سرخ رنگ، یوم سیاہ، تجارت اور احتجاج!!!!!!

محمد اکرم چودھری
بھارت کی طرف سے کشمیر کی حیثیت کو بدلنے پر دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ کشمیریوں کے حقوق کی آواز دنیا میں بلند ہوتی جا رہی ہے۔ ہر سطح پر بھارت کے ظالمانہ اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ وادی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر عالمی ادارے بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ کرفیو کے نفاذ، رابطوں کے تمام ذرائع معطل کرنے اور سنگینوں کے سائے میں کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی میں کشش پیدا ہوتی جا رہی ہے۔ دنیا حیران ہے کہ دہائیوں تک کشمیریوں کو دبائے رکھنے، ان پر ظلم کے پہاڑ توڑے جانے اور زندگی کو مشکل ترین بنانے کے باوجود آج بھی وادی کا ہر جوان آزادی کی تڑپ میں بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف برسرپیکار ہے۔ نہ بھارتی فوج کے پاس گولیاں ختم ہو رہی ہیں اور نہ ہی کشمیریوں کے سینے، جرات مند، غیور و بہادر و نہتے کشمیری عوام اپنے حقوق اور آزادی کی جنگ لڑتے چلے جا رہے ہیں۔ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کے غیر قانونی اقدامات کے بعد سے وادی میں نافذ کرفیو یہ بتاتا ہے کہ کشمیری عوام بھارتی حکومت کے اس اقدام کو کبھی قبول نہیں کریں گے اور ممکنہ رد عمل سے بچنے کے لیے ہی ہزاروں کی تعداد میں اضافی فوجی دستے کشمیر اتارے گئے ہیں لیکن بھارت شاید یہ بھول چکا ہے کہ تحریک آزادی میں آج تک بھارت اپنی فوج کے ذریعے آزادی کے متوالوں کی آواز نہیں دبا سکا بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں ناصرف شدت آرہی ہے بلکہ اس کے ساتھ دنیا میں بھی کشمیریوں کی حمایت بڑھ رہی ہے۔ بالخصوص سکھوں کی طرف سے کشمیریوں کی حمایت یہ ثابت کرتی ہے کہ نام نہاد جمہوریت کے علمبردار بھارت میں ہندوﺅں کے علاوہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے شہریوں سے کتنا برا سلوک کیا جاتا ہے چونکہ خالصتان کی تحریک میں جو ظلم ہندوستان کی حکومت نے سکھوں پر ڈھائے ہیں اس کے اثرات ناصرف باقی ہیں بلکہ سکھوں کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ بھارت صرف ہندوﺅں کے لیے ہے اور وہاں ان کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ عیسائی ہو یا مسلمان بھارت میں اگر کوئی ہندو مذہب سے تعلق نہیں رکھتا تو اس کے زندگی گذارنا آسان نہیں ہے۔ نریندر مودی کے حالیہ اقدامات سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ وہاں جمہوریت کے نام پر بدترین آمریت قائم ہے اور اسی جمہوریت کی آڑ میں کشمیریوں سے پوچھے بغیر ان کے مستقبل کا فیصلہ سنا دیا گیا ہے۔ کشمیریوں کی قربانیوں کی وجہ سے ان کی آواز دنیا بھر میں سنی جا رہی ہے۔ بھارت کی پارلیمنٹ میں بھی نریندر مودی کی حکومت کے اس اقدام کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پارلیمنٹ میں ہونے والی تقاریر سنیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں بھی کشمیر کو فلسطین بنانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اگر احتجاج اور تنقید کی بات کی جائے تو ٹوئٹر پر ریڈ ٹرینڈ بہت تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے اپنے ٹوئٹر ڈسپلے تصاویر کو سرخ کرتے ہوئے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیا ہے۔ یہ سرخ رنگ خون کی نشانی ہے۔اس ریڈ ٹرینڈ کا مطلب ہے کہ بھارت نے کشمیر کو خون میں نہلا دیا ہے۔ یہ ریڈ ٹرینڈ دنیا کی آنکھیں کھولنے اور عالمی اداروں کی توجہ مسلم نسل کشی کی طرف دلانے کی کوشش ہے۔ سوشل میڈیا صارفین بھارت کے اس فیصلے پر سخت الفاظ میں تنقید کر رہے ہیں۔ حکومت پاکستان بھی مسئلہ کشمیر پر اپنے دیرینہ موقف پر قائم ہے۔ عالمی شخصیات اور سربراہان مملکت سے رابطے جاری ہیں۔ چین نے پاکستان کی حمایت کا بھی اعلان کیا ہے۔ امریکہ کی طرف سے بھی کشمیر پر وضاحتی بیان جاری ہوا ہے جبکہ اقوام متحدہ نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان نے بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کرنے کے بعد 14 اگست کو اپنا یوم آزادی یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر اور پندرہ اگست کو دشمن ملک کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔بھارت کے ساتھ دوطرفہ تجارت معطل کر دی گئی ہے جبکہ سمجھوتہ اور تھر ایکسپریس کو بھی بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ حکومتی سطح پر یہ اقدامات عالمی طاقتوں کی توجہ حاصل کرنے اور مسئلہ کشمیر پر اپنا موقف واضح کرنے کی علامت ہیں۔ لیکن اس طرح کی چیزیں پہلی مرتبہ نہیں ہو رہیں ماضی میں ایسی یا اس سے ملتی جلتی پابندیوں یا معطلی کا کوئی اثر نہیں ہو سکا نہ ہی کشمیریوں کو اس سے کچھ فائدہ ہوا۔ اصل مسئلہ مذمت نہیں مرمت ہے اور جب تک مرمت کے لیے اقدامات نہیں کیے جا سکتے اس وقت یہ سب چیزیں بے معنی ہیں۔ یہ وقتی اقدامات ہیں۔قارئین کرام ایسے وقت میں جب دنیا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کر رہی ہے ہمارے سیاستدان ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کر رہے ہیں۔ پارلیمنٹ کی طرف دیکھا جائے تو سوائے مایوسی کے کچھ نظر نہیں آتا، کیا رہنما ایسے ہوتے ہیں، کیا قانون دان ایسے ہوتے ہیں، کیا ملک کو مسائل سے ایسے نکالا جاتا ہے۔ جب ہر زبان آگ برسا رہی ہو، ہر آنکھ اپنا فائدہ ڈھونڈ رہی ہو، جب ہر ذہن اپنا مستقبل محفوظ بنانے کے چکروں میں لگا ہو وہاں سے وحدت، اتحاد، یگانگت اور متفقہ بیانیہ کیسے سامنے آسکتا تھا۔ یہ پارلیمنٹیرینز مسئلہ کشمیر کا حل نکالنے جمع ہوئے تھے اور اب تک ہونے والی لڑائیاں یہ بتا رہی ہیں کہ بھارت کی ساتھ جنگ کے بجائے سیاست دانوں کو جنگ کی ضرورت ہے۔ یہ ہمارے سیاستدان دنیا کو کیا پیغام دے رہے ہیں۔ کشمیری کیا سوچیں گے۔ ان حالات میں جب قومی اتفاق رائے کی ضرورت تھی قومی عدم اتفاق کی فضا نظر آرہی ہے۔ اس بدامنی میں حکومت کی ناکامی زیادہ ہے۔ ہاو?س کو منظم اور بہترین انداز میں چلانے کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ اس کے وزرا اور اراکین بھی بے صبری اور عدم برداشت میں اتنے آگے نکل جاتے ہیں کہ اصل مسئلے سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔ ہمیں ویسے بھی اس سیشن سے کوئی اچھی امیدیں نہیں تھیں اس کی کارروائی دیکھنے کے بعد یقین پختہ ہوا ہے کہ ایوانوں میں بیٹھنے والے صرف اپنے مفادات کے سگے ہیں۔قارئین کرام دنیا بھر میں ہونے والے مظاہرے اور بھارت کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے بعد اب دیکھنا یہ ہے کہ عالمی ادارے اس اہم مسئلے پر ذمہ داری کا احساس کرتے ہیں یا پھر صرف مذمتی بیانات ہی جاری کیے جائیں گے۔ کیا ابھی وقت نہیں ا?یا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں اور دنیا کو ایک بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔ اگر دنیا نے ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا تو کسی۔بھی ناخوشگوار صورتحال کی ذمہ داری کسی ایک فریق کے بجائے تمام سٹیک ہولڈرز پر عائد ہو گی۔ اس سے پہلے کہ کوئی بہت بڑا نقصان ہو دنیا اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*