتحال غیر مستحکم ہو سکتی ہے اور انسانی حقوق کی پامالی کا خدشہ ہے۔ میں نے حقیقت کا رویہ اپنایا ہے۔ جمعہ کو جب کرفیو نرم کیا گیا تو احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا جس کو دبانے کے لئے بندوق کا سہارا لیا گیا جس سے کئی شہید اور زخمی ہوئے۔ کشمیر میں کمیونیکیشن کے تمام ذرائع معطل ہیں۔ وہاں ٹوٹل بلیک آﺅٹ ہے مقبوضہ کشمیر سے باہر کے لوگوں اپنے خاندانوں سے رابطے نہیں کر سکتے۔ تعلیمی ادارے بند ہیں کشمیر کے اندر اور باہر نہیں جا سکتے۔ سرکاری دفاتر میں بھی حاضری نہ ہونے کے برابر ہے۔ کل اور آج میں احتجاج کا نیا سلسلہ شروع ہوا ہے سرینگر کے علاقے مولہ اور لداخ میں بھی کرفیو کی شدید وائلیشن کی گئی ہے آج کرفیو کو چھٹا روز ہے غذائی قلت ‘ ادویات کی کمی کی بھی اطلاعات آ رہی ہیں۔ ہندوستان دنیا کو تاثر دے رہا ہے کہ یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے۔ آئین میں ترمیم اور آرٹیکل 370 کو ختم کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کی مسئلہ کشمیر کے متعلق 11 ریزولیشن ہیں لیکن بات صرف 3 پر ہوتی ہے۔ صورتحال کشیدہ ہو رہی ہے۔ کرفیو میں نرمی ہو گی تو مزید احتجاج ہونگے ہمیں خون خرابے کا خدشہ ہے۔ اقوام متحدہ میں جانے کا صرف بیان نہیں دیا ہم اس کیلئے مشاورت کر رہے ہیں۔ مسئلہ کشمیر پر بھی دیگر آپشن بھی زیر غور لا رہے ہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے یوم آزادی کو کشمیر کی یکجہتی کے طور پر منایا جائءےگا۔ پوری قوم اور سیاسی قیادت سے بھی اپیل ہے کہ مسئلہ کو اجاگر کریں اور کشمیر بنے گا پاکستا ن کی آواز ہر طرف سے آنی چاہیے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*