مقبوضہ کشمیر کا معاملہ سلامتی کونسل میں لے جانے کا اعلان

وزیرخارجہ شا محمود قریشی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جائیں گے ہندوستان کا مقبوضہ کشمیر کو اندرونی معاملہ قرار دینا غلط ہے پاکستان نے 28ممالک کو قومی سلامتی کونسل کے فیصلوں اور اپنی تشویش سے آگاہ کردیا ہے ہندوستان نے کو زیادتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے بلکہ وہاں اپنی 9لاکھ فوج بھی تعینات کر رکھی ہے اس نے پوری وادی کو جیل میں تبدیل کر دیا ہے کیونکہ وہاں ہر گھر کے سامنے ایک سپاہی کو بٹھا دیا گیا ہے لیکن ہندوستان کو اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہےے کیونکہ کشمیر کا فیصلہ عوام کی عین خواہش کے مطابق ہوگا ۔
پاکستان کا مقبوضہ کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جانے کا اعلان ایک خوش آئند اقدام ہے کیونکہ ایسا کرنا نہایت ناگزیر تھا پاکستان کو اس معاملے کو بہت پہلے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جانا چاہےے تھا اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کو ہر فورم پر اجاگر کرتا رہا ہے لیکن اتنے بڑے پلیٹ فارم پر لے جانے کا فیصلہ موجودہ حکومت نے کیا ہے جوکہ بلاشبہ اس ان کی اس مسئلہ کو حل کرنے میں خصوصی دلچسپی کا اظہار ہے کیونکہ ہندوستان نے گزشتہ 70برسوں سے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت کا جو بازار گرم کر رکھا ہے اب انتہا کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت بھی ختم کردی ہے اور اس کو مقبوضہ کشمیر کا اندرونی معاملہ قرار دیدیا جس پر پاکستان نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ہندوستان کے خلاف بڑے جرات مندانہ فیصلے کئے اور اب اس معاملے کو سلامتی کونسل میں لے جانے کا اعلان کیا جس سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ پاکستان کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑے گا اور ان کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ان کا حق خود ارادیت دلانے میں اہم کردار ادا کرے گا اس سلسلے میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مذکورہ پریس کانفرنس میں یہ واضح کردیا ہے کہ پاکستان نے 28ممالک کو اپنی تشویش سے آگاہ کردیا ہے ۔
ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا مذکورہ اقدام ضرو ر رنگ لائے گا اور اب وہ دن دور نہیں جب کشمیری آزاد زندگی گزار سکیں گے کیونکہ اب ان کا معاملہ اہم پلیٹ فارم پر اٹھا یا گیا ہے اس سلسلے میں پاکستان کو اپنی کوششوں میں مزید تیزی لانی چاہےے جوکہ نہایت ہی ضروری ہے کیونکہ کشمیریوں کا اپنی مرضی کی زندگی گزارنا ان کا بنیادی حق ہے جسے ہندوستان سمیت کوئی بھی نہیں چھین سکتا ان کا یہ حق ان کو ہر صورت میں دینا پڑے گا جب تک ہندوستان ان کو یہ حق نہیں دے گا اس کو مقبوضہ کشمیر میں ایسی ہی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس لئے یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کو خصوصی اہمیت دیتے ہوئے اسے فوری طوپر حل کرنے کے اقدامات کرے اور ہندوستان کو مقبوضہ کشمیر میں کئے جانے والے مظالم سے روکے اگر وہ اس کے احکامات پر عمل در آمد نہیں کرتا تو اس پر اقتصادی پابندیاں لگانی چاہئیں اسے اس معاملے میں جانبداری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہےے کیونکہ افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ اب تک جانبداری کا مظاہرہ کرتا رہا ہے جو اس کو زیب نہیں دیتا بلکہ یہ اس کی شان و شوکت کے خلاف اقدام ہے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*